صحافی کی آواز (عمیر علی انجم )

ظلم کے ضابطے
ہم نہیں مانیں گے
وہ جوتم چاہتے ہو
جوتمھاری خواہش ہے
ناکل ہم نے مانی تھی
ناآج ہم مانیں گے
یہ جوایک سمندرہے
لوگوں کی آنکھوں میں
اس نے کب بہناہے
یہ توبس ٹھہراہے
مدتوں سے آنکھوں میں
مگریاد رہے اتنا
نئے کرداروں کاناٹک
برسوں کا پراناہے
اگرتم یہ چاہو
ہم کوڈراکے رکھو
گھرکے دیوارودرپر
خوف سجاکررکھو
ایساکیسے ممکن ہے
رات کتنی گہری ہو
وقت کے گزرنے پر
سویراہوکے رہتاہے
ہم قلم کے سپاہی
حق کی بات کرتے ہیں
حق پہ جان دھرتے ہیں
ہماری ایک ہی ہے غلطی
ہم قلم کے سپاہی
کل بھی سچ ہی لکھتےتھے
کل بھی سچ ہی لکھیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں