داغ ہجر کے سجائے ہوئے (سہیل اختر)

دل میں ان گنت داغ ہجر کے سجائے ہوئے
ہم رہے انجانے انجانی چوٹ کھائے ہوئے
قرطاس عشق کے اطوار کھل ہی جاتے ہیں
لاکھ پھرتے رہیئے ہر کسی سے چھپائے ہوئے
پاس سے جو بھی گزرا اجنبی پن میں گزرا
اگرچہ دور تک تکتے رہے اس کو جائے ہوئے
نہ الاؤ نہ کچھ گھاؤ نہ کوئی زخم اختر
اک تپش ہے ہر آن بدن کو جلائے ہوئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں