صحافی نامہ (عبدالرحمان بیگ)

پاکستان میں رواں صدی کے آغاز میں جن شعبوں نے سب سے زیادہ ترقی کی ان میں سرفہرست نہ سہی نمایاں میڈیا کا شعبہ تھا۔ پرویز مشرف کے دور میں جب ملک میں الیکٹرانک میڈیا کا آغاز ہوا تو کراچی سے کشمیر تک ’’ نومولود صحافیوں‘‘ کی نئی کھیپ میدان میں اتری۔ پہلے پہل صحافی کا لفظ سن کرذہن میں بابوں کا تصور ابھرتا تھا،، پھر رپورٹرز اور اینکرز نے تو صحافیوں کا لائف اسٹائل ہی تبدیل کرڈالا۔ بہرحال یہاں ہمارا مطمع نظر ’جدید صحافت ‘ یا الیکٹرانک میڈیا کا ارتقا بیان کرنا نہیں محض اپنے دکھڑے سنانا ہے۔
تو جناب قصہ مختصر ہوا یوں کہ اسکول کے اواخر کے زمانے یعنی میٹرک کے دنوں میں ٹی وی چینلز دیکھ کر اپنا تھوبڑا بھی ٹی وی پر لانے کی خواہش نے انگڑائی لی۔۔ تو بس پھر میڈیا میں جانے کی ٹھان لی۔ انٹرکے بعد ماس کمیونیکشن میں ایڈمیشن لیا اور بڑے فخر و رعونت سے ’چوڑے‘ ہو کر خاندان میں منہ ٹیڑھا کر کے بتاتے پھرتے تھے کہ جناب والا ’آئی ایم اسٹوڈنٹ آف میس کوم‘ (ماس کمیونیکیشن)۔ پورے خاندان میں منادی کرادی تھی کہ بس اب چند دن کی بات ہے پھر آپ کا بھائی،، آپکا بھتیجا،، آپکا بھانجا وغیرہ وغیرہ ٹی وی پر آئے گا اور چھاجائےگا۔
خیر جناب رو پیٹ کر ماسٹرز ہوا اور ایک ادارے میں نیوز ڈیسک پر ملازمت اختیار کی تو بھرم بازی بھی مزید بڑھ گئی کہ خیر ہے ٹی وی پر نہ سہی ٹی وی کے دفتر تک تو پہنچ گئے، اب ڈیسک سے اسٹوڈیو کونسا دور ہے۔ سیٹنگ بن ہی جائےگی۔ بڑی دھوم دھام سے اہل خاندان کو بتایا کہ جناب ٹی وی میں نوکری ہوگئی ہے، بس اب کچھ روز انتظار ،،پھر دیکھیں شاہکار،، کیسے میرے آن ایئر ہوتے ہی حامد میر سے کامران خان اور لیری کنگ تک منہ چھپاتے پھریں گے۔
اصل قصہ اب شروع ہوا، کہ ہم جب کہیں کسی دعوت پر جائیں، شادی کی تقریب ہو، کسی عزیز کی تدفین میں شرکت کیلئے پہنچیں،، رسم قل ہو ،، چہلم یا پھر برسی،،، ہمیں جاننے والا کوئی بھی ملے اسکی محض ایک ہی خواہش بلکہ فرمائش ہوتی کہ ’یار پریس کارڈ کی تو جگاڑ کرادے‘ جیسے ہم جیسا ٹٹ پونجیا کوئی ڈائریکٹر نیوز لگ گیا یا پرنٹنگ پریس میں بیٹھا ہے کہ جب چاہے جتنے چاہے کارڈز چھاپ دیئے۔ شروع میں تو بھرپور ٹشن میں ہم نے بھی کسی کو امید دلائی، کسی کی آس بڑھائی، کسی کے دل میں امنگ جگائی، کسی کو ٹوپی کرائی، غرض جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق سب کو راگ پاٹ شروع کردیئے، دیکھتاہوں، کرتا ہوں، بات کی ہے، پراسس میں ہے، ہورہا ہے، آج کل تھوڑی سختی ہے، لیکن ٹینشن ناٹ،، آپکا بھائی ہے ناں وغیرہ وغیرہ، مگر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی؟ آخر کار کافی سال بعد سب کو ادراک ہوہی گیا کہ ان تلوں میں تیل نہیں اور یہ اس کے بس کاروگ نہیں تو جان چھوٹی۔
جان کیا چھوٹنی تھی،، ہمارے کرائے بول بچن ہم پر ہی بھاری پڑنے لگے، اب مسجد کی میلاد ہو، محلے میں عرس ہو،، مقامی سماجی تنظیم کا سیمینار ہو یا پھر کرکٹ ٹورنامنٹ، سب کی فرمائش ہوتی کہ یار خبر تو چلوادے، اب ایک دو دفعہ یار دوستوں کی منت ترلے کر کے ملک کے مایہ ناز ’طوفان ٹائمز‘ ٹائپ اخبارات میں خبر شائع کرادی، فرمائش ہوئی میاں اخبار تو لاکر دو۔ اب وہ کوئی واشنگٹن پوسٹ تو تھا نہیں کہ جی اسٹال سے لے لیتے پھر مجبورا دوست کے دفتر کا رخ کرنا پڑتا، اور ’جرم برائے اشاعت خبر‘ کی پاداش میں نصف درجن بھر اخبارات کا بنڈل بھیجنا پڑتا، اور کچھ تو ایسے سر پھرے بھی ملے جو اس پر بھی صبر وشکر کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پبلسٹی کیلئے کٹنگ مانگتے۔
اب ایسا بھی نہیں کہ ہمیں سب کچھ کوفت میں کرنا پڑتا، کچھ کام ہم برضا و رغبت بھی کرتے کیونکہ خلق خدا کی خدمت بھی تو صحافت کا مشن ہے، ایک محترمہ نے فیس بک پر مسیج کیا کہ جامعہ کا اسائنمنٹ ہے، اخبارات میں چند مراسلے شائع کرانا ہیں، ہم نے اپنی خدمات پیش کیں، کہ جی جی ، بالکل آپ لکھیں، ایڈٹ ہم کردیں گے، رہی سہی کسر اخبار کے نیوز ایڈیٹر نکال دیں گے، اور شائع ہوجائےگا،، تھوڑا بہت میں گائیڈ بھی کردونگا۔ محترمہ کی باچھیں کھل گئیں، (میسج میں ایموجی وہی آیاتھا)۔ خیر جناب محترمہ کا مراسلہ جب پہنچا تو پہلے تو ہم انکی علمی قابلیت،صلاحیت کے معترف ہوئے اور اپنی کم عملی پر شرمندہ کہ کل کی بچی عربی،فارسی اور عبرانی پر کیا خوب عبور رکھتی ہے، (ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر کی جو تصویر ملی وہ عبرانی لگی)۔ جب ایڈٹ کرنا شروع کیا تو پسینے چھوٹ گئے، ہاتھ لرزنے لگے، سرچکرانے لگا، کاٹ چھانٹ کر تحریر شائع ہونے بھیج دی۔ جس میں انکا حصہ محض آخر میں لکھا انکا نام تھا۔ شائع ہونے کے بعد اخبار کی کٹنگ خاتون کو ارسال کردی تو پہلا جواب آیا اس اخبار میں؟ اس پر تو ہمارا بھی ضبط جواب دے گیا، فوراً ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ محترمہ پھر کیا آپ کی تحری خلیج ٹائمز میں چھپواتے یا گارجین اور پرودا کے صفحہ اول پر اسے جگہ دلواتے؟ آگے کا احوال کیا سنائیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ موصوفہ نے ہمیں بلاک ماردیا۔۔ خیر جناب بات بہت طویل ہوگئی،، صحافی کو کیا کیا پاپڑ مزید بیلنے پڑتے ہیں اس سے متعلق اگلی تحریر میں مزید روشنی ڈالیں گے۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں