شادی ہال یا میدان جنگ..

زرا کسی تقریب کے منظر پر زہن دوڑائیں.. کمال کا موقع ہوتا ہے.. سجے سنورے لوگ.. بھاگتے دوڑتے بچے… سلیقے سے ترتیب دیا گیا پنڈال.. مسکرا مسکرا کر تہذیب سے بات کرتے ہوئے لوگ… ہر شخص اپنے “خاندانی” ہونے کا ثبوت دے رہا ہوتا ہے… تصاویر میں یادگار گروپ فوٹو محفوظ کئے جارہے ہوتے ہیں.. لیکن اس کے چند لمحوں بعد ہی منظر بدل جانے والا ہوتا ہے. جیسےکسی ریوڑ کا جنگلہ کھلنے والا ہوتا ہے..
ویٹرز نے ڈشیں کھڑکائیں ..اور جیسے فائر ہوگیا..ایتھلیٹس دوڑ پڑے..ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے..ڈشز پر کئی ہاتھ بیک وقت پڑرہے ہیں..گرم گرم روغن چھلک رہا ہے..گھر میں ہل کر پانی نہ پینے والوں نے دونوں ہاتھوں میں تکوں. بریانی سالن اور روٹی کی پلیٹیں اور بوتلیں اٹھائی ہوئی ہیں..میزوں پر بیٹھے لوگ بڑی بڑی چانپوں کو بھنبھوڑ رہے ہیں.بس غرانے کی دیر ہے..
یہ جیسے ایک جنگ کا منظر ہے..اور دشمن اناج ہے…اور مال غنیمت بھی بہت ہے.گھر میں نوچ نوچ کر ہڈی کھانے والوں نے آج بڑی بڑی بوٹیاں اڑائی ہیں..لوگوں کے پیٹ اب بھرنے لگے ہیں..شادی کے ہال میں گھنٹہ بھر سے جاری طوفان اب تھم رہا ہے ویٹرز بچھا کچھا کھانا جمع کررہے ہیں..ایک گھنٹہ پہلے تک سجا سنورا نظر آنے والا ہال اب جنگ کے بعد کا منظر پیش کررہا ہے..لوگ ہاتھ اٹھائےواش بیسن ڈھونڈ رہے ہیں..کوئی شرٹ پر گرا روغن صاف کررہا ہے..مزے کی بات یہ ہے کہ اس میدان جنگ میں کشتوں کے پشتےلگانے والوں کے لبوں پر بھی ایک ہی شکایت ہے..وہ خود بھی فرما رہےہیں کہ کیسے جاہل لوگ ہیں ذرا سا بھی صبر نہیں کھانے کی تمیز نہیں..وغیرہ وغیرہ..

پاکستان میں تقاریب کے دوران اس طرح کے منظر اب عام ہوگئے ہیں..لیکن کوئی بھی ان کا حل لکالنےکا نہیں سوچتا ہے..خصوصاً شادی کی تقریبات میں جب کھانا کھلتا ہےتو مجمع جیسے صدیوں سے بھوکا ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے..گھر کے بڑے بھی نہ اس “ہلہ بول” کا حل نکالنے کا سوچتے ہیں نہ حکومت اس بارے میں کوئی قدم اٹھانا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے.
اس بارے میں صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ یہ خود احتسابی کا معاملہ ہے..کیونکہ جب کوئی بگاڑ کسی معاشرے کی عادت میں تبدیل ہو جائے تو حکومتی اقدامات بھی انتہائی ناگزیر ہوجاتےہیں..
دوستو…میں نے کئی مواقع پر اس مسئلے کا ایک حل پیش کرنے کی کوشش کی..جس سے کئیوں نے اتفاق کیا..لیکن تبدیلی کی جرات کسی نے نہ کی…میرا کہنا یہ تھا کہ اگر ایک چھوٹی جگہ میں پانچ سو افراد کو جمع کیا جائے..اور پھر انھیں کھانے کیلئے انتظار کرایا جائے..جہاں ہر شخص کھانا کھلنے کیلئے گھڑی دیکھ رہا ہو اور پھر لیٹ نائٹ کھانا کھولا جائے تو نتیجہ کیا ہوگا ؟یہ صاف ظاہر ہے..لہذا ہونا یہ چاہیئے کہ کھانا تقریب کی ابتدا سے ہی کھلا ہونا چاہیئے.. یعنی کھانا کھلا ہے جو آتا جائے وہ کھاتا جائے,جس کو تقریب سے جلدی جانا ہے وہ بھی کھانا کھا کر آرام سے رخصت ہوجائے.. یوں “مارا ماری” کی صورتحال پیدا نہیں ہوگی.اس طرح کھانا ضائع بھی کم ہوگا.جس سے اخراجات میں بھی بچت ہوگی.جبکہ تقریب کی خوبصورتی بھی قائم رہے گی..اور تہزیب بھی..
یہ اس بڑےسے مسئلے کا سادہ سا حل ہے اب کوئی مانے نہ مانے یہ اس کی مرضی.. تاہم جب صورتحال ناقابل اصلاح ہوجائے تو پھر ریاست پر بھی اس کی بہتری کے لئے سخت احکامات لانا لازمی ہوجاتا ہے….
شعیب واجد..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں