ماہی گیروں نے جال میں پھنسی ڈولفن کو سمندر میں چھوڑ دیا

کراچی:نایاب نسل کی ڈولفن بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں ماہی گیروں کے جال میں پھنسی جسے بحفاظت چھوڑ دیا گیا، یہ وہیل اور ڈولفن کی ان 26 اقسام میں سے ایک ہے جو پاکستانی پانیوں میں پائی جاتی ہیں۔ ریسو ڈولفن پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریبا تمام معتدل اور گہرے پانیوں میں پائی جاتی ہے،اس نسل کی ڈولفن 1000 فٹ تک غوطہ اور 30 منٹ تک اپنی سانس روک سکتے ہیں۔

محمد معظم خان، ٹیکنیکل ایڈوائزر(میرین فشریز)اور پاکستان وہیل اور ڈولفن سوسائٹی کے صدر کے مطابق اورماڑہ کے ماہی گیروں کی طرف سے ریسو کی ڈولفن کی رہائی ایک خوش آئند بات ہے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے زیادہ تر پھنسے ہوئے یا الجھے ہوئے ڈولفن، بشمول ریسو ڈولفن کے لیے ماہی گیروں کے تربیتی پروگرام شروع کیا ہے جہاں ماہی گیروں کو ڈولفن اور وہیل سمیت الجھے ہوئے میگا فاونا کو چھوڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ساحلی آبادیوں میں آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اب پاکستان سے ڈولفن، وہیل اور کچھووں کی محفوظ رہائی کی اکثر رپورٹس آتی رہتی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی پانیوں میں(وہیل، ڈالفن اور پورپوز)کی کل 26 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں تین بیلین وہیل، 22 دانت والی وہیل اور ڈولفن اور ایک پورپوز شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ماہی گیروں نے جال میں پھنسی ڈولفن کو سمندر میں چھوڑ دیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں