یہ کیا جگہے ہے؟ (شعیب واجد)

سنو بھیا..ایوان چاہے کوئی سا بھی ہو، اس کی اصل شکل اس میں موجود بندے بناتے ہیں۔ موجودہ ایوان صدر کی ہی مثال لے لیجئے۔۔وہاں آج کل ایک معصوم،نیکوکار اور بے ضرر شخصیت قیام پذیرہیں۔۔یہ مزاق نہیں سچ ہے، آج جب اس ایوان صدر کا تصور کیا جائے تو ایک “روحانی” سا احساس ہونے لگتا ہے۔یہ سارا اس ایوان میں موجود شخصیت کا اعجاز ہے۔۔
چلیں تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔ضیا دور کی بات ہوجائے۔۔ضیاالحق کے دورمیں ایوان صدر نانا جی کے حجرے جیسا تھا،جہاں ننگے پیرگزرنے پر بھی سزا کا خدشہ ہوتا تھا۔مصلہ اور ڈنڈا دونوں موجود ہوتے تھے۔اس دور کے ایوان صدر کوایسا قلعہ بھی کہا جاسکتا ہے۔جس پرمسجد کے مینارلگادیئے گئے ہوں۔۔

پھرغلام اسحاق خان کا دور آیا تو ایوان صدر ایک سیکریٹریٹ کی شکل اختیار کرگیا۔۔وہاں سیاسی مانیٹرنگ بھی ہوتی اور بیورو کریسی کی بیٹھک بھی لگتی۔۔اس دور کے ایوان صدر کو ایوان ٹیکنو کریسی بھی کہا جاسکتا ہے۔۔

اور پھر ایک دور ایسا آیا، جب فاروق لغاری صدر بنے، تو ایوان صدر میں گندم کے خوشوں اور چاول کی مہک بھی محسوس کی گئی۔کبھی وہاں سیاسی پنچایت لگتی۔تو کبھی احتسابی نشست ، اس دور کے ایوان صدرکو “اپنے” برا اور “غیر” اچھا کہتے ہیں۔۔

اور پھر ایوان صدر میں خاموشی کا راج ہوگیا۔۔رفیق تارڑ صدر بن کر براجمان ہوچکے تھے۔۔اس دور کا ایوان صدر، وزیراعظم ہائوس بھی کہلاتا تھا۔۔

دس سال قبل اس ایوان میں ایک فوجی صدر پرویزمشرف ہوتے تھے،ان کے دور میں ایوان صدر کی شکل بالکل ہی مختلف تھی،ایوان صدربیک وقت جی ایچ کیو اور دفترخارجہ بھی تھا۔اور سیاسی ایوان اورایوان صنعت و تجارت بھی۔۔اس ایوان کے قریب سے گزرنے والوں کو اکثر کسی قلعے کا احساس بھی ہوتا تھا۔۔

مشرف کے بعد اصف زرداری ایوان صدر میں براجمان ہوئے تو اس کی حیئت بالکل بدل گئی۔اب ایوان صدر میں سیاستدانوں کی ریل پیل رہتی۔۔سرمایہ دار بھی یہاں حاضری لگاتے۔دوستوں کی بیٹھکیں بھی لگتیں۔اس دور میں ایوان صدر کی عمارت کو ایک نیا بلاول ہاوس بھی کہا جاسکتا تھا۔

ایوان صدر میں فی الحال خاموشی کا راج چل رہا ہے۔۔اس ایوان کو انتطار ہے کہ یہاں کوئی “صدر مملکت” بھی براجمان ہوجائے۔۔

خدایا اس در کو معتبر کردے
اس مکاں کو ایوان صدر کردے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں