شہبازشریف کی رہائی، ڈیل یا ڈھیل؟

تقریباً وہی ہوا ہے جس کا اندازہ لگایا جارہا تھا۔مسلم لیگ نواز کے سربراہ شہباز شریف کی رہائی عمل میں آگئی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں فوراً رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
اس سے قبل نوازشریف کو علاج کی غرض سے کئی روز اسپتال میں رکھا گیا تھا، جس سے ان چہ مگوئیوں نے سر اٹھایا تھا کہ آیا اسپتال میں کوئی ڈیل چل رہی ہے۔ اور نواز شریف پر سختی کسی قدر کم کی جارہی ہے۔جسے کچھ تجزئیہ نگاروں نے ڈھیل کا نام بھی دیا تھا۔
دو روز قبل حمزہ شہباز کے دورہ لندن میں بچے کے علاج کی بنا پردورے میں دوہفتے کی توسیع بھی عمل میں آئی تھی اورعدالت نے انہیں چودہ روز کا حاضری سے استثنیٰ بھی دیا تھا۔
لیکن آج اس سلسلے کی سب سے اہم ترین پیش رفت ہوئی ہے۔ اہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر مل کیس میں ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر مل کیس میں اور فواد حسن فواد کی صرف آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں ضمانت منظور کر لی۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو نیب میں صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا لیکن جب وہ بیان ریکارڈ کرانے پہنچے تو انہیں آشیانہ اسکیم کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
نون لیگ اس پیش رفت کو اپنی سیاسی فتح قرار دے رہی ہے۔جبکہ حکومت اسے عدلیہ پر عدم دباؤ سے تعبیر کررہی ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پر بدعنوانی کے الزامات ذیادہ تر سیاسی ہیں۔کیونکہ ان کے دور میں پنجاب میں تیزرفتار ترقی کا عمل جاری تھا،جس کے دوران تھوڑی بہت اونچ نیچ کاہوجانا عین ممکن ہے۔
حکومت کو بھی شایدان کیسز کی کمزوریوں کا اندازہ تھا۔ایسے میں کیا حکومت نے کسی حکمت عملی پرعمل کیا ہے؟ اور کیا شریف فیملی کو مستقبل میں مزید کوئی رعایت حاصل ہوسکتی ہے؟ ڈھیل کا یہ سلسلہ قدرتی ہے یا کوئی منصوبہ ؟یہ جلد سامنے آنے والا ہے۔
(شعیب واجد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں