میوزک بینڈ کیوں؟۔

تحریر: ندا اسلام۔

اللہ نے ہمیں اقوام عالم کی تاریخ کا علم دیا تا کہ ہم اس راہ عمل کو اختیار کرنے سے باز آجائیں جس نے عالیشان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا. ہم جنس پرستی وہ جرم ہے جو چوری چھپے ہر دور میں ہوا ہے مگر آج “بحیرہ مردار” سے مجرم ایک بار پھر غضب الہی کو چیلنج کر رہے ہیں.

جانتے ہیں آپ.. شوہر اور بیوی کے متعلق نازیبا لطیفے یا پٹھان،سکھ ،پاکستانی یا مسلمان کا مضحکہ اڑانے والے لطائف سمجھدار گھرانوں میں کیوں اچھے نہیں سمجھے جاتے؟ اس لئے کہ ہم زوجین کا رشتہ مقدس سمجھتے ہیں، ہم نادانستگی میں چند ایک جگہ ہر ہونے والے خراب رویوں کو نارملائز کرنے کی کوشش کر ریے ہوتے ہیں اگر ایسے لطائف کو پھیلانے میں حصہ لیتے ہیں، ہم تفرقے کو ہوادینے والوں میں شامل ہوتے ہیں اگر کسی قوم کو نشانے پر رکھتے ہیں.

شریف گھرانوں میں باپ، بھائی بازاری باتوں اور سڑکوں پر ہونے والے نازیبا واقعات و مسائل کو گھروں میں آ کر تبصروں کا موضوع نہیں بناتے لیکن ہم نے عجیب بے غیرت حکمرانوں کو اقتدار کی کرسی پر لا بٹھایا ہے جو قوم لوط سے مجرموں کو کھلی چھٹی دیتے ہیں… کیا ہمارے اندر لوط علیہ السلام کی راہ پر چلنے والا کوئی حکمران اور رہنماء نہیں رہ گیا جو اپنی بیٹیوں کی، اپنے گھر کی رکھوالی کر سکے؟ حیرت ہے حکمران اس میوزیکل بینڈ(جو امریکہ نے بھیجا ہے ہم جنس پرستوں ہر مشتمل) کو اسلامی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اپنے فن کی نمائش کی اجازت دے رہا یے جس کے ہر ممبر کی ایسی اعلانیہ گفتگو یا جملے ریکارڈ پر موجود ہیں جس میں وہ Lgbt کو نارملائز بنا کر پیش کر رہے ہیں یا ہومو سیکسوئل کو نارملائز کر رہے ہیں…

کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پہلے اپنی خوراک کا ہمیں عادی بنایا ہے جس میں حرام اجزاء کی ملاوٹ یقینی ہے…سیدھی سی بات ہے کہ گائے، بکری کا ذبیحہ کھانے والی قوم کے پاس حلال جانوروں کی باقیات (بشمول چربی) وافر ہوں گی اور وہ اپنی مصنوعات میں یہی استعمال کریں گی اور سور کھانے والی قوم اپنی مصنوعات میں بھی حرام جانوروں کی باقیات استعمال کرے گی…

اور جب غیرت کا جنازہ نکل گیا تو میوزیکل بینڈ بھیجا گیا. یہ ایسے ہی ہے کہ والدین استاد کی بدکرداری سے علم رکھنے کے باوجود اسے اپنی نوخیز کلیوں کا ٹیوٹر رکھ لیں…

آپ کی درسگاہوں میں قوم لوط کے نمائندوں کو کھلی چھٹی دے دی گئ ہے… دیکھئے کتنی درسگاہوں کی انتظامیہ مضبوط مؤقف اپناتی ہے اور کتنے والدین “بحیرہ مردار” کی داستان سے عبرت پکڑتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں