420

میں آزاد ہوں (کاشف خان )

کچھ عرصہ قبل میں نماز مغرب کے بعد حسب معمول ائیرپورٹ کے قریب جاگنگ کرتا تھا ۔ یہ ائیرپورٹ سے منسلک وہ شاہراہ ہے جو ٹینک موڑ سے ملیر کینٹ چیک پوسٹ 4 کی طرف جارہی ہے ۔ سڑک کے ساتھ منسلک ایک جاگنگ ٹریک بنا ہوا ہے جہاں اکثر صبح وشام بزرگ ،نوجوان، مرد اور خواتین والک کرنے اور جسمانی ورزش کی غرض سے آتے ہیں ۔
میں بھی اکثر اوقات یہاں جسمانی ورزش کی غرض سے آتا ہوں ۔
ایک دن میں معمول سے ہٹ کر آذان مغرب سے کچھ پہلے آگیا جاگنگ ٹریک کے ساتھ دیوار کے ساتھ میں نے دیکھا ایک افغانی باشندہ زمین پر پڑے ہوئے پھلوں کو چن کر تھیلے میں ڈال رہا ہے ۔ یہ پھل کوئی پھل فروش پھل خراب ہونے کی وجہ سے یہاں پھینک گیا تھا ۔ یہ کچھ گلے سڑے موسمبی (Orange) اور کچھ سیب تھے جنہیں افغانی باشندہ چھری سے گلے ہوئے حصّے کو پھل سے الگ کر کے وہیں پھینک دیتا تھا اور پھل کا باقی کا حصّہ جو صحیح ہوتا تھا اسکو وہ اپنے تھیلے (shopping bag) میں ڈال لیتا تھا ۔ اس مشق کے دوران بیچ بیچ میں وہ کچھ پھل خود بھی کھاتا جارہا تھا اور اپنی بھوک پیاس مٹا رہا تھا ۔
یہ سب دیکھ کر میری آنکھیں نم ہوگئیں اور قرآن کی وہ آیت یاد آگئی۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
ترجمہ :- پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

اس آیت سے آپ میری بات کا مطلب یقیناً سمجھ گئے ہونگے ۔

یہ غریب افغانی باشندہ شاید اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے ان گلے سڑے پھلوں کو سمیٹ کر گھر لیجا رہا تھا ۔ جو ہم کبھی گھر میں پالنے والے جانوروں کو بھی کھانے کے لئے نا ڈالیں ۔
میں نے اپنے موبائل کیمرہ سے اس منظر کو محفوظ کرلیا تھا یہ سوچ کر کہ اس تصویر کو کسی رسالہ یا اخبار کی زینت بناؤں گا اور صحافتی شعبے میں اس غریب کی مفلسی کو پیش کر کے داد وصول کرونگا اور اخباروں اور سوشل میڈیا پر لکھا آئیگا

مجھے یہ سوچ کر اپنے آپ سے شرم آگئی کہ غریب یہ نہیں، غریب تو میں ہوں ۔ یہ مجھے اپنی فوٹو دئیے جارہا ہے اور میں اسے کچھ نہ دےسکا ۔یہ سوچ کر آنکھوں کے اندر تیرنے والے آنسو باہر امڈ آئے اور کلیجہ ایسا ہوگیا جیسے کسی نے چھری سے کاٹ کر رکھ دیا ہو اور میں نے اس تصویر کو اپنے موبائل سے ڈیلیٹ کردیا ۔

یہ بات تو انسان کی بھوک اور پیاس مٹانے کی تھی جسکے لئے ہر انسان بھاگ دوڑ میں ہے ۔ مگر حال ہی میں ایک نئی خبر نے دل کے ٹکڑے کر کے رکھ دئیے۔

(خبر)
شہر قائد میں سردی کے سبب بچوں کے گرم کپڑوں کی فرمائش باپ کے لیے موت کی وجہ بن گئی۔
مفلس باپ نے بچوں کی فرمائش پوری نہ کرنے پر مایوس ہوکر خودکشی کرلی۔

یہ خبر نہیں ہم کھاتے پیتے لوگوں کے منہ پرطمانچہ تھا ۔
ہمارے معاشرے میں ایسی خبریں تو بہت سنی گئی ہونگی کہ بھوک اور مفلسی سے تنگ آکر فلاں شخص نے خود کشی کرلی ۔ فلاں خاتون نے اپنے بچوں کو بھوکا دیکھ کر اپنے آپ کو پھندا لگا لیا ۔
مگر ایسی خبر جہاں کھانا پینا تو دور کی بات ایک باپ اپنے بچوں کو سردی سے بچاؤ کے لئے کپڑے نہ دلانے پر انکو سردی سے ٹھٹرتا دیکھ کر برداشت نہ کرسکا اور دلبرداشتہ ہوکر قریبی قبرستان میں خود کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔ خودکشی کی کوشش کرنے والا کورنگی ابراہیم حیدری کا رہائشی 35 سالہ میر حسن دوران علاج زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔
اہلخانہ کے مطابق میر حسن سے بچوں نے سردی سے بچنے کے لیئے گرم کپڑوں کی فرمائش کی جو وہ پوری نہ کرسکا اور دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کی۔
میر حسن نے مرنے سے قبل ایک نوٹ لکھا جس میں وزیر اعظم سے اپیل کی کہ اہل خانہ کو گھر اور روزگار فراہم کیا جائے۔
میر حسن کی معصومیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپیل بھی کہاں اور کس سے کر کے گیا ہے ۔

مختصر یہ کہ ہم صاحب حیثیت لوگوں کو اگر ہفتے میں نہیں تو مہینے میں کسی غریب پرور فیملی کے گھر تھوڑا بہت وہ کھانا جو ہم خود کھاتے ہیں یا وہ کپڑے جو ہم اپنے پہننے کے قابل نہیں سمجھتے اپنے ارد گرد میں ایسے لوگوں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھ کر انکی مدد کردیں تو شاید آپ کے کھانا دینے سے کسی کی بھوک بھی مٹ جائیگی اور آپ کے کپڑے دینے سے کسی کا بدن بھی چھپ جائےگا ۔
بےشک رزق دینے والی زات اللّه کی ہے مگر ذریعہ اگر ہم بن جائیں تو ہمارے دل کو اطمینان بھی آجائے اور یقیناً ہمارا اللّه بھی ہم سے خوش ہوجائے۔

میر حسن تو زمانے کی ٹھوکریں اور مفلسی کی زندگی سے تنگ آکر اپنی زمےداریوں سے جان چھڑاکر زندگی کی آخری سانسیں لیتے ہوئے یہ کہہ کر اس دنیا سے رخصت ہوگیا کہ اب

۔۔۔۔۔۔۔ میں آزاد ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں