نواز شریف کا دھماکہ (معصوم رضوی)

موجودہ سیاسی تناظر میں نواز شریف کا بیان کسی خوفناک دھماکے سے کم نہیں ہے، سیاست کے میدان میں چالیس سال تجربے اور تین بار وزیر اعظم رہنے والے کسی شخص سے ایسے غیر محتاط بیان کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ بھارتی میڈیا نے جس طرح اس بیان کو ممبئی حملوں کے اعتراف کے تناظر میں استعمال کیا ہے اس سے پاکستان کو دنیا بھر میں نہ صرف سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑیگا بلکہ دشمنوں کی جانب سے دہشتگردوں کی حمایت کو ناقابل بیان تقویت ملے گی۔ آج یہ بیان بھارتی میڈیا کی زینت ہے اور اب ہفتے بھر دنیا بھر کی خبروں کی زینت بنا رہے گا۔ کاش نواز شریف کا یہ بیان جھوٹا نکلے مگر امکان کم ہے کیونکہ اس انٹرویو کو پاکستانی اخبار نے شائع کیا اور بھارتی میڈیا نے پوری قوت کیساتھ استعمال کیا۔ کیا نواز شریف اس انٹرویو کی تردید جاری کرینگے؟ کیا بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چھاپے گیا؟ اگر ایسا نہیں ہے تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت اس معاملے پر نواز شریف کا دفاع کس طرح کریگی۔
مسلم لیگ ن اور نواز شریف ویسے ہی مشکل میں ہیں، اس نوعیت کا بیان نہ صرف انکی مشکلات میں اضافے کو باعث بنے گا بلکہ عوام میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت کو بھی بری طرح متاثر کریگا۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ نواز شریف نے یہ بیان کیوں دیا اور اگر دینا ہی تھا تو اسوقت کیوں نہیں دیا جب وہ وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان تھے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں جب نواز شریف بمع خاندان کرپشن کے خاصے سنگین الزامات کی زد میں ہیں، سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے کی شکایت کر رہے ہیں، مختلف اداروں پر اس حوالے سے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں تو کیا اس صورتحال میں ان پر سنگین غداری کے الزامات نہیں لگیں گے، پاکستانی عوام انکے بیان کو کس تناظر میں دیکھیں گے کیا انہیں اس بارے میں کوئی شبہ ہے۔ اگرچہ یہ بھی درست ہے سابق ڈی آئی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ بھی سالوں پہلے اپنے مضمون میں کہہ چکے ہیں کہ اجمل قصاب اور ساتھیوں کی ٹریننگ پاکستان میں ہوئی، حملہ آور فشنگ ٹرالر اور پھر چھوٹی جاپانی کشتی میں ممبئی کے ساحل تک پہنچے، یہ بازگشت ہمیں دیگر ذرائع سے بھی پہچتی رہی مگر نواز شریف جیسی شخصیت کی جانب سے اس قسم کا ہولناک بیان بھارت کو وہ تمام مواقعے فراہم کر دیگا جس کی عرصے سے تلاش ہے۔ چلیں ایک لمحے کو فرض کر لیتے ہیں کہ نواز شریف اور انکا خاندان کرپشن سے پاک ہے اور یہ بھی سچ مان لیتے ہیں کہ اداروں کی سازشوں کے باعث انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا، مگر اس کے باوجود کیا اس طرح کے بیان کا کوئی جواز ہے، اداروں کو چھوڑیں کیا یہ بیان ریاست کے خلاف نہیں؟ پاکستان کی سیاست میں شاید ہی کوئی بڑا سیاستداں ایسا ہو جس پر غداری کے الزامات نہ لگے ہوں مگر اسے صرف سیاسی الزام کے طور پر لیا جاتا تھا، مگرآج صورتحال مختلف ہے۔
بخدا میں یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوں کہ جب بھی بھارت میں کوئی واردات ہوتی ہے تو فوری الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔ اجمل قصاب سے جدوجہد کشمیر کی پیچھے بھارت کو پاکستان کا ہاتھ نظر آتا ہے مگر جب پاکستان کلبھوشن یادیو کو پکڑتا ہے، بھارتی حساس اداروں کے سربراہ بلوچستان میں مداخلت کا برملا اعتراف کرتے ہیں، نریندر مودی بنگلہ دیش بنانے کو بھارت کا اعزاز گردانتے ہیں تو پاکستان ایسے معاملے کا فائدہ کیوں نہیں اٹھا پاتا۔ کلبھوشن پکڑا گیا تھا تو ثبوت و شواہد کا ایسا طوفان اٹھا تھا کہ الامان الحفیظ، اقوام متحدہ کو ڈوزیر بھی فراہم کیا گیا، مگر پاکستان کو اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کیا دنیا ہم پر اعتبار نہیں کرتی یا ہماری کاوشوں میں کوئی کمی ہے۔ خارجہ پالیسی نام کی کوئی چیز پاکستان میں پائی جاتی ہے، کیا ہم اس قابل بھی نہیں کہ عالمی برادری کے سامنے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے سنگین معاملے کو پیش کر سکیں۔ کیا ہم میں یہ صلاحیت بھی موجود نہیں کہ مسلم امہ کے سامنے مسئلہ کشمیر کو اٹھا سکیں، کیا ہمارے سیاستدانوں اور اداروں کو سیاسی دیمک چاٹ چکی ہے یا وہ مطلوبہ صلاحیتوں کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ بھارتی آرمی چیف کشمیر میں ہلاکتوں کو جائز قرار دیتے ہوئے اسی روش کو جاری رکھنے کا اعلان کرتا ہے اور ہم صرف ایک روایتی مذمت کر پاتے ہیں۔ دنیا تو دور کی بات ہے اب تو مسلم ممالک بھی ہمارا اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایسا اسلئے ہے کہ عرصہ دراز سے ہماری کوئی خارجہ پالیسی موجود ہی نہیں ہے، ماضی قریب میں گزشتہ چار سال تو وزیر اعظم نواز شریف خود وزیر خارجہ بھی رہے اور کہیں بھی پاکستان کا موقف پیش کرنے میں ناکام رہے، اسکے بعد خواجہ آصف کو وزیر خآرجہ بنایا گیا وہ بھی اقامہ نشین نکلے اور فارغ ہوئے۔ بعض عہدوں کیلئے سیاستدان ہونے کے علاوہ دیگر صلاحتیں بھی لازمی ہوتی ہیں مگر سیاسی بندر بانٹ میں اس اہم امر کو ضروری نہیں جانا جاتا۔ ایسا ہی کچھ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی رہا، سو آج دنیا میں پاکستان کی کوئی وقعت و حیثیت نہیں بلکہ ناکام ریاست کا الزام لگیا جاتا ہے۔ حضور یہ باتیں تلخ تو ہیں مگر اگر اب بھی اس بارے میں نہ سوچا گیا تو شاید یہ وقت پھر کبھی نہیں آئیگا۔ دنیا بہت تیزی کیساتھ آگے بڑھ رہی ہے، ہم سیاسی دشمنیوں میں ریاست کو پیچھے دھکیل رہے ہیں، پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے اختیارات کی جنگ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں عوام اور ریاست کے حقوق غصب کرتے جا رہے ہیں، ایسا کب تک چلیگا شاید ہم میں سی کسی کو بھی پتہ نہیں ہے۔
پارلیمنٹ، فوج، عدلیہ اور دیگر مقتدر قوتوں کو یہ ضرور سمجھنا چاہیئے کہ یہ طمطراق، عزت اور وقار صرف اور صرف مملکت خداداد کی بدولت ہے جس کے مالک بائیس کروڑ عوام ہیں۔ مستقل میں معاشی اور سیاسی لحاظ سے کمزور ممالک کی کوئی جگہ نہیں، بحران زدہ ممالک کے مفلوج وجود دنیا کی تیز رفتاری کی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ جس ملک نے ستر سال آمریت اور جمہوریت کے درمیان گزارے ہوں وہاں آج بھی عوام بجلی، پانی، صحت، تعلیم اور انصاف سے محروم ہوں، تو سوال کس سے کیا جائے، ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟ ایک بار پھر عوام کو عام انتخابات کو موقعہ مل رہا ہے۔ قائد اعظم نے ملک عوامی قوت کے بل بوتے پر حاصل کیا تھا، عوام کو اپنی طاقت پہچاننی ہو گی، سیاستدانوں کو گالیاں اور کوسنے دینے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، ووٹ کی طاقت کو پہچانیں، فیصلہ عوام نے کرنا ہے، ماضی میں جو ہوا سو ہوا مگر مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں