ڈرنا منع ہے (ممتاز رضوی)

عالمی وبا کے آگے کسی مرض کی دال نہیں گل رہی ۔ ان دنوں کورونا کے آگے ایڈز یا کینسر کی بھی کوئی اوقات نہیں ۔ ماہرین ساری تحقیق پرے کرکے صرف اس درد کی دوا ایجاد کرنے کے چکر میں ہیں۔ اس دوران ایک نعرہ باربار سماعتوں سے ٹکرا رہا ہے ۔ “کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے ” بالکل انگریزی کہاوت کی طرح کہ
Fear is not a solution
and surrender can never be an option
یاد رہے کہ لڑنے کیلئے طاقت،حکمت عملی اور ہوشیاری جیسے ہتھیاروں سے مسلح ہونا ناگزیر ہے ۔ ان کے بغیر آپکی بہادری محض بے وقوفی ثابت ہوگی۔
خیر موضوع پر واپس آتے ہیں ۔ بات ہو رہی تھی ڈرنے اور لڑنے کی ۔ اردگرد نظر دوڑائیں تو کم از کم ڈر تو دور دور تک دکھائی نہیں دیتا ۔ گھروں میں بھی لوگ خوف سے نہیں مجبوری سے بیٹھے ہیں۔ آج لاک ڈاؤن ختم کریں سڑکیں اور بازار بھر جائیں گے ۔باوجود اس کے خاموش قاتل فضاؤں میں آزادانہ منڈلا رہا ہو ۔ کورونا کا موضوع چھیڑیں تو ارسطوؤں اور حکیم لقمانوں کی لائن لگ جائے گی ۔ ایسی ایسی منطق اور طریقہ علاج سننے کو ملیں گے کہ آپ تنگ اور عقل دنگ رہ جائے گی ۔ کوئی کہے گا کورونا حکومت اور این جی آوز کیلئے مال بنانے کا بہانہ ہے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی ان دیکھی بلا یورپ اور امریکا میں کیا قیامت ڈھا رہی ہے ۔ ٹرمپ کا یہ حال ہے کہ وہ ایک لاکھ ہلاکتوں پر صبر شکر کرنے کو تیار ہے ۔ ہم بضد ہیں کہ کورونا اسلام اور پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف سازش ہے ۔ خیر یہ دشمن کی یہ چال گذشتہ جمعے مساجد بھر کر ناکام بنادی ۔ گلی محلوں کی مساجد میں مغرب عشاء کے اجتماعات بھی معمول کے مطابق ہورہے ہیں۔ کرکٹ میچز ، چبوتروں کی بیٹھک بھی جاری و ساری ہے ۔ کسی کو خبردار کریں تو آپکا وہ مذاق بنے گا کہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر بھاگیں گے ۔تشویشناک صورتحال پر معاشرہ افسوسناک بے حسی کا شکار ہے ۔ ایسے میں ڈرنا نہیں لڑنا ہے کہ نعرہ اتنا ہی مضحکہ خیز لگتا ہے جیسے روٹی کپڑا اور مکان۔ اس وقت ملک میں کتنے لوگ متاثر ہیں،کتنے اگلے جہان کوچ کرگئے نہ حکومت جانتی ہے نہ عوام کو معلوم ہے ۔ بےخبری کے عالم یہ خوفی اور وائرس کا طریقہ واردات کسی بڑے سانحے کی راہ ہموار کررہا ہے ۔یہ وہی قوم ہے جس کیلئے میڈیا کو خون کے داغ چھپانے کی سختی سے تاکید کی جاتی ہے۔ خلاف ورزی پر جرمانہ کے ساتھ سرزنش بھی ہوتی ہے ۔ حیرت ہوتی ہے جب یہی قوم کورونا سے تڑپتے اور دم توڑتے افراد کو مزے لے لے کر سوشل میڈیا پر خود بھی دیکھتی ہے اور دوسروں کو بھی دکھاتی ہے ۔ کیپشن کے ساتھ بتایا جاتا کہ مرنے والے کو کس طرح بے گوروکفن دفنایا گیا۔ ۔ مگر مجال ہے جو کوئی اذیت پکڑے یا عبرت حاصل کرے ۔ ۔سب کچھ ایک فلمی سین سمجھ کر فراموش کردیا ۔ اب نئی فلم کا انتظار ہے ۔ ویڈیوز اگر یہ سوچ کر دیکھی جائیں کہ کل کویہ وقت ہم پر یا ہمارے کسی پیارے پر بھی آسکتا ہے تو ممکن ہے صورتحال مختلف ہو ۔ کیونکہ قدم قدم پر ایک کھائی ہے جو دکھائی نہیں دیتی ۔ صرف عقل کی آنکھیں ہی مصیبت ٹال سکتی ہیں ۔۔قبل اس کے پانی سر سے گزر جائے ،ہوش کے ناخن لیں ۔زندہ بچے تو ہینگ آؤٹس،پارٹیوں،سنگت اور مذہبی اجتماعات کیلئے عمر پڑی ہے ۔جو چل بسے تو سلام آخر کی نوبت بھی نہیں آنی ۔ یہ غالباً واحد مسئلہ ہے جس پر حکومت کوئی کردار ادا نہیں کرسکتی ۔ ضبط نفس کا یہ مظاہرہ ہمیں خود کرنا پڑے گا ۔ بے شک کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے ۔ مگر لڑنے کے بھی طور طریقے ہوتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں