بینظیر بھٹو ایک انمول موتی (سکینہ غفور سولنگی)

زندگی میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی آئیڈیل ضرور ہوتا ہے، اس آئیڈیل کا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی اور کسی بھی طقبے سے ہو سکتا ہے، کوئی اپنا آئیڈیل تعلیم کے میدان میں تلاش کرتا ہے تو کوئی کھیل کے میدان میں، کسی کو سیاحت میں گراں قدر لگاٶ ہوتا ہے تو کسی کا آئیڈیل ہوتا ہے سیاست کے میدان کا کوئی کھلاڑی، ہم یہاں ان کا ذکر کر رہے ہیں جنہوں نے زندگی بھر ملکی ترقی، عوام کی خوشحالی، انسانی حقوق، جمہوریت کی بحالی اور خطے میں قیام امن کیلئے طویل اور انتھک جدوجہد کی جن کی تمام عمر عوام کی ترجمانی میں گزری، جہنوں نے عوام کی خاطر اپنی جان تک کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا، جی ہاں ہم ذکر کر رہے ہیں ایک باوقار شخصیت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا۔۔!! جن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔۔
بینظیر بھٹو کے ارادے ہمالیہ سے بھی بلند، بہادری اپنی مثال آپ، ان کی شخصیت اور زندگی سے عوام ہمیشہ بے حد متاثر ہوئے، وہ بینظیر جو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی خواتین کیلئے مشعل راہ ہیں، انہوں نے زندگی بھر خواتین کیلئے راستے روشن کئے تاکہ ان کی محنت اور جان پر ان کا اختیار ہو، مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم نے مردوں کے زیر تسلط نظامِ حکومت میں خواتین کے حقوق کیلئے ایک تاریخی جدوجہد کی اور اس امر کو یقینی بنایا کہ وہ اپنے ساتھ دیگر تمام خواتین کو بھی آگے لائیں، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں خواتین کسانوں کو زمینیں دلوائیں اور خواتین محنت کشوں کیلئے یکساں اجرت کے قانون کا نفاذ یقینی بنایا، ان کے بیشتر اقدامات سے آج بھی پاکستان کی خواتین استفادہ حاصل کر رہی ہیں، انہوں نے اپنے والد محترم اور پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری، عدالتی قتل کا غم، مارشل لاء، قید و بند کی صعوبتیں اور جلاوطنی کی اذیتیں بڑی دلیری سے برداشت کیں لیکن کسی بھی موڑ پہ ہمت نہیں ہاری۔
بلاشبہ بی بی شہید بینظیر بھٹو عالمی سطح کی لیڈر تھیں، خداداد صلاحیتوں کی مالک تھیں، ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں، ملک میں آج بھی بینظیر کے قد کا کوئی سیاسی لیڈر موجود نہیں، بے نظیر بھٹو کی دونوں حکومتیں سازش کا شکار ہوئیں، بدقسمتی سے عوام کی منتخب وزیراعظم کو دونوں بار ہی پارلیمانی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، اگر وہ ایک بار بھی پارلیمانی مدت پوری کر پاتیں تو شاید آج پاکستان مسائل کا گڑھ نہ بنتا، بینظیر بھٹو کو قائدانہ صلاحیت اور ولولہ انگیز شخصیت کی بدولت دنیا بھر میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی لیکن مفاد پرست سیاست دانوں، سازشی عناصر اور سامراجی طاقتوں کو بینظیر بھٹو کی یہ زبردست عوامی مقبولیت ایک آنکھ بھی نہ بھائی، بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاسی زندگی گزاری بڑی بہادری سے گزاری-
بینظیر بھٹو نے سامراجی قوتوں، آمروں اور ان کے چاپلوسوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارا اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام کے حقوق کی خاطر صاحب اقتدار اور بادشاہ گروں کو ہر میدان میں شکست سے دو چار کیا، انہوں نے ناصرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح اپنی غیر معمولی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سنہرا باب ہے، جس پر قوم کو آج بھی ناز ہے-
بی بی شہید بینظیر بھٹو ایک عظیم لیڈر ہونے کیساتھ ایک اچھی بیوی اور ایک عظیم ماں بھی تھی، انہوں نے بے انتہا مصروفیات کے باوجود اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی اور آج بی بی شہید کے بچے بختاور بھٹو، آصفہ بھٹو اور بلاول بھٹو اپنی ماں کی طرح مضبوط اور بردبار ہیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں