میرے وطن کی صحافت کا حال مت پوچھو (معصوم رضوی)

جب سے سپریم کورٹ نے صحافت کا نوٹس لیا ہے تمام صحافی مشکوک اور معتوب بن چکے ہیں۔ ایک محفل میں گفتگو کے دوران جب انکشاف ہوا کہ میرا تعلق صحافت سے ہے تو پہلے تو میز پر بیٹھے اصحاب نے چونک کر دیکھا اور اس کے بعد وہی حالت ہوئی جو رضیہ کی ہوا کرتی ہے، اگر آپ کو رضیہ کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔

نشتروں کے زخم ہرے تھے کہ دوسرے ہی روز علامہ گوگل وارد ہوئے، میڈیا پر برہم، آتے ہی کہنے لگے بھئی تم صحافی بھی بادشاہ لوگ ہو اور بادشاہ بھی نیرو جیسے، اپنی بانسری، اپنی دھن، اپنی راگنی، بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ علامہ کی خدمت میں چائے پیش کرتے ہوئے معذرت چاہی اور عرض کیا کہ میرا خیال ہے آپ کا اشارہ کرنٹ افیئر کی جانب ہے، طنزیہ ہنسی کیساتھ بولے چلیں تو حالات حاضرہ پر بات کرنے سے پہلے نیوز کی بات کر لیتے ہیں۔ بھیا مجال ہے کہ پورے خبر نامے میں ایک بھی خبر شامل ہو، اشتہارات سے کچھ وقت بچ رہے تو گانوں کا تڑکہ، ایڈیٹنگ کے کمالات، نیوز کاسٹرز کی اٹکھیلیاں، زبان و بیان گولائیاں، کچھ وقت بچ رہے تو بریکنگ نیوز کی انگڑائیاں تک دیکھنی پڑتی ہیں، بلکہ بسا اوقات تو شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ غلطی سے انٹرٹینمنٹ چینل تو نہیں لگ گیا۔ آنکھیں پھوٹ جائیں کہ ایک گھنٹے میں ایک خبر ڈھنگ سے دکھائی جائے، یار ایک اور بات بھی آج بتا ہی ڈالو کیا پورے پاکستان میں کہیں کوئی اچھی خبر نہیں ہوتی، مار دھاڑ، اغوا زیادتی، ہڑتال، دھمکیاں، بیان بازی، سیاسی شعبدہ گری، ایجنڈے کی جادوگری، اس کے سوا کچھ تو اچھا ہوتا ہو گا؟

حملہ کچھ ایسا زوردار تھا کہ سوچا بلاوجہ ٹوکا، عرض کیا حضور کیا آپکو ڈاکٹر صاحب پر غصہ ہے تو کہنے لگے بھائی ایک ڈاکٹر کی بات کیا کروں، یہاں تو ہومیوپیتھک، حکمت، سنیاسی، روحانی و دہقانی تمام معالج بمعہ آلات جراحت موجود ہیں، پہلے رات آٹھ بجے اور دس بجے قیامت آیا کرتی تھی، مگر اب تو معاملہ شام سات سے شروع ہو کر رات ایک تک پہنچ گیا ہے۔ تجزیات کے نام پر خدشات، امکانات، خواہشات کا ایسا وحشتاک امتزاج پیش کیا جاتا ہے کہ ذھن سائیں سائیں کرنے لگتا ہے۔ یقین جانیں بندہ بشر بھولے سے نیوز چینل لگا لے تو رات خواب میں بھی ڈرائونا خبرنامہ چلتا ہے، ارے بھیا اب تو بلڈ پریشر کے مریض کو ڈاکٹر دوا نہیں دیتے صرف مشورہ دیتے ہیں کہ نیوز چینلز دیکھنا بند کردیں۔ میں نے عرض کیا حضور ایسی بھی بات نہیں، ہاں چند اینکرز ایسے ہیں جملہ کاٹ کر چلا اٹھے چند،،،، یار کچھ تو خدا کا خوف کریں۔ میں نے شرمندگی چھپاتے ہوئے کہا دیکھیں میڈیا اگر سچ سامنے لائے تو برا کیا ہے؟ کہنے لگے مجھے کوئی اعتراض نہیں اگر آپ سچ کی جگہ اپنا سچ کے الفاظ استعمال کریں، بھیا خواہش کو خبر بنانے میں چکر میں ہر کوئی اپنا پنا جادو دکھا رہا، جناب من یورپ اور امریکہ میں بھی میڈیا ایجنڈے پر چلتا ہے مگر مادر پدر آزادی کی اجازت وہاں صرف خواتین کو ہے۔ ارے بھئی وہ ہیں ناں آپکے نوم چومسکی کیا خوب کہا ہے انہوں نے

The prime responsibility of media is to gather the audience for advertisers

یعنی میڈیا کی سب سے بڑی ذمہ داری اشتہارات کیلئے ناظرین جمع کرنا ہے، مگر پھر بھی وہاں کچھ لحاظ، مروت، اخلاقیات، پابندیاں، ذمہ داری ہوتی ہے۔ خبر غلط ہو جائے تو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ یہاں تو کوئی تصور نہیں کر سکتا میڈیا سے ٹکر لینے کا، کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟ میں عرض کیا غلط تو نہیں ہے مگر کچھ تو اچھا یہاں بھی ہے۔ کہنے لگے ہے کیوں نہیں، سنا ہے اینکرز اور ذاتی جہاز رکھتے ہیں بلکہ ان میں سے تو بیشتر تو اعزازی صحافی ہیں، پھر عظیم الشان محلات، لمبی گاڑیاں، شاہانہ طرز رہائش، حضور مانا تنخواہیں تگڑی ہیں مگر یہ تو بل گیٹس اور زکربرگ کو مات دے رہے ہیں۔ انکم ٹیکس، نیب کی مجال ہے کہ سوال پوچھے؟ کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ کون معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں،،، سرد آہ بھر کر بولے بھئی کیا صحافت تھی، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خان کے ہم پیشہ کہاں کھو گئے، کیسے کیسے دلیر صحافی ہوا کرتے تھے، ڈان کے الطاف حسین، نثار عثمانی، ضمیر نیازی اور وہ اپنے چٹان جیسے شورش کاشمیری، دیکھیئے شورش جیسا عظیم دانشور، شاعر، مقرر اور نابغہ روزگار صحافی کیا کہتا ہے

ہم اہل قلم کیا ہیں؟

الفاظ کا جھگڑا ہیں، بے جوڑ سراپا ہیں

بجتا ہو ڈنکا ہیں، ہر دیگ کا چمچا ہیں

ہم اہل قلم کیا ہیں؟

مشہور صحافی ہیں، عنوان معافی ہیں

شاہانہ قصیدوں کے، بے ربط قوافی ہیں

ہم اہل قلم کیا ہیں؟

تابع ہیں وزیروں کے، خادم ہیں امیروں کے

قاتل ہیں اسیروں کے، دشمن ہیں فقیروں کے

ہم اہل قلم کیا ہیں؟

اس سے پہلے کہ پوری نظم سناتے میں نے کہا علامہ کیا آج ہی پورا ذلیل کر کے رہو گے، زوردار قہقہہ مارا بھیا اب عزت اور ذلت نہیں اب تو دولت اور شہرت کا سکہ چلتا ہے۔ پھر خود ہی کہنے لگے یار اخبارات تو موجود تھے مگر ٹیلیوژن ایک آمر ایوب لایا، سرکاری ٹی وی نے صدر اور ترقی کی دن رات کوریج دی مگر جاتے کو نہ بچا سکا، ضیاالحق آئے میڈیا نے دامے درمے سخنے آمریت کو خوش آمدید کہا، پورا میڈیا مشرف بہ اسلام ہوا، اخبارات میں مذھبی صفحات اور صحافی بڑھے، ڈرامے تک تصوف و معرفت کے رنگ میں رنگے، آج وہی صحافی ضیاالحق کو دانت پیس پیس کر کوستے ہیں۔ جمہوری دور آیا تھوڑی آزادی ملی، پھر اسی میڈیا نے ایک اور آمر مشرف صاحب کا بھی دھوم دھڑکے سے استقبال کیا ملک دوبارہ روشن خیال بنا۔ مشرف تھے تو کچھ وکھرے ٹائپ کے، جانے کیا سوجھی پرائیوٹ چینلز کھول ڈالے۔ پہلے پہل تو نیوز چینلز غیر ممالک کی دیکھا دیکھی صحافت کرتے رہے مگر مزہ نہیں آیا پھر سارا میڈیا چپلیں ہاتھ میں لیکر ریٹنگ کی دوڑ میں ایسا بگٹٹ بھاگا کہ بیچارا یوسین بولٹ بھی منہ دیکھتا رہ گیا۔

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا معاملہ آیا تو عدالت اور صحافت نے ایسی مشترکہ مہم چلائی کہ خود کو ریاست کے چار ستونوں میں شمار کروا کر چھوڑا۔ میں نے کہا بات تو درست ہے عدلیہ اور میڈیا کو طاقت اسی وقت سے ملی ہے، ورنہ بیچارے کسی شمار قطار میں نہ تھے۔ زیر لب مسکرا کر بولے خیر اب تو شمار میں ہیں اور قطار میں آنے کا وقت بھی آیا چاہتا ہے، میڈیا کا کام احتساب، مگر اب اسکے احتساب ہوا چاہتا ہے۔ معاملات عدالت تک پہنچ چکے ہیں، لگتا ہے چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں والا معاملہ ہو گا۔ میں نے جواب دیا معاملہ خطرناک تو لگتا ہے تو اٹھتے ہوئے بولے حضور ساتھ ہی شرمناک بھی کہیئے، جانے کیوں پھر شورش کی یاد آ گئی، انکی روح سے دست بستہ معذرت کے ساتھ

میرے وطن کی صحافت کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں