صحافت بنی خوشامد اور تجارت (محمد راشد)

کتابوں میں پڑھتے تھے کہ صحا فی معاشرے کی آنکھ اورکان ہوتاہے یعنی کہ
صحافی معاشرے میں پیش آنےوالے واقعات اوررونما ہونیوالی تبدیلیوں
کواپنے مثبت اندازسے دیکھنےاورسننے کے بعد دیگرلوگوں تک پہنچا تا ہے۔ لوگ
صحافی کی زبانی اس کی آنکھوں دیکھا حا ل جانتے ہیں۔ فی زما نہ یہ بات کہاں تک درست ہے اس کا اندازہ لگانا شا ید مشکل نہیں،کیونکہ اگرہم میڈیا( مفاد پرست اداروں اور اس میں کام کر نے والےزیادہ ترمفادپرست صحا فیوں )کی
ترجیحات کا موازنہ کریں تو بخوبی اندازہ ہوجا ئے گا کہ ان کا کام صرف اور
صرف پیسہ کمانا یا پھربا اثر شخصیات کی خوشامد کرنا ہوتا ہے۔ ایسے مفاد
پرست صحافی نہ صرف اپنے پیشےکوبدنام کرتے ہیں بلکہ معاشرے کی عکاسی
کرنے والےاس پیشے کو دھندلا کررہے ہوتےہیں۔جس کے سبب معاشرے
کےعکاس(صحافت) کا یہ دھندلاپن آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھو بیٹھتا ہے۔ اگرمیں
غلط نہیں توآج کی صحافتی زندگی میں بالکل ایسا ہی ہورہا ہے۔ صحا فتی زندگی
میں۔(یہاں میری مرادایسےایماندارصحافی بالکل نہیں، جنہیں معاشرے کی صحیح
عکاسی کرنے کی پاداش میں چکنہ چورکردیا گیا ہو)۔ کس صحا فی نے معاشرے
کی بہتری کےلئے اپنا کلیدی کرداراداکیا ہوگا۔ یہ بات آج کا صحا فی اورصحافی
برادری بہترجا نتی ہے۔ لیکن میں ایک طالبعلم کی حیثیت سےاتنا جانتا ہوں کہ
اگرصحا فت کے پیشے سے منسلک افراد صحیح طرح معا شرے کی عکاسی
کرتے تو یقینا معا شرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرنےوالی برائیاں ختم
نہیں،توایک حد تک کم ضرورہوجا تی۔ لیکن!اگرصحا فت کا صحیح استعمال کیا
جاتا تو ہی ایسا ممکن ہوتا۔
یہاں یہ بات بھی قابل غوراور باعث افسوس ہے کہ آج کا صحا فی تو بےچا رہ
لسانی،سیاسی اورمختلف نظریات کی بنا پرصحافت کررہا ہےجوکہ صحا فت
کےنام پرمنافقت لگتی ہے۔ یہ صحا فت کا تواصول نہیں، البتہ اپنے ہم خیال
گروپ،ہم نظریہ جماعت یا پھراپنے ذاتی اور ناجا ئزمفاد کےحصول کی
خاطر بے چارہ نہیں،بلکہ معا شرے کےعکاس پر کالک ملنے والا
منافق صحافی(صحافت کے لفظ کےساتھ منافق لکھنےپرمعذرت خواہ ہوں)۔ صحا
فت کے پیشے پر ضرب لگا رہا ہے اور اس ضرب کے نتیجے میں قتل سچے
صحا فی اور صحافت کے پیشے کا ہورہا ہے۔
صحافت کے پیشے سے وابستہ افراد سے درخوا ست ہے کہ خدارا،اپنی ذمہ
داریوں سے نظرچرانے اوراس سے دستبردارہوکرمن پسند شخصیا ت کی
مرضی پرصحا فت کرنےسے گریزکریں اورمعاشرے کےعکاس سمجھے جانے
والے(صحافی) پہلے خوداپنی ذات اورسوچ کی بہترعکا سی کو ممکن بنائیں تو
زیادہ بہتر ہوگا۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہوکہ معا شرے کاعکاس سمجھا جانے
والا(صحافی) اپنی ہی عکس بندی کے قابل نہ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں