یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے ..شعیب واجد

جینے کے لئے سانس لینا پڑے
پیٹ کو روٹی بھی دینا پڑے
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے

ہر رات جس میں سونا پڑے
صبح پھر اٹھ کھڑے ہونا پڑے
جسم کو پانی سے دھونا پڑے
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے

جینے کے لئے کام کرنا پڑے
کام کیلئے کچھ پڑھنا پڑے
اپنے حق کیلئے پھر لڑنا پڑے
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے

درد ملے تو پھر رونا پڑے
پانے کیلئے کچھ کھونا پڑے
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے

نفرت بھی کسی سے کرنا پڑے
دم بھی کسی کا بھرنا پڑے
کبھی جھوٹے منہ بھی ہنسنا پڑے
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے

کبھی اپنے دل کی بھی سننا پڑے
چاہت میں کسی کی کھونا پڑے
رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا پڑے
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے

ممی ڈیڈی کی منزل کوچھونا پڑے
منا منی کی خاطر پھر جینا پڑے
جب عمر ہو تمام تو پھر مرنا پڑے
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں