عورت کے ساتھ یہ سلوک کیوں؟ (پرھ اعجاز میمن. کراچی)

آج اِک طویل عرصے بعد زمانے کے کبھی نہ بدلتے ہوئے حالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیئے اپنے خیالات کو قلم بند کررہی ہوں ۔
ہمیشہ کی طرح آج بھی خواتین اور اُن کے مسائل کی ایک اَن گنت فہرست ہمارے سامنے ہے ،جس کا انداز ہ ہر آئے د ن رونما ہونے والے تمام حالات و واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ آج بھی ہمارا معاشرہ عورت ذات کو ایک بیکار وجود کی مانند سمجھتا ہے،یہی وجہ ہے کہ جب سے انسان نے شعور کی دہلیز پر قدم رکھا ہے ،عورت کو بے بس اور لاچار ہی پایا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اسلامی اعتبار سے عورت کو جو درجہ حاصل ہے وہ اِس معاشرے میں کبھی حاصل نہیں ہوا۔اسلام میں قرآن و سنت کے مطابق جو مقام عورت کو دیا گیا وہ محض لفظی نہیں بلکہ ایک عورت کو تمام رشتوں میں برتر ی حاصل ہے ۔ ایک عورت ماں بھی ہے،بیٹی بھی ہے ، بہن ہے تو بیوی بھی ہے۔ غرض یہ کہ ایک عورت ہی ہے جو ہر رشتہ بخوبی نبھاتی ہے ۔ اپنی خواہشات کو دفن کرکے بھی وہ اپنے تمام اہل و عیال کو سنبھالتی ہے۔
لیکن بڑے ہی تعجب کی بات ہے کہ دنیانے و قت کے ساتھ ساتھ خوب ترقی کر لی مگر کوئی بھی معاشرہ ایک عورت کو اُس کا وہ حقیقی مقام نہیں دے سکا جو ہر عورت کا حق ہے،بلکہ آج بھی معاشرے میں عورت ذات کی تذلیل کی جاتی ہی۔یہ حال محض ہمارے ملک کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے ، ہر ملک کی خواتین آج بھی ظلم و تشدد کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔ ایسے معاشرے میں عورت کا مرتبہ کیسے بلند ہو سکتا ہے جس میں مردوں کی لڑائی میں گالیاں ماں بہن کی دی جاتی ہوں۔ خیر یہ بہت ہی شرمناک بات ہے کہ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں اور برائے نام مسلمان ملک کے رہنے والے ہیں جہاں ہمارے معاشرے کا یہ حال ہے کہ ہم اپنی ہی عورتوں کی عزت نہیں کرسکتے ۔
اگر ہمارے ملک و معاشرے کا اب یہ حال ہے تو آنے والے وقت میں کیسا ہوگا اِ س کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

ہر انسان کی ذندگی کے کئی پہلو ہیں لیکن عورت کی ذندگی کے ہر پہلو کے ساتھ کئی آزمائشیں بھی ہیں ۔ ایک عورت ہر رشتے میں ذندگی کے ہر موڑ پر نئی آزمائشوں کا سامنا کرتی آئی ہے ، چاہے وہ عورت ایک ماں ہو، بیٹی ہو یا بہن اور بیوی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عورت کو اِ ن تمام رشتوں میں تحفظ حاصل ہے ؟ کیا ایک عورت اپنی کوئی ذاتی حیثیت رکھتی ہے ؟ میرے مشاہدے اور میری ذندگی سے جڑے تمام تجربات نے مجھے اِن سوالات کا جواب “نہیں ” میں دیا ۔ میں نے عورت ذات کو اِن تمام رشتوں میں صرف اذیت برداشت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اِ س معاشرے میں حق کے لیئے اُٹھنے والی آوازوں کو دباتے ہوئے دیکھا ہے ۔ہر آئے دن عورتوں پر ظلم و تشدد کے ایسے کئی واقعات ہماری آنکھوں کی نذر ہوتے ہیں، کبھی کسی گھر کی عورت ماں کے روپ میں تشدد کا نشانہ بنتی ہے ، تو کبھی بہن ،بیٹی یا بیوی کے روپ میں ایسی کئی بے گناہ خواتین بے جا ظلم سہہ کر رہ جاتی ہیں لیکن وہ معصوم اپنے حق کے لیئے آواز نہیں اُٹھا سکتیں۔ نہ جانے ہر روز کتنی معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں، جس کا ثبوت ہمارا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا ہے۔ہر روز ہماری صبح کا آغاز اخبارات میں شائع ہوئے ایسے واقعات سے ہوتا ہے ۔
بے شک زمانہ جہالت سے لے کر آج تک بہت کچھ بدلا ، سائنس نے ترقی کی، علم کی نئی راہیں کُھلیں ، لوگوں میں وقت کے ساتھ شعور پیدا ہوا ، تعلیم کا رجحان پیداہوا، دنیا بدلی ، رہن سہن ، جدید لائف اسٹائل غرض کہ سب کچھ بدل گیا لیکن اگر نہیں بدلا تو وہ ہے لوگوں کی چھوٹی سوچ جس کے باعث آج بھی عورت غیر محفوظ ہے۔

اسلام میں عورت کو ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کے حقوق دئے گئے ہیں ۔ اللہ پاک نے قرآن وحدیث میں عورت کی اہمیت کو بہت واضح طور پر بیان کیا ہے اوراس کا علم و شعور ہمارے معاشرے کے ہر انسان کو ہے خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ ۔لیکن اُس کے با وجود آج کل عورت کی ذات کو گالیوں میں بھی ایک فیشن کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔ خواہ باتیں چاہے مردوں کی لڑائی کی ہو یا اُن کے آ پسی مذاق کی ،عورت کی ذات کا ہی بڑے فخریہ انداز میں تماشا بنایا جاتا ہے۔ ایسے تمام مرد حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی تمام تر لڑائیوں میں مردانگی اور اپنی طاقت کا ثبوت دیتے ہیں، پھر چاہے وہ لڑائی مردوں کی ہو یا اُن کے اپنے ہی شریکِ حیات سے۔
بلکل اِسی طرح جو مرد حضرات عورت ذات کا مذاحیہ باتوں میں گالی گلوچ کرکے مذاق بناتے ہیں ، بہت ہی فخریہ انداز میں مکروہ ہنسی کے ساتھ یہ فعل سر انجام دیتے ہیں۔اور ایسا کرنے سے وہ خود کو بہت ہی قابل اور پڑھا لکھا جدید طرزِ ذندگی گزارنے والا انسان سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت اِ س کے بر عکس ہے کیوں کہ وہ تمام مرد حضرات یہ نہیں جانتے کہ ایسے افعال سے اُن کی اپنی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔ میرے نزدیک ایسے مرد کسی کی عزت نہیں کرسکتے کیوں کہ جس انسان میں نہ اپنے گھر کی عزتوں کا احساس ہو نہ کسی اور کے گھر
کی عزتوں کا تو وہ انسان کبھی بھی کسی کے ساتھ بھلا نہیں کرسکتا ۔
یہ بحیثیت مسلمان بہت ہی شرمناک بات ہے کہ ہم آج ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں عورت ذات غیر محفوظ ہے ۔ مجھے بہت افسوس ہے کہ ہم ایسی جگہ ہیں جہاں کوئی اتحاد نہیں ۔ ہمارا ملک ، ہمارا معاشرے کے لوگ آج بھی فرقہ بندی ، مذہبی تعصب ، ایک دوسرے کے لیئے دلوں میں بغض ،حسد اور نفرت کے سوا کچھ نہیں رکھتے۔آج کل رشتوں میں عزت واحترام ،خلوص ، اپناپن ختم ہوتاجارہا ہے کیوں کہ زمانے کے رنگ بدلتے جارہے ہیں اور لوگ رشتوں کی نوعیت سمجھنے سے قاصر ہیں ،جس کے باعث معاشرہ پستی میں جارہا ہے اور نشانہ بن رہی ہیں آ ج کل کی خواتین جن کو مردحضرات نے لاچار و بے بس، بے کار ،بے سہارا اور کمزور سمجھ کر اپنی فرسودہ سوچ کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ لیکن ایسے مرد یہ نہیں جانتے کہ جب ایک عورت ہمت کرے تو باقی سب خواتین اُس کے ساتھ ہم آواز ہوکر مردوں کی بنیاد ہلا سکتی ہیں۔
اِس میں قصور اِ س سوسائٹی میں دب کر رہنے کا ہے جو خواتین کو مجبور کردیتی ہیں ظلم و تشدد سہنے کے لیئے ، کیوں کہ دورِ جہالت سے لے کر آج تک ہر عورت کو مرد کےآگے دب کر رہنے کی تر بیت دے کر پابند کردیا جاتا ہے ،خواہ ایک عورت پڑھی لکھی ہو یا اُن پڑھ ،آج تک مرد کی بے جا ناانصافیوں اور ظلم کا شکار رہی ہے۔ اور بہت ہی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ تا ریخ سے لے کر دورِ حاضر تک بھی یہی حال ہے ۔بے شک وقت کی کروٹ کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلیاں آئیں لیکن انسان کوانسان نہیں بنا سکیں ۔ بلکہ پہلے کی بنسبت رشتوں میں جو کچھ مان ہوتا تھا اب وہ بھی نہیں رہا ،کیوں کہ اب محض رشتوں میں مطلب و مفادات اور عورت کے لیئے ذلت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ میرے نزدیک آج کا دور حیوانیت کا دور ہے اور آنے والا دور شائد اِس سے بھی بُرا ہو۔ ماضی سے لے کر آج تک ہر جنریشن نے اپنی مثالیں آپ قائم کی ہیں تو میر ی پیشن گوئی بھی کچھ اِسی بنیاد پر ہے۔

ہمیشہ سے دیکھتے ، پڑھتے اور سُنتے آئے ہیں کہ ہمارے ملک میں آج بھی کچھ مخلص تنظیمیں خواتین کے حقوق اور اُ ن کے تمام مسائل پر کام کررہی ہیں ، لیکن حقیقت اِ س کے متضاد ہے ۔ میں اِ س کی وضاحت ہر گز نہیں کرنا چاہونگی ،نہ تاریخ سے حال تک کے ورق پلٹاوں گی کیوں کہ میرے نزدیک ہم تمام انسانوں کو وقت نے اتنی توعلم کی آگہی سے متعارف کروا دیا ہے کہ اپنے مطالعے و مشاہدے کو استعمال کرتے ہوئے اِن اندرونی حقیقتوں کو سمجھ سکیں جو بظاہر بیاں نہیں کی جاسکتی ۔ اگر میں غلط نہیں ،تو یہ کہنا بھی ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ کچھ حقیقتوں کو سامنے لانے میں بھی بات آجاتی ہے حقائق اور اُن کے لیئے اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی ۔ اِس لیئے تمام بحث کو سمیٹتےہوئے اتناکہنا چاہوں گی کہ آج بھی اگر ایک عورت اپنے حقوق کے لیئے آواز اُٹھائے اور معاشرے کا ہر فرد اُس کی ایک مضبوط پُشت بن کر ہم آواز ہو ں اور اتحادقائم کریں ، نیز یہ کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں عورت کی عزت ہو اور ذندگی کے ہر رشتے میں اُ سکی اپنی حیثیت ہو، خواتین کو تحفظ فراہم کیا جائے ، تو یقیناًخواتین کو نہ صرف اُن کے حقوق مل سکیں گے بلکہ ہر عورت معاشرے میں خود مختار ہوکر اور سر اُٹھا کر جی سکے گی۔ کیوں کہ ایک مکمل معاشرے کی تکمیل میں عورت اور مرد برابر کے شریک ہیں جہاں دونوں ہی اپنی اہمیت کے حامل ہیں لیکن ایسا ممکن اُسی صورت میں ہو سکتا ہے جب مردوں کی موجودہ ذہنیت کا خاتمہ ہو اور وہ عورت کو اُس کا حقیقی مقام دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں