صحافت کیا ہے! ( کامران مغل)

ہم اگر اپنی روز مرہ کی زندگی پر نظرڈالیں تو محسوس ہوگا کہ ایک دوسرے سے بات چیت کیے بغیر ہماری زندگی کا کوئی کاروبار نہیں چل سکتا۔ اپنے خیالات اور احساسات کو دوسروں تک پہنچانے کے عمل کو ابلاغ کہتے ہیں۔صحافت کو سچ کا وسیلہ تسلیم کیاجاتا ہے۔ہمارے اردگرد جو کچھ پیش،رونما ہو رہا ہے اسے حرف و لفظ کی صورت میں پیش کرنا،اس کے اسباب اور محرکات کا تعین کرنا اور یوں تہذیب ذہن کی سبیل کرنا صحافت کے زمرے میں آتا ہے۔انگریزی زبان میں صحافت کو ’کمیونی کیشن‘ کہا جاتا ہے۔کمیونس کے معنی ہے ہم آہنگی پیدا کرنا۔صحافت کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جنتی انسان کی ہے۔پچاس ہزار سال پہلے کی صحافت اور آج کی صحافت میں بہت فرق ہے۔آج ہم جدید ترین صحافت کے دور سے گزر رہے ہیں۔
پچاس سال قبل انسان کے پاس زبان نہیں تھی وہ غاروں میں زندگی گزارتے تھے اور اشاروں ، درختوں،دیواروں، پروندوں کے پروں،پتھروں اور زمین پر نقش اور تصویریں بنا کرایک دوسرے کو آگاہ کرتے تھے۔ ہڑپہ،موہنجوداڑو،دریائے نیل،بابل اور قرون وسطی سے ملنے والی تہذیبوں سے پتہ چلتا ہے کہ انسان نے آج تک کتنی ترقی کی ہے۔۔آج اگر ہم صدیوں کی تحقیق اور اجتماعی انسانی شعور سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوئے ہیں تو یہ سب کچھ انسانی کے ابلاغ کی صلاحیت ہی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
امریکی صحافی والٹرلپمین کا کہنا ہے کہ ہرانسان کے ذہن میں خیالات تصویروں کی شکل میں موجود ہوتے ہیں اور جب ایک شخص کے ذہن کی کوئی تصویر دوسرے شخص کے ذہن کی تصویر سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے تو ابلاغ کا عمل مکمل ہوجاتا ہے۔
اردو صحافت ایک بڑے مشن اور مقصد کے تحت وجود میں آئی ،اس کی بنیاد میں ایثار وقربانی،محنت و مشقت،جاں سوزی اصول،اخلاقیات اور مقصدیت کی جواینٹیں رکھی گئی تھیں وہ آج بھی قائم ہیں۔۔
آج کے دور میں صحافت باقاعدہ پیشہ بن چکی ہے۔ صحافی اور ادیب کی زبان میں فرق ہوتا ہے ۔ صحافی آسان الفاظ میں اپنی بات،خبر،اطلاع کوآگے پہنچاتا ہے تاکہ اس کی بات کو ان پڑھ سے لے کرپڑھے لکھے سب سمجھ جائیں۔ صحافی اچھا انشاء پرداز بھی ہوتا ہے۔ کیوں کہ الفاظ سے درست منظر کشی کی بدولت ہی لوگوں کو رہنمائی ملتی ہے۔
اگرچہ پاکستان میں صحافت آج ارتقاء کی بہت سی منزلیں طے کرکے کافی آگے نکل چکی ہے لیکن اس کے باوجود دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے معیارتک نہیں پہنچ سکی۔۔ روزنامے عالمی معیار کے نہیں نکل رہے اور نہ ہی صحافت اپنے معیار کو پہنچی ہے۔۔ اس کے باوجود صحافت فنی اور تجارتی لحاظ سے ترقی کر رہی ہے۔۔ زبان انسانوں میں رابطہ پیدا کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے خواہ یہ رابطہ تحریری ہو یا گفتگو کے ذریعے سے ’زبان کا موزوں استعمال موثر ابلاغ کے لیے ضروری ہے‘۔ ناقص زبان سے انسان کے احساسات،تصویرات اور جذبات مجروح ہوتے ہیں۔۔
ضروری ہے کہ تحریر یا گفتگو سادہ او ر آسان ہو، بہت زیادہ علامتی زبان استعمال نہ کی جائے ۔ عام آدمی کے ذہنی پس منظر کو مدنظر رکھاجائے۔۔ محاورے اور استعارے عام فہم ہوں۔۔ تحریر یا گفتگو میں غیرجانبداری واضح نظر آنی چاہیے۔۔ذومعنی اور فحش زبان سے اعتراز کرنا چاہیے۔صحافی ہمیشہ دوسروں کے لیے لکھتا ہے جبکہ ادیب صرف’اہل ذوق‘کے لیے لکھتا ہے۔ عوام کو اطلاعات بہم پہنچانے اور رائے
صحافت اور آزادی صحافت دونوں لازم ومظلوم ہیں۔آج کل صحافت کو ’میڈیا‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔ میڈیا (Media) انگریزی زبان کا لاطینی لفظ ہے جو میڈیم (Medium)کی جمع ہے۔جو ذریعے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ۔موجودہ دور ماس کمیونیکیشن کے حوالے سے زیادہ مقبول ہے۔ یعنی اظہار ایک ذریعے کتابوں ،رسالوں ،جریدوں اور اخبارات کے ذریعے معلومات فراہم کی جاتی تھیں ۔ پھر ریڈیو،ٹیلی ویژن ،واٹس ایپ ،فیس بک ،ٹوئیٹر، انسٹا گرام ذریعہ بن چکا ہے۔
آزادی صحافت کا یہ مطلب نہیں کہ صحافی اپنی آزادی پر بغلیں بجا تے پھرے ۔یہ جانتے بھوجتے بھی کہ ہر شخص کی آزادی وہا ں ختم ہوجاتی ہے جہاں دوسرے کی آزادی شروع ہوتی ہے ۔ہر کوئی اپنے خیالات کا حق اور آزادی رکھتا ہے مگر ہر معاشرے میں کچھ حدود مقرر ہوتی ہیں جن کو یا د کرنا جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔۔صحافی تنقید برائے اصلاح کرتا ہے ۔ صحافت یہ نہیں جو اپنے دیکھا سوچا یا سونگھا یا کوئی اطلاع ملی اسے اسی انداز میں آگے بڑھا دی بلکہ خبر ٓگے بڑھانے کا فیصلہ میرٹ پر کرنا ہی صحافت ہے
ایک فقہی بزرگ شاید امام شافعی کے حوالے سے واقعہ ہے کہ ایک روز کسی شخص نے آکر خبردی کہ فلاں جگہ فلاں شخص نے آپ کو گالی دی ۔حضرت نے برہم ہوکر جواب دیا اس نے خنجر ہوا میں اچھالا تھا تو نے اس کو میرے سینے میں گھونپ دیا۔ ۔
یہ صحافت کے ضمرے میں نہیں آتے۔صحافت توایک مقدس پیشہ ہے۔اس سے ہزاروں لوگوں کی توقع وابستہ ہوتی ہیں ۔ آیئے ہم سب مل کر اپنی صحافت کی داغ بیل رکھیں جس سے بنی انسان کی ترجمانی ہو۔صحافت کو سچ کا وسیلہ تسلیم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں