انصاف دو (عثمان وارثی)

جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تب ہم کچھ ہی دیر میں اس کی حقیقت جان جاتے ہیں مگر صرف مشہور ہو جانے والے سانحے پر مطالبہ کرتے ہیں کہ “ہمیں انصاف چاہیے”
میڈیا اور سوشل میڈیا پر مظلوم کا مذاق اور تماشا بناکر، انہیں اور ان کے خاندان کو رسوا کر کےکس سے انصاف مانگتے ہیں؟ حکمرانوں سے؟ نہیں! دراصل ہم اپنی بےحسی و غیر ذمداری پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہو تے ہیں کیونکہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں ہم ہی اس سب کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
کیونکہ جب ہم اپنے اردگرد چھوٹی چھوٹی ناانصافیوں کو یہ سوچ کر اندیکھا کر دیتے ہیں کہ اس سے ہمارا کیا تعلق؟ تب ہمارا یہی رویہ اک ایسے معاشرے کو جنم دیتا ہے جہاں معصوم بچی زینب، آٹھ اور بچیاں ایک ہی شخص کی درندگی کا نشانہ بن جاتی ہیں، قصور کے کئ سو بچوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری ہوجاتی ہیں اور مجرم تاحال آ زاد ہیں۔
کوئٹہ میں ایک بے گناہ پولیس اہلکار ایم پی اے اچکزئی کی گاڑی سے کچلا جاتا ہے اور کچھ ہی دن بعد رہائ مل جاتی ہےاور استقبال پھولوں سے کیا جاتا ہے،
ولی خان یونیورسٹی مردان کا طالب علم نظام کے خلاف آواز اٹھانے پر توہین رسالت کا مرتکب قرار پاتا ہے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتا ہوا اس ہی کلمے کے ماننے والوں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے،

لاہور ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہوں کا قتل عام ہوتا ہے مگر کوئی زمہ دار نہیں ملتا.
کراچی کا شاہزیب اپنی بہن کو تنگ کرنے والوں کے ہاتھوں قتل ہو جاتاہے، انیس سالہ نوجوان انتظار سادہ لباس پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہو جاتاہے، ایک بزرگ پروفیسر حسن ظفر کو سیاست کے نام پر بے رحمی سے قتل کر دیا جاتا ہے، نوجوان ظافر کو اپنی طاقت کی تسکین کے لیے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے, حال ہی میں دو نوجوانوں کو ماورائے عدالت قانون کے رکھوالوں نے موت کی نیند سلا دیا، نقیب تین بچوں کا جبکہ مقصود پانچ بہنوں کا واحد کفیل تھا
اور بھی ایسے کئ واقعات ہیں جن کے لواحقین ہمارے منافقانہ رویے، بےبسی یا غربت کے باعث معاملات اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔
چند روزہ “انصاف دو” مہم اور سیلفی والے اظہار یکجہتی چلتا ہے پھر کوئی پلٹ کر نہیں دیکھتا کہ کتنے لوگوں کو سزا ملی۔۔۔؟ بلکے انصاف کے نام پر لواحقین کو بار بار تماشا بنایا گیا ان کی بےبسی کا مذاق اڑایا گیا۔۔۔
اور سزا نہ ملنے پر “انصاف دو” مہم کا کیا ہوا…؟
ارے بھائی جانے دویہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔۔
اور یہی اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
ہمیں انصاف کی نہیں اس معاشرے کی ضرورت ہے جس میں انصاف ممکن ہو۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں