امریکا سپرپاور نہیں زیرو پاور۔ کامران بونیری

سابق وزیراعظم عمران خان کا امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینا یا absolutely not کہنا یہ کوٸی بات نہیں،امریکہ کو تکلیف کوئی اور ہے جس کا وہ کھل کر کبھی اعتراف نہیں کرسکتا،امریکہ اور ہمارے ملک میں موجود اس کی غلام سیاسی کمپنی کو پتہ ہے کہ جب تک پاک فوج سلامت ہے،پاکستان کو 3 ٹکڑوں میں تقسیم کرنا امریکہ کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی یہ غدار ٹولہ ایسا کچھ کرسکتا ہے بلکہ دنیا کی ساری طاقتیں ایک ہوکر بھی زور لگا لیں تب بھی وطن عزیز کو اللہ پاک کے فضل و کرم سے کچھ نہیں ہونا کیونکہ “مارخور“ دشمن کی چالوں کا توڑ ان کی چال چلنے سے قبل نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.

امریکہ کس بات پر ہمیں معافی دینے کی بات کر رہا ہے،آخر ہم نے ایسا کونسا جرم کرلیا اور یہ ہوتا کون ہے کسی کو بھی معافی سزا دینے والا،امریکہ بزدل اپنی شکست کا اعتراف کبھی کھل کر نہیں کرسکتا ورنہ دنیا کیلٸے امریکہ ایک مذاق بن کر رہ جاٸے گا،آئی ایس آئی نے افغانستان میں امریکہ کی منجھی اتنے زبردست انداز سے ٹھوکی ہے کہ وہ روز جیتا اور روز ہی مرتا ہے،عمران خان تو محض بہانہ تھا،امریکہ کو اصل تکلیف کوئی اور ہے،اب کچھ لوگ کہیں گے کہ عمران خان روس کے ساتھ معاہدے کر رہا تھا،یہ تکلیف تھی تو ایسا کچھ بھی نہیں اور نہ ہی فوجی اڈے نہ دینے کی بات ہے،بھارت امریکہ کی کوارڈ کا حصہ ہے، بھارت نے روس سے تیل اور روسی ایس 400 دفاعی سسٹم لیا تاکہ بھارت پاکستان کی فوج کو نقصان پہنچا سکے لیکن امریکہ کو کوئی تکلیف نہ ہوئی کیونکہ بھارت کی جو خواہش ہے وہی امریکہ کی بھی خواہش ہے.

 عمران خان کیوں بار بار کہہ رہا ہے کہ مجھ سے زیادہ وطن عزیز پاکستان کو پاک فوج کی ضرورت ہے،کیا پاکستانیوں تمھیں اب بھی بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔نائن الیون،2001 کے ڈرامے سے قبل سال 2000 میں جب امریکی تھینک ٹینک افغانستان کے ذریعے پاکستان اور اس کے ایٹمی اثاثوں کو ختم کرنے کی بساط تیار کرچکا تھا۔تب جنرل پرویز مشرف کو کوئی پینٹاگون کی ساری پلاننگ اور انفارمیشن پہنچا رہا تھا کہ کس طرح امریکہ اپنا ورلڈ ٹریڈ سینٹر تباہ اور پھر افغانستان پر حملہ کرے گا اور امریکہ اس حملے کی آڑ میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ختم کرنے کے بعد ہی خطے سے واپس جائے گا..عمران خان کا اڈے نہ دینا یا روس سے گیس اور تیل لینا اس پر امریکہ بزدل کو کوئی تکلیف نہیں،امریکہ کو بڑی گہری چوٹیں مارخور اور پاک فوج نے لگائی ہیں جو کہ امریکہ کو ہضم نہیں ہو رہی اور ہضم ہونی بھی نہیں،ان شاءاللہ امریکہ بزدل نے پاک فوج سے بدلہ لینے کیلٸے اس بار بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا،ہمارے اندرونی غدار خرید کر عمران خان کی حکومت کا تختہ پلٹا تاکہ پاک فوج اور عوام میں خلیج پیدا ہو لیکن امریکہ کو اس بار بھی شکست ہوٸی،چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے،ان غداروں سے یہ حکومت نہیں چلنی، پاکستانیوں تھوڑا صبر رکھیں“مارخور کیا، کیوں، کب،کس لیے،کہاں اور کیا کر جاتے ہیں یہ امریکہ کو کبھی سمجھ نہیں آنی اور نہ ہی ان غداروں کو سمجھ آٸے گی، امریکہ دنیا کیلٸے سپر پاور پر “مارخوروں“ کیلٸے زیرو پاور یا شیرخوار بچہ ہے،امریکہ کا مشن پاکستان اور ایٹمی اثاثوں کی تباہی ہے لیکن کیا امریکہ کامیاب ہوا ؟؟؟ نہیں،کیونکہ ہمارے مارخوروں نے اسے کامیاب ہونے ہی نہیں دیا،سال 2019 سے 2021 تک امریکہ کی سی آئی اے نے ہر سال 25 ارب ڈالر صرف اس لیے خرچ کیے تاکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا پتہ لگا سکے لیکن کیا امریکہ کھربوں ڈالر پھونک کر بھی پتہ لگا سکا نہیں نہ؟امریکہ ہماری پاک فوج سے اپنی شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے لیکن یہ وہ خواب ہے جو اللہ پاک کے فضل و کرم سے کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں