خونی حادثات کا زمہ دار کون۔۔؟ (کامران بونیری)

کراچی کی سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ جن میں بڑی بسیں، منی بسیں، کوچز، کوسٹرز وغیرہ شامل ہیں ان خونی گاڑیوں کے ڈرائیورز کی اوور اسپیڈنگ (تیزرفتار) ڈرائیونگ سے روڈ حادثات روز کا معمول ہیں، جس کی کئی وجوہات، اسباب ہیں، شہر بھر میں ہر پبلک ٹرانسپورٹ میں شمار بڑی بسوں، منی بسوں، کوچز اور کوسٹرز وغیرہ کا مختلف مقامات پر ایک اسٹاپ متعین ہے، جہاں پر ٹوکن کے نام پہ بیٹھا مافیا جنہیں ٹرانسپورٹرز کی زبان میں (اسٹارٹر) کہا جاتا ہے، وہ مافیا پبلک ٹرانسپورٹ کی ان گاڑیوں سے بھتہ لیتے ہیں اور ان کے حساب سے وقت پر نہ پہنچنے والی گاڑی کے ڈرائیورز سے باقاعدہ جرمانہ وصول کیا جاتا ہے.
روڈ پر یومیہ پیش آنے والے خونی حادثات کی بنیادی وجہ ان پبلک ٹرانسپورٹ سے اپنے اپنے اسٹاپ پر تاخیر سے پہنچے پر لئے جانے والے جرمانے کے نام پر بھتہ وصولی بھی ہے، جو اسٹاپ پر بیٹھے اسٹارٹرز وصول کرتے ہیں، دوسری اور اہم وجہ ٹریفک پولیس اور ڈسٹرکٹ پولیس کی رشوت وصولی ہے، جس کا منہ بولتا ثبوت ان پبلک ٹرانسپورٹ کی جان لیوا ڈرائیونگ پر ٹریفک پولیس کے ایس اوز، (آر کیز) ان خونی گاڑیوں کو بھاری جرمانے کا چالان دینے کے بجائے اکثر مُک مُکا کرکے چھوڑ دیتے ہیں، ان زمہ داران کے اس عمل سے جان لیوا ڈرائیونگ کرنے والے ڈرائیورز کا حوصلہ مزید بلند ہوجاتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کئی انسانی جانیں شہر کی سڑکوں پر کچلی جارہی ہیں، مشاہدہ کریں تو اکثر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے ڈرائیورز کی عمر بھی کم ہوتی ہے، خاص کر اس وقت جب ایک ہی لین کی 2 گاڑیاں بیک وقت ایک ہی جگہ پہنچ جائیں تو زیادہ سے زیادہ مسافر اٹھانے کی لالچ میں یہ نوعمر ڈرائیورز اس طرح گاڑی دوڑاتے ہیں، جس طرح موت کے کنوئیں میں سرکس کا ماہر ڈرائیور لوگوں کو اپنے فن سے محظوظ کرنے کیلئے گاڑی ڈرائیو کرتا ہے، ان ڈرائیورز کو ایک لمحے بھی یہ خیال نہیں آتا کہ ان کی گاڑی میں سوار 40 سے 50 مسافروں کی جان ان کی غلط ڈرائیونگ سے سولی پر چڑھ سکتی ہے.
ان غیر ذمہ دار ڈرائیورز پر بس اپنے اسٹاپ اور متعین کردہ وقت کے مطابق زیادہ سے زیادہ مسافروں کے ساتھ پہنچنے کا بھوت سوار ہوتا ہے، جرمانے کے 100، 200 روپے کی بچت کیلئے مذکورہ گاڑیوں کے ڈرائیورز سڑکوں پر گاڑی کو ہوائی جہاز کی اسپیڈ سے دوڑاتے ہیں اور یہی اوور اسپیڈنگ اکثر جان لیوا حادثات کا سبب بنتی ہے، تیز رفتار ڈرائیونگ کے باعث حادثات میں اکثر اوقات صرف مسافر ہی جان کی بازی ہارتے ہیں، کیوں کہ ڈرائیور اور کرایہ لینے والا اکثر موت کو قریب پاکر گاڑی سے چھلانگ لگالیتے ہیں،چند روز قبل شیر شاہ میں بھی منی بس کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اوور اسپیڈنگ کا ہی نتیجہ تھا، سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا ٹریفک پولیس اور ڈسٹرکٹ پولیس کا مقصد صرف لوڈنگ گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ سے جوڑ توڑ ہی ہے، ان کی اور کوئی زمہ داری نہیں بنتی؟ بڑی بسوں، منی بسوں، کوچز، کوسٹرز، ڈمپرز، ٹرالرز اور واٹر ٹینکرز کے ڈرائیورز کی تیز رفتار ڈرائیونگ سے شہر بھر میں سینکڑوں شہری روز روندھے جا رہے ہیں لیکن افسوس کہ اس کا سدباب کرنے والے تمام زمہ داران نے مکمل چپ سادھ رکھی ہے یا انہیں بھی بریف کیس دیا جارہا ہے، آخر خونی ڈرائیونگ پر ان کی گاڑیاں تاحیات بحکم سرکار ضبط کیوں نہیں کی جاتیں؟ ٹریفک پولیس میں موجود جو دیانتدار افسران اوور اسپیڈنگ پر مذکورہ گاڑیوں کو بھاری جرمانے کا چالان عرصہ دراز سے دے رہے ہیں، اگر یہ بگڑے ڈرائیورز محض چالان سے سدھرنے والے ہوتے تو اب تک روڈ حادثات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوچکی ہوتی، اس سنگین معاملے کے حل کیلئےحکام بالا کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے، بنیادی چیز جس پر ایکشن لینا انتہائی ناگزیر ہے، وہ یہ ہےکہ شہر بھر کے مختلف مقامات پہ بیٹھے ان سے بھتہ لینے والے مافیا کی جانب سے دادا گیری کے ذریعے اپنے اپنے اسٹاپ اور اصول بناکر ان ڈرائیورز پر وقت پر نہ پہنچنے پر بھتہ جسے (ٹوکن) کا نام دیکر سرکار کی آنکھوں میں عرصہ دراز سے دھول جھونکی جارہی ہے، یہ (ٹوکن) سسٹم کے نام پر بھتہ ختم اور اس مافیا کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لیا جائے، پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز سینکڑوں شہریوں سے اوور اسپیڈنگ کے باعث زندگی چھین رہے ہیں، کیوں کہ انہیں (ٹوکن) کے نام پر بھتے اور جرمانے سے بچنا ہوتا ہے.
سب سے پہلے اس مافیا کے خلاف سخت ایکشن ضروری ہے تاکہ ڈرائیورز کو یہ فکر نہ ہوکہ فلاں اسٹاپ جہاں ان کے (اسٹارٹرز) بیٹھے ٹوکن کے نام پر ان سے بھتہ لیتے اور جرمانہ عائد کرتے ہیں اب وہ سلسلہ نہیں رہا تو یہ اطمینان سے گاڑی چلائیں گے، اگر ان پبلک ٹرانسپورٹ والوں سے (ٹوکن) کے نام پر بھتہ لینے والے مافیا کے خلاف ایکشن ہونے کے باوجود بھی اوور اسپیڈنگ کا سلسلہ ترک نہیں کیا جاتا تو پھر ڈرائیورز کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے اور گاڑی بحکم سرکار تاحیات ضبط کی جائیں، ٹرالرز، واٹر ٹینکرز، ڈمپرز و دیگر ہیوی گاڑیوں کا دن میں شہر کے اندر داخلہ مکمل طور پر بند کیا جائے، جب تک سرکار ٹرانسپورٹرز سے بلیک میل ہوتی رہے گی اور ٹریفک پولیس سمیت ڈسٹرکٹ پولیس میں موجود بدعنوان افسران و اہلکار ان سے جوڑ توڑ کرتے رہیں گے، انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ یوں ہی رواں دواں رہے گا، ٹریفک حادثات میں کمی لانے کیلئے شہر کے اسٹیک ہولڈرز اور اعلیٰ سطح پر تمام متعلقہ زمہ داران کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں