کراچی، حلقہ ارباب ذوق کی تنقیدی نشست کا احوال

حلقہ ارباب ذوق کراچی کی تنقیدی نشست پاکستان آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوئی۔جس کی صدارت نگراں مدیر اعلی اردو لغت بورڈ ڈاکٹر شاہد ضمیر نے کی۔ مہمانان اعزازی میں معروف شاعر اور ماہر علم العروض ڈاکٹر آفتاب مضطر اور برطانیہ سے تشریف لائی ہوئی شاعرہ و افسانہ نگار نجمہ عثمان شامل تھیں۔ تنقیدی نشست میں دو تخلیقات تنقید کے لیے پیش کی گئیں جبکہ ایک افسانہ تبصرے کے لیے پیش کیا گیا۔ برطانیہ سے تشریف لائی ہوئی شاعرہ و افسانہ نگار نجمہ عثمان نے ”ادھوری شناخت“ کے عنوان سے افسانہ پیش کیا۔جو بیرون ملک جانے والےخاندانوں سے متعلق تھا جو بیرون ملک جا کر بھی اپنی شناخت نہیں کراسکتے۔افسانہ نگار مطربہ شیخ نے”تسخیر“ کے عنوان سے افسانہ پیش کیاجبکہ منفرد لہجے کے شاعر آصف علی آصف نے غزل پیش کی۔ افسانے پر بات کرتے ہوئے رحمان نشاط، زاہد حسین زاہد، زیب اذکار حسین،ریحانہ روحی، شجاع الزماں، فرحت اللہ قریشی اور عمار یاسر نے کہا کہ افسانہ تسخیر میں جدید دور کی عکاسی کی گئی ہے تاہم افسانے میں زبان و بیان کا خاص خیال نہیں رکھا گیا جس کی وجہ سے ترجمے کا گمان ہوتاہے۔تسخیرایک بیانہ افسانہ ہے اس میں کئی اہم نقات کی نشاندہی کی گئی ہے۔تنقیدنگاروں نے کہا کہ طویل افسانے میں جدید سائنس کی دنیا میں ہونے والی تبدیلوں اوراس کے انسان پر پڑھنے والے اثرات کا ذکرکیا گیا ہے۔تنقیدنگاروں نے مطربہ شیخ کی کاوش کو سہراہا اور کہا کہ نوجوان نسل جدید سائنسی علوم سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں جو خوش آئند بات ہے۔ٓآصف علی آصف کی غزل پر بات کرتے ہوئے ریحانہ روحی نے غزل کو بہترین تخلیق قرار دیا اور کہا کہ آصف علی آصف نے بہت خوبصورتی سے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔شاعر اور مزاح نگار اصغرخان نے آصف علی آصف کی کاوش کو سہراہا تاہم انہوں نے کہا کہ غزل میں موسیقیت نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کی خوبصورتی مانند پڑگئی ہے۔زاہد حسین زاہد نے غزل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزل اپنے اوزان پر پوری نہیں اترتی جس کی وجہ سے غزل میں موسیقیت کا رنگ نمایاں نہیں ہو پایا، تاہم آصف علی آصف کی کاوش کوکامیاب قراردیا۔ماہر علم العروض ڈاکٹر آفتاب مضطر نے علم العروض کے تناظرمیں غزل کی ساخت اور اس کی ہیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایک شعر کی تشریح کی اور اس کے اوزان کے بارے میں بتایا۔ جس سے شرکاء مستفید ہوئے۔ زیب اذکار حسین نے مطربہ شیخ اور آصف علی آصف کی کاوش کو سراہا اور انہیں مشق سخن جاری رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے نجمہ عثمان کے افسانے کو بھی فکرانگیز تحریر قراردیا اور کہا کہ ملک سے باہر جانے والے افراد وہاں جاکربھی پیچیدہ نفسیاتی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔
تنقیدی نشست کے صدر ڈاکٹر شاہد ضمیر نے آصف علی آصف اور مطربہ شیخ کی تخلیق کی تعریف کی اور کہا کہ بلاشبہ یہ دونوں تخلیقات مستقبل کے اہم تخلیق کاروں میں اپنا مقام بنائیں گے ان کی حوصلہ افزائی کرنا بہت ضروری ہے۔۔
تنقیدی نشست میں سینئرشاعرغلام علی وفا کی جلدصحت یابی اور درازی عمرکے لیے دعاکی گئی۔ یاد رہے غلام علی وفا گزشتہ منگل سے کارڈیو اسپتالNational Institute of Cardiovascular Diseases (NICVD)میں زیرعلاج ہیں۔
تنقیدی نشست میں ایک مذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ”چار روز قبل نامعلوم افراد نے مکتبہ دانیال پر چھاپہ مارکر محمد حنیف کے ناول A Case of Exploding Mangoes جس کا ترجمہ کاشف رضا نے ”پھٹتے آموں کا کیس“ کے نام سے کیا تھااسے اٹھالیا اور ساتھ حراساں بھی کیا“ شرکاء نے حساس ادارے کی اس کارروائی کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ ملک میں آزادی اظہار کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ جن علمی شخصیات نے تنقیدی نشست میں شرکت کی ان میں احسان سہگل،فرحت اللہ قریشی،رحمان نشاط، نسیم شاہ، نسیم شیخ، خالد دانش،خالد محمود، جاوید احمد صدیقی، شاہد محمود صدیقی، اصغر خان، عمار یاسر، کاشف علی ہاشمی، شجاع الزمان خان، عرفان قادری،یاسر بشیر، سکندر رند، ثقلین عباس،خواجہ محمد اعظم، اقبال لطیف، شکیل عباسی،محترمہ ثریاحیا،موناخان اور محسن نقی شامل تھے۔نظامت کے فرائض کامران مغل نے انجام دیئے۔۔ آخرپر سیکریٹری حلقہ ارباب ذوق،زیب اذکار حسین نے اپنے مخصوص اندازمیں تمام شرکاء کا فردا فردا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں