سرسید کا نظریہ تعلیم و تربیت اور ہم (کامران مغل)

سید احمد بن متقی خان (17اکتوبر 1817تا 27مارچ1898)المعروف سرسید انیسویں صدی کے فلسفی تھے۔انہوں نے قرآن اور سائنس کی تعلم دربار میں ہی حاصل کی۔سرسید بچپن ہی سے بہت ہونہار تھے انہوں نے پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے بے مثال کام سرانجام دیئے وہ چاہتے تھے کہ مسلمان دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنسی تعلیم بھی حاصل کریں۔انہوں نے مسلمانوں کو اس طرف راغب کیا رسائل میں مضامین لکھے،تقریریں کی وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے باقاعدہ اور عملی طور پر تعلیمی ادارے قائم کیے ۔مسلمانوں کے راسخ الاعتقاد طرز کو ان کے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے سرسید نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجرا کیا۔سرسید نے ۱۸۵۹ء میں مراد آباد میں گلشن اسکول،۱۸۶۳ء میں غازی پور میں وکٹوریہ اسکول اور ۱۸۶۴ء میں سائنسی سوسائٹی برائے مسلمانان قائم کی۔۱۸۷۵ء میں محمدن اینگلواورینٹل کالج کی داغ بیل رکھی۔

سرسید نے اردو کو بطور رابطہ زبان کے اپنانے پر زور دیا،انہوں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اسی میں مسلمانوں کی بقاء ہے کہ وہ انگریزی تعلیم حاصل کریں اسی میں ان کی کامیابی ہے،سرسید نے عملی طور پر کام کیا،تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی اور باربار کہا کہ علی گڑھ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں،یہ ہندوستان کے لیے ہے اور اس میں کسی بھی ذات،مذہب کا شخص حصول علم کے لیے داخل ہوسکتا ہے۔

سرسید احمدخان نے قومی تعلیم پر روزدیا۔ کہتے ہیں ‘زمانہ اب وہ نہیں رہا کہ ہم لوگوں کو مسجدوں اور خانقاہوں میں بٹھا کر اور ان کو خیرات کی روٹی دے کر یا چھوٹے موٹے اسکول و مکتب قائم کرکے قومی تعلیم کو ترقی دے لیں گے’ سرسید احمد خان اسکول کے لیے بورڈنگ ہاوس کو لازمی خیال کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہمارے گھروں اور محلوں میں بچوں کی تربیت درست طور پر نہیں ہوسکتی، بہتر ہے کہ وہ ایک بورڈنگ ہاوس میں رہیں یہ آج ختم ہوکر رہ گیاہے۔بورڈنگ ہاوس والے اسکول اتنے مہنگے ہیں کہ اس کے قریب سے بھی گزرتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ اسکول والے ان کی جیبیں نہ خالی کرا لیں۔
آج ہم اپنے بچوں کو اس لیے مہنگے اور بڑے اسکولوں میں داخل کرواتے ہیں تاکہ وہ عملی زندگی میں ہم سے زیادہ کامیاب زندگی گزار سکیں۔سرسید احمد خان کا نقطہ نظرہے کہ ”قومی تعلیم ایک بند مکان میں ہونی چاہیے جہاں پر کہیں سے بیرونی صحبت کا اثر نہ پہنچتا ہو۔قوم کے بچے ایک محفوظ بورڈنگ ہاوس میں مل کررہیں” وہ کہتے ہیں قومی تعلیم کبھی علیحدہ علیحدہ نہیں ہوسکتی،اپنے اپنے طور پر تعلیم بچوں کو سوائے غارت کرنے کے اور کچھ نتیجہ نہیں دیتا۔آج ہم تین قسم کے تعلیمی نظام سے دوچار ہیں۔۔

پاکستان بننے کے بعد اگر حکومت تعلیمی پالیسی کو یکساں طور پر رائج کرتی تو آج تعلیمی پرائیویٹائیزیشن کی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔سرسید احمد خان نے مذہبی اور دنیاوی تعلیم کے درمیان جو توازن قائم کرنے کی کوشش کی،ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی اور آج تعلیم اور تعلیمی ادار ے ہر لحاظ سے غیر متوازن دکھائی دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں پچہتر فیصد بچے اسکول ہی نہیں جاتے،ملک میں نظام تعلیم بدستور زبو ں حالی کا شکارہے۔پاکستان کی جامعات کا نام دنیا کی پہلی ایک ہزار یونیورسٹیوں سے یونہی خارج نہیں ہوا ،اس کے پیچھے ہمارا تعلیمی نظام کارفرما ہے،جس نے پوری قوم کو سوچنے،سمجھنے اور تخلیقی صلاحیتوں سے دور کرکے گونگا،بہرہ،رٹوطوطا،بوٹی مافیا اور جعلسازاور ٹیوشن باز قوم بنا دیا ہے۔
موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمت کرکے ملک میں رائج تعلیمی نظام کو یکسر تبدیل کرکے ایک نظام تعلیم رائج کرے یہ اسی صورت ہوگا جب ملک میں تعلیمی ایمرجنسی لگائے جائے گی،جب تک تعلیمی نظام یکساں نہیں ہوگا ملک سے غربت، جہالت، بیروزگاری،اقرباپروری،دہشت گردی،ورقہ واریت، تعصب بازی ،کرپشن جیسی برائیوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ہم تب ہی ایک قوم بن سکتے ہیں جب ہم ایک نظام تعلیم کے تحت اپنی آنے والی نسل کو پروان چڑھائیں گے۔۔۔

کامران مغل،کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں