بے “بس” شہر ( شعیب واجد)

آج پھر کراچی میں ٹریفک جام تھا..میں تاحد نگاہ گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا, سوچ رہا تھا کہ یہ جام کیوں ہوتا ہے. پھر ساری بات سمجھ آگئی.. گاڑیوں کی قطاروں میں بسیں ہی نہ تھیں..رش میں پھنسی زیادہ تر کاریں اور موٹرسائیکلیں تھیں..یعنی صرف ایک آدمی کیلئے پوری ایک گاڑی..

دو دہائی پہلے تک کراچی میں بسیں اور منی بسیں وافر تعداد میں ہوتی تھیں.. ہم گاڑی کے جھنجٹ سے آزاد ہوکر نکلتے.. ہر علاقے کو جانے والی ٹرانسپورٹ مل جاتی.. رات دیر بھی ہوجائے تو مسئلہ نہ تھا.. دیر سویر سےبڑی گاڑی مل ہی جاتی.. پیسوں اور منی بسوں سے ہر شہری کو بڑا آرام تھا..

پھر یوں ہوا کہ ہڑتالوں کا دور آگیا.. ہڑتال کی کال دی جاتی.. پچاس لاکھ کی گاڑی ایک ہوتل پٹرول سے پھونک دی جاتی..
گاڑیاں جلتی گئیں.. ٹرانسپورٹر زمین پر آتے گئے, پھر انہوں نے سرمایہ کاری چھوڑ دی.. بچھی کچھی گاڑیاں مجبوری میں ٹرانسپورٹرز سڑکوں پر لاتے رہے.. لیکن کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام عملاً تباہ ہوگیا.. اب حال یہ ہے کہ آپ پبلک ٹرانسپورٹ کے بھروسے پر گھر سے نہیں نکل سکتے..

ایک بس جن سو افراد کو لیکر جاتی تھی آج ان میں سے آدھے لوگ مجبوراً گاڑی یا موٹرسائیکل نکالنے پر مجبور ہیں..
سڑکیں وہی ہیں.. اور رش کئی گنا بڑھ چکا ہے..
ٹریفک جام میں پھنسا ہر بندہ آج بھی یہی سوچ رہا تھا.. یہ کراچی میں اب ٹریفک جام کیوں ہوتا ہے..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں