تصویر کائنات میں جنگ. (شعیب واجد)

آج میری اس تحریر کا موضوع زرا ہٹ کر ہے اتنا ہٹ کر کہ مرد حضرات مجھے کاندھوں پر اٹھا سکتے ہیں، اور خواتین مجھے آنکھیں دکھا سکتی ہیں ۔۔

لیکن کیا کہیئے کہ کچھ پانے کیلئے خطروں کا کھلاڑی تو بننا ہی پڑتا ہے ۔شاعرِ مشرق سے بڑی معزرت کے ساتھ ۔۔ جن کہنا ہے کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔۔۔ لیکن آج انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد یہ بھی کہہ رہی ہے کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں جنگ ۔۔جی آپ نے سنا ہوگا دنیا میں جنگیں صرف زر اور زمین کیلئے نہیں ہوتیں، ایک تیسرا ‘ ز ‘ بھی ہے، اور وہ ہے زن ۔

جنگ کی بات بعد میں کریں گے، پہلے ایک مثالی ترین امن کے دور کی بات ہوجائے ۔۔ایک دور تھا۔۔ جب انسان جنت میں رہتا تھا، بے حد سکون تھا ، آرام ہی آرام تھا ، نہ کوئی ذمہ داری تھی اور نہ کوئی کام تھا۔۔بس ایک بات کا خیال رکھنا تھا، کہ ایک خاص درخت کا پھل نہیں کھانا تھا ، ورنہ جنت سے ہاتھ دھونا پڑجانے تھے، اور پھر غلطی ہوگئی ، لیکن غلطی کی وجہ ایک خاتون ہی بنیں ، حضرت آدم کی زوجہ بی بی حوا نے انھیں اس درخت کا پھل کھانے پر اکسایا، یوں پھردونوں نے ہي وہ پھل کھا لیا ، اور اس جرم کی سزا میں انھيں جنت سے ہاتھ دھونا پڑ گئے ، اور انھیں زمین پر بھیج دیا گیا۔۔ یوں وہ جنت جیسی حسین جگہ سے محروم ہوئے ۔۔

میرے دوستو ۔۔ دنیا میں انسان کی آمد کے بعد سے لیکر اب تک جتنے مسائل پیدا ہوئے ، ان کے پیچھے عورتوں کا ہاتھ تو نہیں البتہ دماغ ضرور پایا گیا ۔یوں تو دنیا میں عورتوں نے بھی بڑا نام کمایا، لیکن جس عورت نے سب سے ذیادہ شہرت حاصل کی ، اس کا نام بی جمالو ہے ، لگائی بجھائی میں بی جمالو نے وہ بڑا مقام حاصل کیا، جس کی مرد صرف تمنا ہی کرسکتے ہیں ۔۔

مرد کا واسطہ جب بچپن میں کچھ رشتہ دار اور دیگر عورتوں سے پڑتا ہے تو وہ کیا سوچتا ہے ، ایک طالب علم نے اپنی تقریر میں بچپن کے کچھ روح فرسا حالات کو ان الفاظ میں بیان کیا ۔۔وہ بچہ کہتا ہے۔۔ بطورطالب علم میرا واسطہ کئی عورتوں سے پڑرہا ہے ، اور میرے دل پر جو گزر رہی ہے وہ میں ہی جانتا ہوں اپنی مما کی بات کررہا ہوں جناب صدر۔۔ میری مما نے روک ٹوک کی جو زنجیریں مجھے پہنائی ہوئی ہیں ، ان سے تو لگتا ہے کہ بس ان کے اور میرے درمیان اب ایک ریموٹ کنٹرول کی ہی کمی باقی بچی ہے ۔
ایک اور عورت میری زندگی میں آئی ہے ، جس کا کام صرف لاڈ کرنا ہے ، اور وہ میری ننھی سی بہن ہے،لیکن کبھی میں سوچتا ہوں کہ اس جنگلی بلی جیسی بہن کا پیار جھیلنے کیلئے کاش میں نے بن مانس جیسا دل پایا ہوتا ۔اوراب ذکر ایک خاص عورت کا ۔۔ اور وہ ہیں میری ٹیچر ۔۔ ارے نہیں ، یہ میں کیا کہہ گیا ۔۔ ان کے بارے میں کچھ نہیں کہنا ، پہلے ہی وہ خفا سی رہتی ہیں ، کم نمبر دیتی ہیں۔۔ کچھ کہہ دیا تو شاید اگلی کلاس میں پروموٹ بھی نہ ہو پاؤں ۔۔ بس اتنا کہوں گا مس یو آر گریٹ ۔۔

بے چارہ طالب علم ۔۔
آپ نے سنا ہوگا کہ دنیا میں بڑی بڑی جنگیں ہوئیں ، تاریخ پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ ہر بڑی جنگ سے ایک دن پہلے ملکہ نے بادشاہ کا دماغ کھایا تھا، اور اگلے دن بادشاہ نے غصہ پڑوسی ملکوں پر نکالا۔۔ماضی قریب میں بھی جب امریکی صدر کلنٹن کو ایک اسکینڈل پر ان کی بیوی ہیلیری نے کھری کھری سنائیں ، تو اس کے کچھ دن بعد ہی امریکا نے اپنا غصہ عراق پر نکال دیا تھا ۔۔
خیر یہ تو مزاق کی بات تھی ، لیکن جناب ۔۔ کچھ حقیقتیں ایسی ہیں کہ انھیں مزاق قرار دے کر آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں ۔۔ مثال کے طور پر اگر ہمارا تقریری موضوع وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں جنگ ہو۔۔ تو اس لفظ جنگ پرغور کیجئے ، کیا یہ لفظ مذکر ہے؟ ہرگز نہیں ۔۔ جنگ کا لفظ ہے ہی مونث ۔۔ یعنی قدرت بھی گواہی دے رہی ہے کہ عورت کا اصل میں مطلب کیا ہے ۔۔بات اسی پر بس نہیں ہورہی ۔۔ لفظ لڑائی بھی مونث ہے ۔۔ لفظ چغلی بھی مونث ہے ، لفظ غیبت بھی مونث ہے ۔۔

اور اب میں زکر کروں کا اس لفظ کا ، جس کا مطلب ہے عظیم تباہی۔۔ پہاڑ،سمندر سب تباہ ، دنیا تباہ، پوری کائنات تباہ ۔۔ یعنی قیامت ۔۔
قیامت کا لفظ بھی مونث ہے ، کیونکہ ، قیامت آئے گا نہیں،بلکہ قیامت آئے گی ۔۔
ان ہی الفاظ کے ساتھ میں اجازت چاہتا ہوں ۔۔ خے سے خدا حافظ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں