سائبرحملے ہورہے ہیں،آ ٓئی ٹی سسٹم اپڈیٹ کیا جارہا ہے ،وزیرمملکت شزہ فاطمہ

اسلام آباد:وزیرمملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں حکومتیں سائبر سکیورٹی کے لیے فائر وال انسٹال کرتی ہیں، فائر وال سے پہلے ویب منیجمنٹ سسٹم تھا حکومت ملک میں اب آئی ٹی سسٹم کو اپڈیٹ کر رہی ہے سائبر حملے کئے جارہے ہیں۔ شزہ فاطمہ نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سائبر سکیورٹی کے حملوں سے بچنے کے لیے فائروال انسٹال کی جاتی ہے، جلد آگاہ کریں گے کہ اب تک کتنے سائبر حملے ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے صرف وٹس ایپ کے سست ہونے کی شکایت آرہی تھی، انٹرنیٹ کی سست روی سے متعلق انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے ڈیٹا مانگا ہے۔شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں حکومتیں سائبر سکیورٹی کے لیےفائروال انسٹال کرتی ہیں، فائر وال سے پہلے ویب منیجمنٹ سسٹم تھا حکومت اب سسٹم کو اپڈیٹ کر رہی ہے۔ وزیر مملکت ا?ئی ٹی کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے سے بھی رپورٹ طلب کی ہے، گزشتہ دو ہفتوں میں ڈیٹا ٹریفک پر کیا فرق پڑا ہے، رپورٹ آئے گی تو دیکھیں گے،کیا ڈیٹا کا استعمال زیادہ ہوا ہے یا کوئی اور وجہ ہے یہ بھی دیکھیں گے۔

انٹرنیٹ سرور پرو وائیڈرز (آئی ایس پیز) ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں 30 سے 40 فیصد کمی آگئی ہے۔وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ سکیورٹی اور نگرانی کو بڑھانے کے حکومتی فیصلے کا غیر ارادی نتیجہ نکلا ہے جس کے باعث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انٹرنیٹ کی رفتار میں 30 سے 40 فیصد تک کمی آئی ہے۔

آئی ایس پیز ایسوسی ایشن نے کہا کہ انٹرنیٹ سست ہونے سے آن لائن اور انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے کاروباری افراد کے لیے افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور اس کا اثر خاص طور پر کال سینٹرز، ای کامرس کے پیشہ ور افراد، آن لائن ورکنگ کلاس اور الیکٹرانک سے متعلقہ کاروبار کرنے والوں پر زیادہ پڑا ہے۔انٹرنیٹ سرور پرووائیڈرز کا کہنا ہے کہ وہ شعبے جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں وہ اب اپنے کاروباری معاملات کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور انٹرنیٹ کی سست رفتار ان کے کاروبار کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں