کب کوئی فرق پڑرہا ہے!۔

تحریر: شیخ خالد زاہد۔

دنیا اپنے پیشہ ورانہ طرز پر چل رہی ہے،جو دنیا کی آسائشوں سے آراستہ ہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا، سماجی ابلاغ پر افسوس اور اداسی بھی اتنی ہی دیکھائی دے رہی ہے جتنی کے خوشحالی ہے۔ درپردہ یہ خوشحالی بہت تیزی سے بدحالی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے، لوگ اپنے اپنے طرز پراپنے اطراف میں حفاظتی حصار بنا رہے ہیں۔ معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات معاشرے کے افراد پر کسی نا کسی طرح سے اثر انداز ہورہے ہیں کچھ لوگ ایسے عوامل کو وقتی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان سے بھی تعلق بنتا ہے۔انسان جزوقتی معاملات پر زیادہ دھیان دیتا ہے، دوراندیشی ہر کسی کو میسر نہیں ہوتی ایسی ہی خصوصیات انسان کو دوسرے انسانوں میں نمایاں مقام دلاتی ہیں۔ یہ بھی قدرت کے فیصلے ہوتے ہیں کہ وہ کس کو کیا دیتی ہے اور کس کو کیا۔عمومی تاثر ہمارے مضمون کے عنوان سا ہے۔ اپنے کام پر اس حد تک توجہ ہوتی ہے کہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے کسی کو کوئی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے کو ئی کسی طرح سے متاثر ہوسکتا ہے۔ایٹم بم بنانے والے نے اپنے دفاع کا سوچا تھا جبکہ اس سے ہونے والے نقصانات اس کے دفاع کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر وہی ہوتا ہے کہ وقت احساس دلاتا ہے کہ وہ غلط کام کیا تھا جس کی وجہ سے کتنے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔شائد ہماری اکثریت بغیر سوچے سمجھے کارکردگی دکھانے نکل پڑتی ہے جس کی وجہ سے اکثریت کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے یا پھر واپس وہیں کھڑا ہونا پڑتا ہے جہاں سے چلے تھے، منظم حکمت عملی نا ہونے کی وجہ سے فیصلے بدلنے پڑجاتے ہیں جبکہ ترقی منظم حکمت عملی پر منحصر ہوتی ہے۔بااختیار لوگ اپنی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کچھ بھی ایسا کر گزرنے کی چاہ رکھتے ہیں جو ان کی اہمیت کو نمایاں کرے، وہ صرف اس بات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں کہ اس سے انہیں ذاتی کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے چاہے وہ عمل اکثریت کیلئے نقصان دہ ہواور وقت کے ساتھ ساتھ انکے اپنے نقصان کا بھی سبب بن سکتا ہو۔ ہم اس کلیئے کو معاشروں کے استحکام کی جانچ کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ منظم سوچ منظم حکمت عملی ترقی کی راہ تلاش کر لیتی ہے۔

کیا کبھی کسی نے باقاعدہ طور پر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ اسرائیلی فوج آخر نہتے فلسطینیوں کو کیوں اس بے دردی اور بے رحمی سے شہید کر رہے ہیں کیوں یہ عمارتوں کو مسمار کر رہے ہیں، اگر کوئی جانتا ہے تو وہ اس بات کو واضح کیوں نہیں کررہا، اسرائیل اپنے مذہب کی ترویج اور اسے منظم طریقے سے واضح کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز نہیں کر رہے اور ہم ہیں کہ دنیا پر یہ واضح ہی نہیں کر پارہے کہ دراصل اس بربریت کی اصل وجہ کیا ہے۔ہمارے دین اسلام نے مذہب اور دنیا کا ایک اچھوتا نظام زندگی واضح کیا ہے لیکن جیسا کے دنیا کا ماننا ہے کہ مذہب آپ کانجی مسئلہ ہے لیکن دنیا یعنی معاشرہ سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔اسلام کا نظام حیات یہ ہے کہ دنیا میں ہی مذہب ہے اور مذہب میں ہی معاشرت ہے (مکمل ضابطہ حیات) اسی لئے اسلام کو دین کہا گیا ہے، چونکہ ہم نے اپنا دین جزدان میں لپیٹ کر گھر کی کسی اونچی جگہ رکھا ہوا ہے اور کسی کے مرجانے پر اسے دفنانے تک کیلئے استعمال کرتے ہیں پھر اسی طرح سے اونچی جگہ پر رکھ دیا کرتے ہیں۔ ہم نے اپنا معاشرہ مختلف مذاہب کی آمزش سے زندگی گزارنے کیلئے ترتیب دیا ہوا ہے۔ دلائل سے نا صحیح لیکن ہمارے اعمال سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ ہم نے اپنی اہمیت کسی ممنوعہ جگہ پر رکھ چھوڑی ہے اور اب اس تک رسائی کے اسباب پوشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔جسے ہم عمومی طور پر نسلی فاصلہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

ساری دنیا میں اسرائیل اور اس کے حواریوں کے خلاف ایک شور مچا ہوا ہے یہاں تک کے مغربی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی ادارے بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انہیں اپنے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ حق اور باطل کی اس جنگ میں بغیر مذہب رنگ و نسل کی تفریق کے سب حق کیلئے کم از کم اپنے تہیں آواز تو اٹھا رہے ہیں اور کسی حد تک صعوبتیں بھی جھیل رہے ہیں لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلم دنیا تقریباً خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اپنے ملکوں میں ایسے کام سرانجام دینے میں لگے ہوئے ہیں جو انکے دنیا وی اقتدار کو دوام دینے میں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ سماجی ابلاغ پر بھی غیر مسلموں کی جانب سے ہی مذمتیں اور آگاہی کی مہم چلائی جا رہی ہیں۔ درحقیقت مسلم معاشرے مختلف طریقوں سے قید و بند کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ہم نے خالق کائنات سے منہ موڑ رکھا ہے اور اس مخلوق کی طرف سے آنے والے اشاروں پر ناچتے ہیں جہاں شائد دنیا کے خزانے ہیں یا پھر کچھ اور۔ ابھی یہ مضمون مکمل نہیں ہوا تھا کہ پاکستان، امریکہ کی کرکٹ ٹیم سے عالمی کپ کے مقابلے میں شکست سے دوچار ہوگیا ہے۔ جس پر ہم صرف اتنا لکھنے کی جرات کر رہے ہیں کہ بھلا اور کس طرح سے ہم اپنے وفا شعار ہونے کا یقین دلائیں۔ یقینا اس شکست کا تعلق قطعی کسی سیاسی مفاد کیلئے ہوگا لیکن ساری دنیا میں ہونے والی جگ ہنسائی کا سبب تو بن ہی چکا ہوگا۔

روزانہ کٹے پھٹے معصوم بچوں کے جسم ہماری نظروں کو فقط آبدیدہ کر رہے ہیں، کتنی ہی مائیں اپنے ان نونہالوں کو ادھر ادھر ڈھونڈتی بھاگتی پھر رہی ہیں اور ایسے ہی معصوم بچے اپنے والدین سے محروم آس پاس سے گزرتے چہروں میں انکے چہرے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم اس قرب کو محسوس کرنے سے قاصر ہیں جو ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بزرگ فلسطین میں لمحہ لمحہ سہہ رہے ہیں اور اپنی زندگیوں کی قربانیاں دئیے جا رہے ہیں۔ عید الاضحی قریب پہنچ چکی ہے اور اللہ کی خوشنودی کیلئے قربانیوں کے جانور آنا شروع ہوچکے ہیں سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کا فریضہ سرانجام دینے کیلئے تیار ہیں۔ ایک سوال بہت تنگ کر رہا ہے وہ یہ کہ جو قربانی اہل فلسطین اپنے رب کی رضا کیلئے دے رہے ہیں وہ موجودہ وقت میں کسی بھی قربانی سے افضل ہوسکتی ہے، اس کا جواب امت کے جید علمائے کرام ہی دے سکتے ہیں لیکن یہ تو طے ہے کہ معمولاتِ زندگی بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔خاکم بدہن دعاؤں سے زیادہ وہ آہیں اور بددعائیں آسمانوں کا سینہ چیرتی ہوئی شنوائی کیلئے پیش ہورہی ہیں، تب ہی تو جیسے زمین سے سکون نامی شے اٹھا لی گئی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ کب کوئی فرق پڑ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں