حکومت ٹیکسوں کے بجائے اخرجات کم کرے ،شاہدخاقان

اسلام آباد:سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت کو عوام پر ٹیکس لگانے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے بجٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیزل اورایل پی جی کی اسمگلنگ روک کر ٹیکس جمع کریں تو کوئی اور ٹیکس لینے کی ضرورت نا پڑے، ملک میں ایک طبقہ ہے جس کی آدھی آمدن حکومت لے جائے گی، ایسا دنیا میں وہاں ہوتا ہے جہاں پیدائش سے لیکر مرنے تک کی انسان کی تمام بنیادی ذمہ داریاں حکومت لیتی ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے اخراجات 25 فیصد بڑھائے گی، اگر عوام پر بوجھ ڈالنا تھا تو گھر سے شروع کرتے اور اپنے اخراجات کم کرتے، قرضہ لیکر 500 ارب روپے ایم این اے اور ایم پی ایز کو بانٹا جائے گا۔ سربراہ عوام پاکستان پارٹی نے مزید کہا کہ زمین بیچنے پر ٹیکس لگایا گیا مگر حاضر سروس اور ریٹائر بیوکریٹ اور فوج کے لوگوں کو چھوٹ دے دی گئی ہے۔

پریس کانفرنس میں شریک مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجٹ عوام پر انتہائی ظلم ہے، آئی ایم ایف نے کہا تھا زراعت اور رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس لگائیں وہ آپ نے نہیں کیا۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ایران سے پیٹرول ڈیزل کی اسمگلنگ پر کارروائی نہ کریں؟ اس موقع پر مفتاح اسماعیل نے 6 جولائی کو اسلام آباد میں اپنی جماعت کی لانچنگ کا اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں