تعلق سےقبل حفظان صحت کی 5 ضروری احتیاطیں

تھامارا مارٹنیز فارینیس ایسپل انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ایک ماہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ  تعلق سے قبل ہاتھوں، منھ اور دانتوں کی صفائی ضروری ہے کیونکہ یہ اعضابھی آپ کے پارٹنر کے اعضا سے مس ہوتے ہیں۔ڈاکٹروائسینٹ بریٹ کہتے ہیں کہ تعلق سے قبل یہ احتیاط جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن (ایس ٹی آئی) کو روک سکتی ہے۔بدن اور جنسی اعضا کو باقاعدگی سے صاف ستھرا رکھنا ہی کسی جوڑے کے تعلق کو پرلطف بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
برطانوی پبلک ہیلتھ کےڈاکٹر بریٹ کا کہنا ہے کہ مرد پوشیدہ مقام کے اطراف کی جگہ سمیگما یا میل کچیل جمع نہ ہونے دیں۔ یہ مضر صحت بیکٹیریا کی افزائش نسل اور جسم میں بدبو پیدا کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔این ایچ ایس مرد کے عضو مخصوصہ کے حصوں پر بہت زیادہ صابن استعمال نہ کرنے کا بھی مشورہ دیتا ہے اور ماہرین کے مطابق صرف صاف پانی سے اچھی طرح دھونا ہی کافی ہو سکتا ہے۔ اگر صابن استعمال بھی کرنا ہے تو زیادہ تیز کیمیکل والا نہ ہو۔
خواتین کیلئے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ روزانہ غسل اور پانی سے صفائی ایک سادہ اور اچھا آپشن ہے۔ پوشیدہ عضو کی صفائی کے لیے بازار میں دستیاب کاسمیٹک مصنوعات غیر ضروری بلکہ خطرناک ہوتی ہیں،ان سے الرجی ،کھجلی اور قبل ازوقت پیدائش کےخدشات بڑھ جاتے ہیں ۔ عضو کی صفائی کا اپنا اندرونی نظام ہے،تاہم کسی مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ لے لینا چاہیے۔

ماہرین جنسیات کا مرد اور خواتین دونوں کے لیے ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ وہ مباشرت سے پہلے اور بعد میں رفع حاجت (پیشاب) وغیرہ سے فارغ ضرور ہولیا کریں۔مارٹنز کہتے ہیں ’ناپسندیدہ انفیکشن سے بچنے کے جنسی جماع کے بعد پیشاب کرنا ایک بہترین اقدام ہے۔یہ جسم سے ہر اس مضر صحت چیز کو خارج کر دیتا ہے جو اس عمل کے دوران پیدا ہوتی ہیں۔ڈاکٹر برائٹ کے مطابق خواتین کو اس قسم کے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور مباشرت کے 15 منٹ کے اندر اندر پیشاب کرنے کی عادت اپنائیں۔جرنل آف فیملی پریکٹس کی سنہ 2002 میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ احتیاط انفیکشن کے خطرے کر پچاسی فیصد تک کم کردیتی ہے۔
ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ تعلق کیلئے صفائی انتہائی اہمیت کی حامل ہے،اس سے عمدہ روابط کے نتائج سامنے آتے ہیں جن سےحمل کا ٹہرنا بھی آسان ہوتا ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں