سندھ کے 14ہزار اسکولوں میں پینے کے پانی کی سہولت دستیاب نہیں

کراچی:سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ میں14ہزارایسے اسکولز ہیں جن میں پانی کی سہولت موجود نہیںجبکہ کراچی میں 38پرائمری اسکولز میں واش رومز کی سہولت سے محروم ہیں۔حکومت اسکولوں میں سولر پینل لگاتی ہے مگر کچھ ہی دنوں وہ بعد چوری ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے یہ بات سندھ اسمبلی میں محکمہ تعلیم سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔سندھ اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرمین کے جمیل سومروکی زیر صدارت 30منٹ تاخیرسے شروع ہوا۔ ایوان نے اپنی کارروائی کے دوران گورکھ ہل ترمیمی بل کی منظور ی دیدی۔

اجلاس کے دوران سندھ میں گیس کی لوڈ شیڈنگ پر تحریک التوا پر گرما گرم بحث بھی ہوئی اور ارکان نے اپنے توجہ دلا نوٹس میں کراچی میں قلت آب کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر تعلیم سندھ کہا کہ اسکولز اور بچے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جسے ہمیں پورا کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں ہر فرد کو اسکولوں کی مانیٹرنگ کرنی ہوگی کیونکہ یہ ہماری قوم کے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسکولز میں سولر پینل لگاتے ہیں چوری ہوجاتے ہیں سردارشاہ اسکولوں کے جو اساتذہ ڈیوٹی سے مستقل غیر حاضر رہتے ہیں انہیں ملازمت سے برطرف بھی کیا جاتا ہے ۔

قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ مانیٹرنگ ڈائریکٹوریٹ پر جو لوگ تعینات ہیں وہ بھی دونمبر کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔وزیر تعلیم نے کہا کہ آف لائن موبائل ایپ کے ذریعے ٹیچرز کی حاضری پر کام کررہے ہیں،نئے تعلیمی سال سے آف لائن موبائل ایپ کام شروع کردےگی۔ سردارشاہ نے کہا کہ معاشرے میں جو خرابیاں ہیں وہ شعبہ تعلیم میں بھی آئی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی غیر حاضری کو روکنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کرناہوگا۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ تعلیم کے مسئلے پر کوئی سیاست نہیں ہوگی،اس حوالے سے ہم ہرقسم کا تعاون کرنے کو تیار ہیں۔وزیر تعلیم نے کہا کہ ہمیں بچوں کو پڑھانا اوراسکول کو ٹھیک کرنا ہے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔سردارشاہ نے بتایا کہ سندھ میںاسکول چار دیواری،پانی کی فراہمی اور واش رومز کی سہولت پر کام کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں