لاوارث کراچی

تحریر: ثروت کوثر۔

کراچی کی عوام کو گزشتہ کئی سالوں سے ہر طرح کے مسائل کا سامنا ہے، مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، بھتے کے نام پر اغوا برائے تاوان، پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، کھلے ہوئے قاتل مین ہول، اس بیچاری عوام پر اتنا ظلم کافی نہیں تھا کہ سال 2024 کراچی کی عوام بلخصوص نوجوانوں کے لئے قیامت خیز ثابت ہوا۔ ابتدائی چند ماہ میں شہر کراچی میں31 شہری ڈکیتی مزاحمت میں جان کی بازی ہار گئے جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔

اس شہر کراچی میں مال بھی لٹ رہا ہے اور جان بھی جا رہی ہے۔ اتنے سارے مسائل میں گھری عوام کے پاس جو رہی سہی جمع پونجی بچتی ہے وہ بے چارے وہ سب دے کر بھی اپنی جانوں کا تحفظ نہیں خرید سکتے۔2024 کے الیکشن میں جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

کئی دہائیوں سے مسلط شہر کراچی کی تباہی کے ذمہ داران۔۔۔اقتدار کی ہوس یا یوں کہہ لیں جعلی ووٹوں سے بیلٹ بکس بھرنے کی تگ و دود میں جو دعوے اور وعدے وہ عوام سے کر گئے تھے۔آخر وہ کہاں ہے؟شہر قائد کے باسی ایوانوں میں بیٹھنے والوں سے پوچھتے ہیں۔۔۔آخر وہ وعدے کہاں ہیں؟وہ دعوے کہاں ہیں؟ الیکشن سے پہلےجن کی زبانیں کراچی کی بہتری اور ترقی کے گن گاتی تھیںآج وہ خود تو ایوانِ بالا میں پہنچ گئے مگر یہ بیچاری عوام  جہاں تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں، بلکہ اس سے بھی بد تر حالت میں۔

شہر کراچی کی تباہی اور دن رات نوجوانوں کی موت کے بعد دل کرتا ہے کہ ان حکمرانوں کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھوں کہ۔۔اے غفلت کی نیند سوئے ہوئے ۔۔کیا ان جوانوں کے خون سے آپ کا دل نہیں دہلتا؟جو رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں بھی قربان ہوئےاور عید کی خوشیاں بھی ان کے لئے ماتم بنی۔۔۔۔کیا ان مظلوموں کے والدین کی آہ و بکا کے بعد آپ غفلت کی نیند سے بیدار نہیں ہوتے؟کیا آپ نے کبھی اپنے آپ کو ان کی جگہ رکھ کہ سوچا جنھوں نے اپنے بچوں کو پال پوس کر جوان کیا؟صرف اس لئے کی وہ شہر قائد میں ہونے والی لا قانونیت کی بھینٹ چڑھ جائیں۔۔۔۔۔جہاں صرف ڈاکو راج ہو اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو ۔۔۔۔۔جہاں والدین خوفزدہ ہوں کہ ان کا جوان بیٹا روزی روٹی کمانے نکلا ہے تو صحیح سلامت گھر بھی پہنچ سکے گا یا نہیں۔

آخر کون ہے یہ لوگ؟مسلمان تو سراسر سلامتی ہے ۔۔۔پھر یہ کیسے مسلمان ہیں؟کیا ان ڈاکوؤں، لٹیروں کو گرفتار کرنا ہماری پولیس جو کہ عوامی محافظ کہلاتے ہیں ان کے بس میں نہیں یا یہ خود ہی ان کے آگے بے بس ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدارا ! میری حکام بالا سے گزارش ہے کہ ان والدین ،بہنوں، اور بیٹیوں کی طرف دیکھیں جن کے گھر کے چراغ گل ہورہے ہیں، ہنستے بستے گھر اجڑ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدارا ! کراچی کی عوام کے لئے نہ سہی خوف خدا کے لئے ہی یہ قتل وغارت گری ، لوٹ مار بند کروانے کے لئے کچھ عملی اقدامات کریں اور شہر قائد کے سکون اور رونقوں کو بحال کریں۔۔۔۔اب لازم ہے کہ حکومت اس شہر کے لئے خصوصی اقدامات کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ عوام کے ووٹ کی اگر طاقت ہے تو عوام کی آواز کی اس سے کہیں بڑی طاقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں