دسترخوان کی رونق

تحریر: ثروت اقبال۔

دعوتوں میں بڑے سے دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے دسترخوان کی رونق بڑھاتے ہیں اور ان سے اٹھتی ہوئی خوشبوئیں بھوک بڑھاتی ہیں۔ کھانوں میں سب کی پسند اپنی اپنی ہوتی ہے کچھ کھانے علاقائی ہوتے ہیں جو ان کے دسترخوان کی شان بڑھاتے ہیں اور کھانوں کا مزہ دوبالا کرتے ہیں۔

اکثر لوگوں کی رائے ہوتی ہے کہ دعوت میں بریانی کے بغیر تو دسترخوان سونا ہی ہوتا ہے بریانی ہی دسترخوان کی شان ہوتی ہے۔ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر کھانے کے بعد میٹھا نہ ہو تو کھانا نامکمل سا رہ جاتا ہے انہیں ایسا لگتا ہے میٹھا کھا کر ہی کھانے کا اختتام ہوتا ہے۔ بعض لوگ اپنے دسترخوان پر اچار، چٹنیاں ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ دسترخوان کی رونق بڑھاتے ہیں ۔ کچھ گھرانے اپنے دسترخوان خوبصورت سلاد کی پلیٹ سے سجاکر بارونق کرتے ہیں۔

اسی طرح گھر کے دسترخوان پر کئی طرح کے کھانے موجود ہوں کچھ گرم اور کچھ ٹھنڈے کھانے اور ان سے اٹھنے والے خوشبوئیں بھوک بڑھا رہی ہوں یا اس کے مقابلے میں کسی گھر کے دسترخوان پر صرف ایک ہی کھانا موجود ہومگر، اصل میں تو دسترخوان کی رونق “ماں” ہے۔ دسترخوان پر “ماں” کی موجودگی دسترخوان کی رونق بڑھا دیتی ہے۔ اور کھانوں میں ذائقہ آجاتا ہے ۔”ماں” ہر کسی کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے دسترخوان سجاتی ہے۔ ماں کی توجہ کھانے کے دوران اپنی پلیٹ پر کم اور بچوں کی پلیٹ پر زیادہ ہوتی ہے ۔ماں کی نظریں بچوں کی پلیٹ میں موجود کھانے کو تولتی ہیں کہ “نہیں اتنا کم کھانا لیا ہے اور لو کھاؤ گے نہیں تو طاقت کیسے آئے گی”۔ ماں ایک بچے کو کھانا کھلائے یا پانچ چھ بچوں کو ہر ایک پر اس کی خاص توجہ ہوتی ہے کوئی بچہ ماں کی نظروں سے بچ نہیں سکتا۔ بچے بڑے بھی ہو چکے ہوں پھر بھی ماں کو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بچے نے کم کھانا کھایا ہے ۔ روزانہ کے کھانے کے وقت ماں کو لگتا ہے آج دعوت ہے گھر کے ہر فرد پر مہمانوں کی طرح خاص توجہ ہوتی ہے۔ دسترخوان پر شوہر اور بچوں کو خاص پروٹوکول دیناماں کی ہی خاصیت ہے ۔ماں کے ہاتھ کے کھانے کا ذائقہ کبھی نہ بھلانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔ جس کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا۔

شاید ماں کے اندر یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ وہ بچوں کے معدے میں جھانک کر دیکھ لیتی ہیں کہ معدہ کتنا خالی ہے۔ اسے اور کھانا کھانا چاہیے کہیں یہ کمزور نہ ہو جائے ۔ اگر کبھی کھانا کم پڑ جائے تو اپنی پلیٹ آگے بڑھا کر یہ کہہ کر اٹھ جاتی ہیں کہ “میں نے کھا لیا آج زیادہ بھوک نہیں ہے”۔ گھر کے کسی فرد کو کھانا اچھا نہیں لگ رہا ہو تو ہنگامی خدمات کے لئے فورا اٹھ کھڑی ہوتی ہیں اور جھٹ پٹ بن جانے والے کھانوں کی فہرست کھول دی جاتی ہے۔ “یہ اچھا نہیں لگ رہا تو سینڈوچ بنا دوں؟ انڈا تل دوں ؟ کباب تل دوں؟ یا پھر نوڈلز کھانا ہے یا میٹھا پراٹھا کھانا ہے؟ “غرض کہ جو بھی ممکن ہو وہ جھٹ پٹ حاضر کر دیتی ہیں۔ کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اپنے بچوں کی پلیٹوں کا بچا ہوا کھانا بھی شوق سے کھا لیتی ہیں۔ بچہ بیمار ہو جائے تو طرح طرح کے بہانے بناکر اور ہزار جتن کر کے بھی بچے کو کھانا کھلا دیتی ہیں کہ کہیں وہ بھوکا نہ رہ جائے۔

یہ تو ایک دسترخوان کی بات ہے۔ حقیقت میں تو گھر کے ہر کام کی، ہر بات کی، ہر کمرے کی، گھر کے ہر کونے کونے کی رونق تو “ماں” ہی ہے۔

دنیا میں آنکھیں کھولنے سے پہلے سے ماں اور بچے کے کھانے کا تعلق قدرت نے بنا دیا ہے۔ خون کے لوتھڑے سے لے کر خوبصورت تخلیق بننے تک کا ذریعہ وہی کھانا پینا ہے جو ماں نے کھایا پیا ہے اور دنیا میں آنے کے بعد بھی اس کی بھوک مٹانے کا ذریعہ ماں کے وجود میں موجود اس کا قدرتی تیار کھانا ہی ہے۔

لہذا ماں ہی گھر کی رونق ہے اپنی رونق کو سنبھال رکھیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں