بے لوثی کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ (ذیشان خان)

9 مارچ 2018 بروز جمعہ حسب معمول شام 4 بجے دفتر پہنچا، شفٹ سنبھالی، دن کی خبروں کا فالو اپ لیا، نیوز روم میں سب کچھ معمول جیسا تھا، کام، گپ شپ، سب کچھ ساتھ ساتھ چل رہا تھا، ہم شام 6 بجے کا خبر نامہ تیار کرنے میں مصروف تھے، نیوز روم میں نصب ایل سی ڈیز پر دیگر نیوز چینلز کی نشریات چل رہی تھیں، جو ہمیں باخبر اور متحرک رکھنے کا ایک بڑا زریعہ بھی ہیں، اچانک ایک ٹی وی چینل کی بریکنگ نیوز پر نظر پڑی تو نگاہ ٹھہر گئی، حیرت سے تکتا ہی رہ گیا، کیا کرتا خبر ہی غیر معمولی تھی، غیروں کی سرزمین کینیڈا میں انسانیت کی تاریخ رقم ہورہی تھی، انسانی حقوق کی پاسداری کا چراغ جل رہا تھا، حق اور سچ کی روشن مثال رقم ہورہی تھی، جس کا پاکستان میں تصور بھی ممکن نہیں.
جی ہاں خبر تھی کہ کینیڈا میں ایم بی بی ایس ڈاکٹرز اپنی تنخواہیں بڑھوانے کیلئے نہیں بلکہ تنخواہوں میں “غیر معمولی اضافہ” ہونے کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج تھے، ان کے چہروں پر خوشی کے آثار بتارہے تھےکہ خلق خدا کی خدمت کرنے والے کو کس قدر قلبی سکون محسوس ہوتا ہے، جس کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں، احتجاجی ڈاکٹرز کا موقف تھا کہ یہ درست نہیں ہےکہ ہمیں بوریاں بھرکر تنخواہیں دی جائیں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو چند نوٹ دیکر دھتکارا جائے، نا انصافی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، جب تک پیرا میڈیکل اسٹاف کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں، ہم اپنی تنخواہوں میں اضافہ قبول نہیں کریں گے، پرانی تنخواہ میں ہم اچھی زندگی گزار رہے ہیں.
اس خبر کو پڑھ کر بطور انسان اور بطور مسلمان بے حد خوشی ہوئی، احساس ہوا کہ یہود و نصاریٰ کی ترقی کا یہ ہی راز ہے، انہوں نے فرش والوں کی خدمت کرکے عرش والے کے لامحدود خزانے سے بہت کچھ حاصل کرلیا کیوں کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے، رب المسلیمن نہیں، وہ لوگ چاند پر پہنچ گئے، طب کی دنیا میں کامیابیاں سمیٹیں، معیشت، تعلیم، کھیل، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا لوہا منوایا.
اور اس کے برعکس ہم نے فرش والوں پر ظلم و ستم، ان کی حق تلفی، فرعونیت دکھاکر عرش والے کو ناراض کیا، اس لئے ہم ترقی، کامیابی کی اس دوڑ میں اس قدر پیچھے رہ گئےکہ اب برسوں تک جہاز کی رفتار بھی ہمیں ان کے مدمقابل لاکھڑا نہیں کرسکتی، اصل بات یہ ہےکہ مسلمان ہو یا کافر، گورا ہو یا کالا، امیر ہو یا غریب، اللہ رب العزت اس شخص، اس قوم کو پسند فرماتا ہے، جس میں عاجزی ہو، انکساری ہو، مخلوق کی خدمت کرنے والا دل ہو، عمل ہو، اپنا کام ایمانداری، دیانت داری اور ذمہ داری سے کرے لیکن افسوس ہم مسلمان ہوکر بھی ان سب سے محروم ہیں، پرانا پاکستان ہو یا نیا پاکستان، ہر بار غریب ہی سیاستدانوں، بیورو کریسی، سرمایہ داروں، صنعتکاروں، ذخیرہ اندوزوں، گراں فروشوں کی زیادتی، ناانصافی کا آسان ہدف بنا، آج بھی غریب نہایت مشکل حالات سے نبرز آزما ہیں، مہنگائی کا طوفان ہے، بیروزگاری انتہاء کو چھورہی ہے، لوگ خودکشیوں پر مجبور ہیں، غریب کبھی چینی تو کبھی آٹے کی تلاش میں سر گرداں نظر آتا ہے، یہاں غریب کو مشکل، پریشانی، مصائب، ذلت، رسوائی کے سوا کچھ نصیب نہیں، ان سب کے باوجود کہا جارہا ہے کہ ہمیں مشکل حالات کا احساس ہے مگر عوام گھبرائیں نہیں اور صبر سے کام لیں، دوسری جانب پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں موجود اشرافیہ نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، جہاں غریب کو دو وقت کی روٹی دستیاب نہیں، وہیں سینیٹ کے غریب، مستحق، نادار اراکین نے نہ صرف اپنی بلکہ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافے کے بلز تیار کرلئے ہیں، یہ بلز سینیٹر نصیب بازئی، سجاد توری، دلاور خان، ڈاکٹر اشوک کمار و دیگر سینیٹرز نے جمع کروائے ہیں، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اراکین سینیٹ نے بل میں موقف اپنایا کہ مہنگائی نے انہیں متاثر کیا ہے، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ 2 لاکھ 25 ہزار سے بڑھاکر 8 لاکھ 79 ہزار، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ 1 لاکھ 85 ہزار سے بڑھاکر 8 لاکھ 29 ہزار روپے، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ سے بڑھاکر 3 لاکھ روپے کی جائے، ستم ظریفی دیکھیں کہ بات صرف تنخواہ تک محدود نہیں، اراکین نے بل میں یہ تجویز بھی دی کہ ممبران پارلیمنٹ کو 25 فرسٹ کلاس بزنس ائر ٹکٹس، اہلیہ اور بچوں کو یہ ٹکٹس استعمال کرنے کی اجازت، ٹرین کی ائر کنڈیشنڈ کلاس ٹکٹس کے برابر رقم دی جائے اور بذریعہ سڑک سفر کی صورت 25 روپے فی کلو میٹر الاؤنس دیا جائے، ان اراکین کو ایک لمحہ بھی غریب عوام کا احساس نہیں ہوا، انسانیت یاد نہیں آئی، ان کا ضمیر نہیں جاگا، ظاہر ہے مردہ ضمیر کے جاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، انہوں نے ذرا بھی نہ سوچا کہ ایک لاکھ 75 ہزار سے لے کر 2 لاکھ 25 ہزار ماہانہ تنخواہ اور لاتعداد مراعات میں ان کا گزارا نہیں ہورہا تو ایک غریب مزدور کا ماہانہ 12 سے 16 ہزار روپے تنخواہ میں گزارا کیسے ہوگا؟ وہ گھر کا راشن کہاں سے لائے؟ گھر کا کرایہ کیسے ادا کرے؟ بیوی، بچوں کا علاج معالجہ کیسے کروائے؟ بچوں کے تعلیمی اخراجات کہاں سے پورے کرے؟
تلخ حقائق جان کر بھی اراکین سینیٹ انجان بن گئے، انہوں نے آدم کی اولاد پر ظلم کیا، رب کریم کی ناراضگی مول لی، یہ اراکین شاید بھول گئے کہ اللہ پاک کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں، ڈریں اس دن سے جب کسی غریب کی ہائے عرش الہیٰ کو ہلادے گی، اراکین سینیٹ کے اس مطالبے پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ یہ ہمارے دوغلے پن کی زندہ مثال ہے، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیاء ہوتی ہے لیکن شاید ان میں دونوں ہی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں