طاغوتی یلغار

تحریر: روزینہ خورشید۔

گزشتہ چند دنوں سے ہر طرف دو الفاظ “جاہل اور طاغوت” نے غلغلہ مچا رکھا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ٹی وی کے ایک پروگرام میں خاتون میزبان، ایک مشہور اسکالر اور ایک رائٹر کو بلا کر حقوق نسواں کے حوالے سے بات کر رہی تھیں۔ دوران گفتگو، اسکالر صاحب نےمثال دینے کے لئے مرد و عورت دونوں کے لیے جاہل کا لفظ استعمال کیا( تناسب کے فرق سے) ۔اس کے بعد ہوا کیا؟ پروگرام میں پہلی قطار میں موجود ایک خاتون جو کہ اس چینل کی کنٹینٹ رائٹر بھی ہیں مائک پکڑے بیٹھی تھیں۔ ان کی رگ فیمینزم فوراً جاگ اٹھی اور انہوں نےاسکالر سے معافی کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ انھوں نے پاکستان کی 95 فیصد خواتین کو جاہل کیسے کہ دیا۔(حالانکہ پروگرام کو اگر پورا دیکھا جائے تو صاف سمجھ میں آرہا ہے کہ جاہل کن معنوں میں کہا گیا ہے) بعض لوگوں کا خیال ہے کہ محترمہ نے محض اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے یہ پلان کیا تھا ۔۔۔کچھ صداقت تو اس بات میں نظر آتی ہے کیونکہ وہ ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد اس پروگرام کی ریٹنگ آسمان کو چھونے لگی۔

گویا

بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

لیکن کہتے ہیں نا کہ اللہ شر سے خیر نکال لیتا ہے تو یہاں بھی کچھ ایسے ہی معاملہ نظر آ رہا ہے ان اسکالر نے دوران گفتگو کئی بار لفظ طاغوت کا استعمال کیا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ (خاص کر نوجوان نسل )ایسے ہیں جو واقعی پڑھے لکھے جاہل ہیں جنہیں آج تک لفظ طاغوت کا مطلب نہیں معلوم ،اس واقعے کے بعد اب لوگ کم از کم اس کے بارے میں جان جائیں گے ۔

طاغوت کا لفظ دراصل طغی سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں حد سے گزر جانا ،سرکش ہوجانا۔ جیسے دریا میں جب طغیانی آتی ہے تو پانی دریا کے کناروں سے نکل کر باہر کی طرف انا شروع ہو جاتا ہے۔ طاغوت لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا جو اپنی جائز حد سے تجاوز کر گیا ہو۔ قرآن کی اصطلاح میں “طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے ،جو اللہ کی بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خود بندوں سے اپنی بندگی کرائے”۔

قران مجید میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے،،،،،،

ترجمہ : جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں (البقرہ 257)

اس دنیا میں انسان کو قدم قدم پر طاغوت کا سامنا ہے سب سے بڑا طاغوت تو شیطان ہے جس کی بندگی کرتے ہوئے انسان اپنے نفس کا غلام بن جاتا ہے۔اس کے علاوہ بیوی ،بچے،خاندان،دوست احباب،قوم،رہنما،پیشوا،حکومت یہ سب کے سب طاغوت ہی ہیں جو انسان کو اپنی بندگی پر مجبور کر دیتے ہیں ۔

کسی بھی معاشرے میں قائم کردہ نظام خواہ وہ سیاسی، معاشرتی، معاشی ،اخلاقی یا اعتقادی ہو۔۔۔ اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے احکامات کی پابندی نہیں کرتا تو وہ طاغوتی نظام ہے اور اگر ہم اس نظام کو چلانے والوں کی سہولت کاری کریں گے، ان سے تعاون کریں گے تو اس کا مطلب ہے ہم طاغوت سے دوستی کر رہے ہیں جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے” جو شخص کسی فاسق و فاجر انسان کے ساتھ اسے تقویت پہنچانے کے لیے چلے تو اس نے اسلام کی عمارت کو منہدم کرنے میں مدد دی” درحقیقت ہم جس دور میں جی رہے ہیں اس وقت ہم پر چاروں طرف سے ہر لمحے طاغوتی قوتیں حملہ آور ہو رہی ہیں۔ شیطان جو کہ ہمارا ازلی دشمن ہے ظاہر ہے بنفس نفیس ہمارے سامنے آ کر ہم پروار نہیں کرتا، چھپ کر وار کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دشمن کو پہچانیں اور تمام طاغوتی قوتوں کو خواہ وہ کسی بھی شکل میں کسی بھی میدان میں ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہوں،ان کا آلہ کار بننے سے بچیں ۔

خواتین کو چاہئے کہ اس پر فتن دور میں وہ اپنی زمہ داری کو سمجھیں۔ “بہترین مائیں ہی بہترین قوم کی ضامن ہیں” لہٰذا اپنی اولاد کو طاغوتی قوتوں کے خلاف صف آراء کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں تا کہ ان کا شمار ابو جہل کے وارثین میں نہ ہو بلکہ وہ اپنی زندگی کو رب کی بندگی کے لئے خالص کرنے کے اہل ہو جائیں کیونکہ،،،،

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں