ماہ صیام، حقوق العباد اور مہنگائی کا طوفان( نائلہ مشتاق)

رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ماہ صیام آیا ہر طرف نور کا اجالا پھیلا ماہ صیام وہ مہینہ جس کا خالصتاّ تعلق رب کی پاک ذات سے ہے۔اس ماہ مبارک کے آتے ہی برکتوں اور رحمتوں کے چشمے ابل پڑتے ہیں۔ روزے کا تعلق رب کی ذات سے اور اس کا اجر بھی اللہ پاک کی ذات سے بلاواسطہ جڑا ہوا ہے۔یہ ماہ ہمیں ایثار قربانی اور دوسروں کے دکھ درد بانٹنے کا سبق دیتا ہے صرف بھوکا رہ کر انسان اللہ پاک کی قربت حاصل نہیں کرسکتا روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے مگر صد افسوس کہ ہم ایسے برکتوں اور رحمتوں والے مہینے کو پاکر بھی اس کے فضائل سے محروم رہ جاتے ہیں کبھی یہ نہیں سوچا کہ ہماری اتنی عبادتوں کے باوجود اللہ پاک ہم سے اس قدر ناراض ہے کہ ہم مسجد جاکر اپنی عبادت سے محروم ہیں۔ ماہ صیام وہ واحد مہینہ ہے جس میں شیطان جکڑا جاتا ہے اور انسان شیطان سے محفوظ ہو کر اپنی عبادت کرسکتا ہے۔ کبھی کسی نے سوچا کے کیا وجہ ہے کہ اس ماہ صیام میں کرونا جیسی موذی مرض ہماری عبادات کی ادائیگی میں دیوار بن گئی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کرونا جیسی موذی بیماری ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے ہم دوسروں کا مال اپنا مال سمجھ کر کھا جاتے ہیں۔ بازار میں وہی شے جو رمضان سے قبل دس روپے کی تھی وہ سو اور ڈیڑھ سو روپے میں صرف اس لئے فروخت کرتے ہیں اور مجبور لوگ خرید لیتے ہیں کہ صرف یہی مہینہ ہے جس میں دل کھول کر اور حد درجہ ناجائز منافع خوری کی جاسکتی ہے۔ ہمیں رب کے عذاب سے ڈرنا چاہیے جس مہینے میں ہمیں لوگوں کو آسائشیں دینی چاہیے ہم تکلیف درد تکلیف دیئے جاتے ہیں اور پھر اللہ سے شکوہ ہوتا ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں ہم کس قدر سنگدل اور پتھر دل ہو جاتے ہیں کہ کسی غریب کی آواز ہمارے کانوں کو سنائی ہی نہیں دیتی اور پھر ہم نے اگر کسی کی امداد کرنی ہے تو سب سے پہلے تصویر بناکر ان سفید پوش اور غریب لوگوں کی عزت نفس کا جنازہ نکالنا ہے اور آخر میں بھیک کے طور پر کچھ سامان دے دینا ہے۔ ساری دنیا کے مذاہب میں جب ان کی مذہبی تقریبات کا وقت آتا ہے تو اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں تاکہ غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ بھی مستفید ہو سکیں مگر سب افسوس ہم تو اسی ماں کو ماہ منافع سمجھ کر لوگوں کی جیبیں صاف کرتے ہیں اور وقت نماز مسجد کو بھاگتے ہیں کہ اللہ کو راضی کر لیں۔ ارے اللہ کے بندو حقوق اللہ، اللہ کے حقوق ہیں وہ رحمان ہے معاف کر دے گا اللہ کے حقوق اللہ پاک نے معاف کرنے ہیں حقوق العباد بنوں کے حقوق ہیں جس کی معافی صرف اللہ کے بندوں نے ہی دینی ہے مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہم اب بھی نہیں سمجھ پا رہے کہ اللہ پاک کی ذات ہمارے اعمال کی وجہ سے ہم سے کس قدر نالاں ہے۔ اے نوع انسان سمجھ جا کہیں وہ وقت نہ آجائے کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے اور غریب مسکین لوگوں کی آہوں اور سسکیوں سمیت تیرا رب تجھے اپنے پاس بلا لے اور تیرے پاس اس رب ذوالجلال کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے کچھ بچا ہی نہ ہو۔ ہمیں اس ماہ صیام میں کوشش کرنی ہوگی کہ ہم دوسروں کے لئے فائدہ کا سبب بنے نہ کہ دوسروں کے لیے مسائل کھڑے کرنے والے بن جائیں اور رب ذوالجلال ہم سے ناراض ہو جائے اپنے رب کو منانا ہے تو اس کے بنوں کا خیال رکھنا ہوگا تاکہ قربت الہی حاصل ہو سکے اللہ پاک اس بابرکت مہینے کے صدقے تمام عالم اسلام کو ایک کرے اور اس وبا کروناسے ہمارے ملک کے پاکستان کو اور عالم اسلام کو محفوظ رکھے۔ میری باتوں کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں صرف احساس دلانا ہےیہ میری ایک ادنیٰ سی کاوش ہےشاید میری باتوں میں وہ تاثیرنہ ہو مگر میں نے اپنے حصے کا دیا جلایا ہے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال صاحب فرماتے ہیں

“انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے,
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات.”

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال صاحب کی اس شعر سے ختم کروں گی کے۔

“دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے,
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے.”

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں