ناں کہنے کا ہنر

تحریر: راضیہ سید۔

انسانی رشتوں میں پیار ، محبت اور خلوص ہمیشہ حدود و قیود میں ہی مناسب لگتا ہے، رشتہ کوئی بھی اچھا یا برا نہیں ہوتا یہ لوگوں کے ساتھ ہمارے تجربات ہی ہوتے ہیں جو ہمارے رشتوں کو قابل اعتبار یا اچھا برا بنا دیتے ہیں ۔

زندگی میں ہمیں دوسروں سے بہت سی توقعات وابستہ ہوتی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر بار ہمارے رشتے ہماری یا ہم اپنے رشتوں کی کسوٹی پر پورا اتریں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم سب انسان ہیں اور اپنی زندگی کے کئی معاملات میں بے بس ہیں ۔

زندگی گزارنے کے لئے چیزوں کو سمجھنا پڑتا ہے جن میں صرف ہاں کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ کئی مرتبہ کئی چیزوں کے لئے صاف انکار یا  ناں کر دینا بھی بہت اہم ہوتا ہے اور یہ عمل رشتوں کو اور بھی گہرا اور مضبوط بنا دیتا ہے ۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم رشتوں کے مابین صحت مندانہ حدود متعین نہیں کرتے جس کی بنا پر ہم نہ صرف ہرٹ ہوتے ہیں بلکہ اپنے قیمتی رشتوں کو بھی زخمی کر دیتے ہیں ۔

ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ اپنی حدود کو سمجھیں کہ ہمارا وقت ، ہماری انرجی اور ہمارے وسائل محدود ہیں ، ہم اپنی حدود سے بڑھ کر کوئی کام نہیں کر سکتے ۔مطلب ہمیں ایسی کوئی کمٹمنٹ نہیں کرنی چاہیے جسے ہم بروقت پورا نہ کر سکیں ، ہماری صحت اجازت نہ دیتی ہو یا کوئی کام کرنے کی ہم میں سکت نہ ہو سو اپنی حدود کا تعین کرنا اور ناں کہہ دینا بالکل بھی غیر صحت مندانہ رویہ نہیں ہوتا ۔

جب بھی ہمیں کسی کام کے کرنے کے لئے کہا جائے اور ہم وہ نہ کر سکتے ہوں اور اس کی کوئی ٹھوس وجہ بھی ہو تو ہمیں انکار کرنے کے بارے میں پوری توجیہہ بیان کرنی چاہیے جیسے مثال کے طور پر آپ کے کولیگ نے آپ کو کوئی کام کہا لیکن آپ کا کام خود بھی بہت زیادہ ہے تو ایسی صورت میں آپ واضح الفاظ میں اپنے کولیگ کو بتا دیں کہ آپ اس کا کام ضرور کر دیتے اگر آپ کے پاس اپنا کام نہ ہوتا اس طرح سے دفتری ماحول بھی خوشگوار رہتا ہے اور آپسی تعلقات بھی نہیں بگڑتے ۔

کوئی بھی کام کو کرنے سے منع کرنے سے پہلے حالات کا جائزہ لازمی طور پر لیں ، ایک دم کسی ردعمل کا اظہار کرنا کبھی بھی درست نہیں ہوتا  ناں کہنے پر کبھی برا محسوس بھی مت کیجئیے یہ آپ کا حق ہے جسے آپ جب چاہے استعمال کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کسی کام سے منع کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس کا متبادل بھی پیش کر سکتے ہیں اور پھر ناں کر سکتے ہیں مثال کے طور پر آپ کے ہمسائے آپ کو کہیں کہ وہ ایک ہفتے کے لئے کہیں جا رہے ہیں اور آپ کو ان کے گھر پرموجود پودوں کی نگرانی کا ذمہ اٹھانا ہوگا ۔ اب ظاہر ہے کہ آپ ایک دم انکار نہیں کر سکتے اور اقرار کر کے آپ کا اپنا کام متاثر ہو گا اس لئے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ خود تو پودے نہیں سنبھال سکتے البتہ آپ کو کسی ایسی سروس کا علم ہے جو کچھ روپوں کے عوض اپنی خدمات فراہم کر سکتی ہے تو اس طرح سے مناسب انداز میں انکار کیا جا سکتا ہے ۔

نہیں یا ناں ایک صحت مندانہ رویہ ہے اور اس کا حق آپ کو ہے ، لہذا ہمیشہ انہی کاموں کو کرنے کی ہامی بھریں جو آپ باآسانی کر سکیں اور وہ آپ کے لئے مشکلات کا باعث نہ بنیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں