تحریک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات، بلے کا نشان: الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل

پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا۔

جسٹس کامران حیات نے تحریک انصاف کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوگا، چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلے ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے۔

دوران سماعت بیرسٹر علی طفر اور بیرسٹر علی گوہر نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے اختیارات سے تجاوز کیا، الیکشن کمیشن کے کہنے پر 2 دسمبر کو پشاور میں پارٹی الیکشن کرایا، اس پر اعتراض نہیں کیا، اب کمیشن کو اعتراض ہےکہ جس نے انتخابات کرائے، اس کی تقرری قانونی نہیں۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین جماعت ہے، انتخابی نشان واپس لینے کےبعد پارٹی غیر فعال ہوگئی، الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ غیر قانونی ہے، انتخابی نشان نہ ہونے سے پارٹی کیسے انتخابات میں حصہ لے سکتی؟۔

جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا اعتراض تھا کہ جنرل سیکرٹری نے چیف الیکشن کمیشن کی تقرری کیسے کی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے، آرٹیکل 17 ایسوسی ایشن کی تنظیم سازی کا اختیار دیتا ہے۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو پارٹی کی اندرونی تقرریوں پر فیصلے کا اختیار نہیں، الیکشن ایکٹ 2017 میں کہی نہیں لکھا کہ الیکشن کمیشن ازخود نوٹس لیکر تقرریوں کو جواز بناکر انتخابات کالعدم کرے اور نشان واپس لے، قانون بنانے والوں نے الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیا ہی نہیں، سپریم کورٹ کہہ چکی الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں۔

علی ظفر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں عام شہریوں پر مبنی ہوتی ہیں، تحریک انصاف کے 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ممبرز ہیں۔

جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ یہ پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے لوگ کون ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ جنہوں نے پارٹی انتخابات کو متنازعہ بنایا، وہ پارٹی ممبر ہی نہیں۔

جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں پارٹی رولز میں انتخابات کے حوالے سے کیا لکھا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ پارٹی رولز کے مطابق چیئرمین کا انتخاب خفیہ بلیٹ پیپر سے ہوتا ہے، الیکشن کمیشن کو پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں۔

ایڈیشل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ یہ کیس سنگل بینچ کا نہیں، 2 رکنی بینچ تشکیل دیا جائے۔

جسٹس کامران حیات نے ریمارکس دیئےکہ ایک سیاسی جماعت کو آپ نے انتخابات سے باہر کردیا، کتنی سیاسی جماعتوں کے کیس الیکشن کمیشن میں پڑے یں، پھر سب کا فیصلہ کریں، پیپلز پارٹی سے تیر، ن لیگ سے شیر اور جماعت اسلامی سے ترازو لے لیا جائے تو پیچھے کیا رہ جاتا؟۔

اس سے قبل تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا گیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے سے متعلق فیصلہ دینے کا اختیار نہیں، جن لوگوں نے انتخابات کو چلینج کیا وہ پارٹی ممبر بھی نہیں۔

درخواست میں الیکشن اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا گیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں پی ٹی آئی انٹر اپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انتخابی نشان بلا بھی واپس لے لیا، عدالت سنئیر ججز پر مشتمل بینچ بنائے اور درخواست کی سماعت کرے۔

پشاور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی سیاسی جماعت کا حق ہےکہ اپنی پارٹی نشان سے الیکشن لڑے،ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ تو کیا کچھ بھی نہیں دیا جارہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں