وزیراعظم کا سرپرائز۔۔آگے کیا ہوگا؟(مکمل تفصیلات)

وزیراعظم نے اپنا ترپ کا پتا کھیل کر، سیاسی کھیل کو نیا رخ دے دیا۔

ہوا کچھ یہ کہ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو پہلے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد کو آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔۔جس پر اپوزیشن مکمل بھونچکا رہ گئی۔۔ کہانی میں فوراً ہی ایک نیا موڑ آیا ۔ اور سپریم کورٹ نے تمام صورتحال کا ازخودنوٹس لےلیا۔۔

تحریک عدم اعتماد مسترد کیے جانے کے بعد قوم سے مختصر خطاب میں عمران خان نے سب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز بھیج دی ہے، قوم اگلے الیکشن کی تیاری کرے۔وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد ملک کی سیاسی فضا یکدم تبدیل ہوگئی۔اورانتخابات کا مطالبہ کرنے والی اپوزیشن اس اعلان کوبھی ماننے سے انکار کرنے لگی۔۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔۔ وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد صدر مملکت نے وزیراعظم عمران خان کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔۔۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تحریک مسترد ہونے سے قبل وزیرقانون کی حیثیت سے فواد چوہدری نے اہم خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا  7 مارچ کو ایک میٹنگ ہوتی ہے اوراس کے ایک روز بعد 8 مارچ کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے۔ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو ایک میٹنگ میں طلب کیا جاتا ہے، اس میں دوسرے ممالک کے حکام بھی بیٹھتے ہیں، ہمارےسفیر کو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاری ہے،اس وقت تک پاکستان میں بھی کسی کو پتہ نہیں تھا کہ تحریک عدم اعتماد آ رہی ہے۔فواد چوہدری نے اس صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی سازش سے جوڑا ، جس کے بعد اسپیکر نےاپوزیشن کی قرارداد مسترد کردی۔

اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد وزیراعظم نے پارٹی رہنماؤں سے خطاب کیا۔ان کا کہنا تھا اپوزیشن کو سمجھ ہی نہیں آرہا ان کے ساتھ ہوا کیا ہے؟ کل شام کو ہی کہا تھا گھبرانا نہیں ہے۔۔ غیر ملکی سازش اور اپوزیشن کا آلہ کار بننا اس تمام  خرابی کی بنیاد بنی ہے۔ عمران خان نے واضح طور پر کہا غیرملکی طاقت کا خط ایک بیرونی سازش ہے۔اورقومی سلامتی کمیٹی بھی اس خط کو سازش مانا تھا ۔۔اس اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے۔

صورتحال میں تیزی سے نئے موڑ آتے رہہے۔۔تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیے جانے کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نےمعاملے کا ازخود نوٹس لے لیا۔سپریم کورٹ کےلارجر بینچ  نےکیس کی سماعت شروع کی اور فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔ سپریم کورٹ نے وزیراعظم،صدر مملکت کو مزیداحکامات جاری کرنے سے روک دیا۔کہاوزیراعظم، صدر مملکت کے مزید احکامات عدالتی فیصلے سے مشروط ہونگے،چیف جسٹس کا کہنا تھا قومی اسمبلی کئ کاروائی میں دائرہ اختیار سے زیادہ مداخلت نہیں کر سکتے۔قومی اسمبلی کئ کاروائی سے ہم اگاہ ہیں۔مزید سماعت اب کل ہوگی۔۔

اپوزیشن کی جانب سے آج قومی اسمبلی میں ہونے والی کارروائی کے خلاف پٹیشن تیار کر لی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آج کی قومی اسمبلی کی کارروائی کالعدم قرار دی جائے۔ اور وزیراعظم کی صدر کو بھیجی گئی سمری کو بھی مسترد کیا جائے جبکہ ،عدم اعتماد پر ووٹنگ کا پراسس مکمل کرنے کا حکم دیا جائے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔سپریم کورٹ بارکی آئینی درخواست میں دعویٰ کہا گیا ہے کہ عدم اعتماد پر ووٹ لازم تھا اسپیکر رولنگ سے اسے ختم نہیں کر سکتا۔

اس تمام صورتحال کی روشنی میں وزیراعظم عمران خان کے سرپرائز کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہ کہہ چکے تھے۔کہ عہدہ ان کے لئے اہم نہیں۔۔اور انہوں نے اپوزیشن کو جو حربے استعمال کرنے پر مجبور کیا  اس سے اپوزیشن کا چہرہ بھی عوام کے سامنے آگیا،اس سے امید کی جارہی ہے کہ وزیراعظم کو اگلے الیکشن میں مدد ملے گی، اس کی ایک جھلک ہم نے کل ہی خیبر پختونخوا الیکشن میں دیکھ ہی لی۔جہاں یکدم عوام نے اپنا ذہن بدلہ اور پی ٹی آئی کو بڑے پیمانے پر ووٹ پڑے۔۔اپوزیشن کی جانب سے سندھ ہاؤس اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں جو کچھ ہوتا رہا وہ سوشل میڈیا کی بدولت عوام نے بخوبی دیکھا۔اسی صورتحال میں وزیراعظم کیلئے عوام کے پاس جانا اورآسان ہوگیاہے۔اور ماہرین اسی  بدلتی صورتحال اور دوبارہ حاصل مقبولیت ہی کو عمران خان کا اصل سرپرائز قراردے رہے ہیں۔

President arif Alvi dissolves National Assembly on PM Imran khan’s advice

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں