ہمارا شیر روتا کیوں ہے (محمد امین خاصخیلی)


اس روز عجیب واقعہ ہوا۔
ہمارے شیر نے سب کو حیران کردیا۔ بظاہر تو وہ شیر ہی رہا لیکن اس کے اندر کا شیر نجانے کہاں غائب ہوگیا۔
جی ہاں! شیر کے اندر سے شیر غائب۔ یقین کیجئے جناب! میں سچ کہہ رہا ہوں۔ اگر آپ میری طرح سچے اور محب وطن شہری ہیں تو آپ لفظ غائب یا لاپتہ کا مطلب تو سمجھتے ہی ہوں گے۔ ہمارے ہاں تو اکثر چھوٹے چھوٹے بچے غائب یا لاپتہ ہوجاتے ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ انہیں کوئی غائب کردیتا ہے یا وہ اپنی مرضی سے غائب ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بن نگری کے منصف اعلیٰ نے تو اس مسئلے کے حل کیلئے ایک اعلٰی اختیاراتی کمیشن بھی بنادیا تھا۔
خیر یہ ایک الگ بحث ہے۔ اور میرا مسئلہ بھی تو نہیں ہےیہ۔ ظاہر ہے میں ایک شریف شہری ہوں، مجھے ایسے بکھیڑوں میں پڑنا بھی نہیں چاہیے۔
تو میں بات کر رہا تھا اپنے شیر کی۔ بلکہ شیر کے اندر سے شیر کے غائب ہونے کی۔ ہمارے شیر نے عجیب و غریب حرکتیں شروع کردی تھیں۔ وہ شیر جس کی ایک دھاڑ سے پوری کی پوری بن نگری سہم جاتی تھی، اپنی دھاڑ بھول گیا۔ یعنی شیر دھاڑنا بھول گیا، ہے ناں حیرت کی بات۔ اس نے دھاڑنے کی کوشش کی تو بھونکنے لگا۔ اس کے منہ سے بوو بوو کی آواز نکلنے لگی۔
صبح کا وقت تھا جب یہ ماجرا ہوا۔ اس سے پہلے کہ آپ کو آگے کی حقیقت سناوں، یہ بتاتا چلوں کہ صبح ہونے سے پہلے رات کو کیا ہوا تھا۔
صاحب! بڑی ہی بھیانک رات تھی۔ سیاہ گھپ اندھیرا۔ چاند اور تارے نہ جانے کہاں غائب ہوگئے تھے۔ اس سیاہ رات میں اچانک بادل چھاگئے اور زوردار بارش شروع ہوگئی۔ ایسی بارش کہ بس مت پوچھئے۔ بارش کے دوران بن نگری کے ایک حصے میں آسمانی بجلی گری۔ اس سے جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن ہمارے شیر کی دم اس کی لپیٹ میں آکر جل گئی۔ ہمیں تو صبح ہونے پر پتہ چلا کہ ہمارا شیر اب دم کٹا شیر ہے۔ لیکن ہم نے اس بات پر صبر کرلیا کہ چلیں دم کٹا ہی سہی ہے تو شیر ناں۔ !لیکن جب اس نے دھاڑنے کیلئے منہ کھولا تو بھونکنے لگا۔ یاالہٰی! یہ کیا ماجرا ہ!ہماری بن نگری کے سارے جانور پریشان تھے کہ اب کیا کریں۔ ایسے میں کسی داناء نے صلاح دی کہ کیوں نہ ایک ہنگامی میٹنگ بلائی جائے۔ لیکن جانوروں میں اس بات پر اتفاق رائے نہ ہوسکا کیوں کہ اکثریت کا خیال تھا کہ تھوڑا سا انتظار کرلیا جائے۔ شاید شیر پھر سے شیر بن جائے۔
وہ پورا دن گذرگیا لیکن ہمارے شیر نے بھونکنا نہ چھوڑا۔ خیر رات بھی گذرگئی، دوسرا دن آگیا۔ سب کو شدت سے شیر کے دوبارہ دھاڑنے کا انتظار تھا۔ خیر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ ہمارے شیر نے اپنا منہ کھولا اور ۔۔۔۔۔ ارے یہ کیا! بھونکنے کی آواز ختم ہوگئی لیکن اس کی جگہ شیر میاوں میاوں کرنے لگا۔ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کسی کو اپنے کانوں پر یقین نہ آئے۔ سب پریشان کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ پہلے بوو بوو اور اب میاوں میاوں۔
اس مرتبہ سارے جانور ہنگامی میٹنگ پر متفق ہوگئے۔
سب داناء ریچھ کے پاس جمع ہوئے۔ زوردار بحث شروع ہوگئی۔ کہ اب کیا ہوسکتا ہے۔ سب پریشان تھے کہ رحمدل اور عقلمند ہرنی کو تو پہلے ہی بھیڑیے کھاچکے ہیں۔ اب سب کا محافظ شیر بچا تھا لیکن وہ بھی شیر نہیں رہا۔ کریں تو کیا کریں۔
میٹنگ جاری تھی کہ اطلاع آئی کہ شیر نے میاوں میاوں بند کردی ہے۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رونا شروع کردیا ہے۔ بن نگری کے جانور تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ سنا ہے کہ بس اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ شیر کو اب پنجرے میں بند کردیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں