ریڈ زون انٹری پر ساوتھ پولیس، اساتذہ میں جھڑپ، لاٹھی چارج

کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے والے اساتذہ کی بڑی تعداد پولیس کا حصار توڑتے ہوئے ریڈ زون میں واقع سندھ اسمبلی تک جا پہنچی۔

ساوتھ پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کرکے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی گئی، جس پر شدید ہنگامہ آرائی بھی ہوئی۔

نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ اور بیسک ٹیچرز کا احتجاج اس وقت پرتشدد ہوگیا، جب اساتذہ سندھ اسمبلی پہنچنے کی کوشش میں پولیس کا گھیراو توڑکر ریڈ زون میں داخل ہوئے، مظاہرین میں خواتین اساتذہ بھی شامل تھیں۔

اساتذہ نے حکومت سندھ کے خلاف نعرے بازی کی اور تقاریر بھی کیں۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے مزید نفری بلوائی، پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کے ساتھ آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران خواتین اساتذہ بھی زخمی ہوگئیں، پولیس نے متعدد اساتذہ کو گرفتار بھی کرلیا۔

اساتذہ نے موقف پیش کیا کہ انہیں 26 سال سے مستقل نہیں کیا جارہا، 3 جون کو انہیں سیکریٹری تعلیم نے یقین دلایا تھا کہ انہیں مستقل کیا جائے گا تاہم 1 ماہ گزرنے کے باوجود بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا، مطالبات کی منظوری تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں، خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی۔

دریں اثنا سیکرٹری تعلیم کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اساتذہ نے احتجاج ختم کردیا، سیکرٹری تعلیم نے مطالبات کی منظوری کیلئے سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کرنے کی یقین دہانی کروادی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں