محکمہ پولیس دور حاضر کے تناظر میں(نائلہ مشتاق)

محکمہ پولیس جب سے عمل میں آیا ہے اس کا کام ملک میں امن و امان قائم رکھنا ہےلیکن محکمہ پولیس کا ذکر آتے ہی لوگوں میں خوف و ہراس کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے حالانکہ یہ محکمہ عوام کے جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔ پوری دنیا کے ممالک میں یہ محکمہ اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہا ہے ہمارے ملک پاکستان میں بھی یہ محکمہ اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے مگر زیادہ تر معاملات سیاست کی نظر ہو جاتے ہیں۔ کافی افسران بہت ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں.
جس طرح ہر جگہ اچھے برے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح اس محکمےمیں بھی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے اگر محکمہ پولیس اپنے فرائض بہتر طور پر ایمانداری اور محنت کے ساتھ سرانجام دینا شروع کر دے تو ہمارے ملک میں نہ جرم رہے نہ جرم کرنے والا۔ ناقص تفتیش کی وجہ سے کئی ملزمان قانون کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے سلاخوں کے پیچھے سے نکل کر جرم کی دنیا میں در آتے پھرتے ہیں۔ اگر محکمہ پولیس کو حکومت اپنے احکامات اور سیاسی اثر سے چھٹکارا دلادیں تو شاید اس محکمہ کی کارکردگی بہتر ہو سکے اور مجرم دم دبا کر بھاگنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
کافی دفعہ یہ سامنے آتا ہے یا یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ پولیس ہمیشہ وقوعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچتی ہے اس چیز کو بہتر بنانے کے لئے محکمہ پولیس میں عملہ میں اضافہ کرنا چاہیے اور جس طرح دیگر محکمہ جات کیطرح وقت سے زیادہ کام کرنے پر پولیس افسران کو بھی اوورٹائم دیا جانا چاہیے۔ ہر آنے والی حکومت پولیٹیکل فری پولیس کے نعرے لگاتی ہے لیکن حکومت میں آنے کے بعد اس محکمہ کو اپنے پروٹوکول کے لئے استعمال کرتی ہے اور ساری نفری پروٹوکول میں مصروف رہے گی تو عوام کے مسائل کو حل کرنا مشکل ہوجائے گا اگر پولیس افسران میں تفتیشی کو صرف مہینے میں چار یا پانچ مقدمے دیئے جائیں تاکہ جن کی وہ ایمانداری سے تفتیش کرے توتفتیشی پر کام کا دباؤ کم پڑے گا اور وہ اپنی صلاحیتوں کوبہتر طور بروئے کار لا سکے گا کیوں کہ عدالتوں میں حاضری کے لیے تفتیشی جاتا ہے اس کو آنے جانے کی سہولت فراہم کی جانی ضروری ہے تاکہ وہ وقت پر عدالت میں پیش ہو سکے۔
کارکردگی کے مطابق ان کی ترقی اور سزا پر عمل درآمد ہونا بھی ضروری ہے۔ ہر پولیس آفیسر میں خوف خدا اور عوام کی خدمت کے جذبہ سے سرشار کر نے کے لیے باقاعدہ تربیت ہفتہ وار دینی چاہیے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ضروری ہے تاکہ کسی شہری کی حق تلفی نہ ہو اس محکمہ میں تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے ریڈ کرنے کے لیے علیحدہ نفری کے ساتھ ساتھ نئی گاڑیاں بھی فراہم کرنی ضروری ہے اور تھانہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تھانے کے کیسز کو چھوٹے چھوٹے سیل بنا کر ان میں تقسیم کر دیے جائیں اور ہر تفتیشی افسر کو اس کی علیحدہ ڈیوٹی دی جائے تاکہ اس سے اس کے کام کی باز پرس کی جاسکے .
پولیس افسران کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرائی جائے تاکہ وہ اپنی فیملی کو بھی وقت دے سکیں اور غصہ عوام پر نہ نکلے اگر اس ایک محکمہ کو درست کر دیا جائے اور عوام اور پولیس کے درمیان ایک ربط قائم ہوجائے تو اس ملک کی ترقی اور امن و امان سے کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی کافی تفتیشی افسران اعلی عدلیہ میں حاضری کے لیے آتے ہیں ان کےTA DA کا بندوبست کرنا محکمہ کی ذمہ داری میں شامل ہونا چاہئے تاکہ اس محکمہ کو کرپشن سے پاک بنایا جا سکے تاکہ جرائم سے پاک معاشرے کی تکمیل کی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں