ریاست اور حکومت (مرزا شجاع بیگ)

گزشتہ چند دنوں سے وطن عزیز میں ایک عجیب سی سیاسی افراتفری مچی ہوئی ہے جس میں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ ہے جبکہ وطن عزیز میں دہشت گردی پھر سے سر اٹھا رہی ہے، حالانکہ دہشت گردی کا قلع قمع ہونے کے قریب قریب تھا لیکن امن و امان کی صورتحال پھر سے بگڑتی جارہی ہے، گزشتہ دو ماہ کے دوران جب سے حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف جلسوں کا آغاز ہوا ہے تب سے ملک میں غداری کے سرٹیفیکیٹ تھوک کے حساب سے بٹتے نظر آرہے ہیں اس ساری سیاسی ابتری اور افراتفری کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا، میری نظر میں حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس ساری افراتفری کی برابری کی بنیاد پر ذمہ دار ہیں، حکومت کے چند ترجمان گزشتہ دو برس میں تقریبا اپنی ہر پریس کانفرنس میں یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ ان کی حکومت کو ریاستی اداروں کی مکمل مدد اور تائید حاصل ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر حکومت کو ریاستی اداروں کی مکمل مدد اور تائید حاصل ہوتی ہے لیکن کسی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی حکومت کی ناکامیوں کا جواب دینے کے بجائے ریاستی اداروں کے پیچھے چھپ جائے یا ریاستی اداروں کو شیلٹر کے طور پر استعمال کرے.
میرے خیال میں پہلے تو اس حکومت کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ترجمانوں کی ایک فوج بنا رکھی ہے جو موج کر رہی ہے جو کام اطلاعات و نشریات اکیلی کر سکتی ہے اسے کرنے کے لئیے ترجمانوں کی یہ فوج دن رات مصروف عمل ہے اگر تمام حکومتی ترجمان صرف حکومت کی ترجمانی کرتے تو بات کسی حد تک درست سمجھی جا سکتی تھی لیکن حکومت کے بجائے ریاستی اداروں کی ترجمانی بھی جب ان ترجمانوں کی طرف سے کی جانے لگی تو یہ بات آج اس حد تک پہنچ چکی کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ بات کہاں تک جا کر رکے گی اس تمام افراتفری اور مسائل کی ایک بڑی وجہ میری نظر میں یہ ہے کہ جب آپ سیاست اور حکومت میں موجود واضح فرق کو ختم کرتے نظر آئیں گے جب آپ کی طرف سے بار بار یہ اعلان کیا جائے گا کہ حکومت اور ریاست ایک ہی پیج پر ہیں، آپ کو یہ تائثر دینے کی بار بار ضرورت کیوں پڑ رہی ہے بات اس حد تک رہتی تو کچھ سمجھ میں آ سکتی تھی لیکن جب آپ یہ تائثر دیں کہ حکومت کی ناکامی خدانخواستہ ریاست کی ناکامی بھی ہوگی اور اپنی ہر آئینی اور غیر آئینی امور کی انجام دہی میں ریاستی اداروں کو بلاوجہ استعمال کرتے نظر آئیں گے تو یہ کسی طور بھی کسی فریق کو قابل قبول نہیں ہو سکتا.
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس میں کسی کو بھی کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ حکومت ناکام بھی ہوتی ہے، حکومت کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے حکومت ختم بھی ہو سکتی ہے، ایک حکومت ختم ہو جائے تو دوسری حکومت اس کی جگہ لے لیتی ہے لیکن ایک ریاست کا وجود اٹل ہوتا ہے ریاست کا وجود خطرے میں ہو تو یہ کسی طور بھی کسی محب وطن کو قابل قبول نہیں ہوتا، ریاست ہمیشہ قائم رہتی ہے اس تمام افراتفری اور بے یقینی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ریاست کو اپنا وجود قائم رکھنا ہے اور کسی طور بھی کسی حکومت یا کسی ترجمان کے کسی امور کی ذمہ داری نہیں لینی چاہیے اور واضح طور پر اپنا موقف دینا چاہیے تاکہ لوگ ریاست اور حکومت کے ایک پیج پر ہونے کو یہ نہ سمجھیں کہ خدانخواستہ کسی ناکام حکومت کی ناکامی ہی ریاست کی ناکامی بھی ہے، ہماری سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر سابقہ اور بشمول موجودہ حکومت نے کسی طور بھی یہ کوششیں نہیں کی کہ حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے یا اس ضمن میں کچھ کام کیا جائے، ہر بار حکومتی امور کی انجام دہی کے لیے ریاستی اداروں کا سہارا ہی لیا گیا ہےجب ہم ایک ادارے کا کام دوسرے ادارے سے لے رہے ہوتے ہیں تو یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ ادارہ ناکام ہوچکا ہے، یا اس ادارے میں اتنی سکت ہی نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دے سکے، یہ ایک بہت بڑا سوال ہے الیکشن کمیشن کیوں اس قابل نہیں کہ ملک میں صاف و شفاف الیکشن کروا سکے کیوں بار بار کسی اور ادارے کی مدد کی ضرورت پیش آتی ہے، کیوں بار بار رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی ضرورت پیش آتی ہے، کیوں ملک میں موجود پولیس نظام کو بہتر نہیں بنایا جاتا، کیوں فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ ملک میں موجودہ عدالتی کے ڈھانچے کو اس حد تک فعال نہیں کیا جاسکتا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت ہی پیش نہ آئے، کیوں مردم شماری تک کے کام کو کرنے کے لئے اس کا متعلقہ محکمہ قاصر رہتا ہے کہ ہر بار دوسرے ادارے کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے،ان تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی بھی حکومت اپنا کردار احسن طریقے سے پوری طرح سے ادا ہی نہیں کر تی، اداروں میں چیک اینڈ بیلنس نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں، ڈیم بنانا حکومتوں کے کام ہوتے ہیں کسی اور ریاستی ادارے کا یہ کام نہیں ہوتا اس ساری ابتری افراتفری اور بے یقینی کی صورتحال کا واضح حل بھی پاکستان کے 1973 کے آئین میں درج ہے، تمام حکومتی اور ریاستی اداروں کو آئین میں درج اس حل پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کرنا چاہیے، آئین میں ہر ریاستی ادارے کا اپنا اپنا کردار درج ہے اگر ہر ادارہ صرف آئین میں درج اپنے فرائض منصبی کو پورا کرے تو تمام مسائل اور تمام بے یقینی کی کیفیت کا خود بخود خاتمہ ہو جائے گا جب آئین میں دیئے گئے اپنے امور کو چھوڑ کر ہر ادارہ دوسرے اداروں کے کام میں مداخلت کرنا شروع کردے جب حکومت اپنے امور کو چھوڑ کر کسی اور ریاستی ادارے کی خودساختہ ترجمانی کرنے کے کام میں لگ جائے یہ اور اس طرح کی لاتعداد مثالیں ہیں جن کی وجہ سے ہمارا ملک سیاسی معاشی اور اقتصادی طور پر آج تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے اور ہم آج کسی طور بھی آئین میں درج اپنے فرائض سر انجام دینے کو تیار ہی نہیں بلکہ دوسرے اداروں کے کام میں مداخلت کو ہم نے اپنا آئینی حق تصور کرلیا ہے تو یہ بہت خطرناک صورتحال ہے اور ہمارا ملک اس قسم کی خطرناک صورتحال سے گزر رہا ہے تمام ریاستی اداروں کو سرجوڑ کر ملک کو اس خطرناک صورتحال سے نکالنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اور یہی حالات کا تقاضا اور وقت کی ضرورت ہے کہ تمام ریاستی اداروں کے درمیان ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک جامع مذاکرات یا ڈائیلاگ کا انعقاد کیا جانا چاہیے اور تمام ادارے مل کر باہمی طور پر ایک معاہدہ کریں جس میں اس بات کا عہد کریں کہ وہ آئندہ آئین میں درج اپنے اپنے دائرہ کار سے کسی صورت بھی باہر نہیں جائیں گے اور ایک دوسرے کے امور میں کسی طور پر مداخلت نہیں کی جائے گی اسی میں ریاست کی بقاء اور اسی میں آٸندہ آنے والی حکومتوں کی کامیابی کا راستہ بھی پوشیدہ ہے۔ پاکستان زندہ باد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں