معاشی بہتری کیلئے کچھ ہٹ کر کرنا ضروری..

پی ٹی آئی کی نئی حکومت بھی آئی ایم ایف سے قرضے لینے جارہی ہے۔۔متوقع وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ ملک چلانے کیلئے قرضے لینے کے سوا اورکوئی چارہ نہیں۔۔حالانکہ سب کو یاد ہے کہ عمران خان باربار یہ بات کہتے آئے ہیں کہ ملک پرقرضوں کا بوجھ ترانوے ارب ڈالرتک پہنچ گیا ہےجس کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں۔۔

ملک کی جاری بدترین معاشی صورتحال میں اگرپی ٹی آئی کی حکومت بھی آئی ایم ایف سے رجوع کرتی ہے تو یہ پی ٹی آئی کیلئے دو طرح سے بڑا امتحان ثابت ہوگا۔۔ایک تو یہ کہ اس کے ان دعووں کی نفی ہوگی کہ ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات دلائیں گے،دوسرے یہ کہ اس سے ملک کے معاشی بحران اورمہنگائی میں اس قدراضافہ ہوگا کہ پی ٹی آئی کےمعاشی بہتری کے دعووں کی نفی ہوجائے گی۔

یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ پی ٹی آئی اپنے پہلے سو دن کے پروگرام میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کرنا چاہتی ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کیلئے تقریبا اڑتالیس ارب ڈالر یا پچاس کھرب پاکستانی روپوں کی ضرورت پڑے گی۔۔اس منصوبے کیلئے سرمایہ کاری کا بندوبست کیسے ہوگا،قومی وسائل سے تو کم از کم اس سرمایہ کاری کا بندوبست ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔۔لہذا اس کے لئے بھی غیرملکی امداد کی ضرورت پڑے گی۔۔شاید اس سلسلے میں چین سے سی پیک کی طرز پر کوئی نیا پیکیج لینے کی ضرورت پیش آئے۔مالیت کے اعتنبار سے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کی مالیت بھی سی پیک کے برابر ہی بنتی ہے۔

پی ٹی آئی کے حامی ہوں یا مخالفین ۔۔یہاں یہ بات سب کو اچھی طرح سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ پی ٹی آئی کی اپنی کوئی منفرد معاشی پالیسی موجود نہیں ہے۔۔گُڈ گورننس اور کرپشن پر قابو پانے کا عزم قطعی طور پر معاشی پالیسی نہیں ہوتا۔اسی طرح روزگار دینا اور ترقیاتی منصوبے بنانا بھی معاشی اقدامات ہوتے ہیں،انہیں معاشی پالیس نہیں کہا جاتا،کیونکہ ان سب اقدامات کیلئے ہم کو انداز وہی روایتی ہی اپنانا پڑتا ہے، یعنی قرضے لینا اور نئے ٹیکس لگانا وغیرہ ۔۔

پی ٹی آئی کے متوقع وزیرخزانہ کے خیالات سے لگتا ہے کہ ہم پھر وہی پرانے انداز معیشت، یعنی اندھا دھند اوپن مارکیٹ اورآزاد معیشت کے اسی میدان میں کودنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جس میدان میں ماضی کی حکومتوں نے سوچے سمجھے بغیر قدم رکھا اوراپنی خود مختاری آئی ایف ایف ،ورلڈ بینک اور بڑی طاقتوں کے پاس زرمبادلہ کے عوض گروی رکھتے گئے۔

دنیا میں جس نظام کو آزاد معاشی نظام کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت ترقی پزیر ممالک کو جال میں پھانسنے کا نظام ہے، جس میں پاکستان سمیت لاطینی امریکا، ایشیا اور افریقہ کے درجنوں ممالک پھنسے ہوئے ہیں۔۔سرمایہ دارانہ نظام کا شکار ان ملکوں کے عوام صرف ایک خریدار کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں جن کی محنت کی کمائی ہر ماہ معاشی لہروں پر ہوتی ہوئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے زریعے سرمایہ داریت کے “مراکزخطوں” میں منتقل ہوجاتی ہے۔۔

نئے پاکستان میں پی ٹی آئی کو ایک منفرد معاشی نظام پیش کرنا ہوگا، جس میں “ترقی” کو نجی سرمایہ کاری سے مشروط کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔اس حوصلہ شکنی کا مقصد یہ نہیں کہ انھیں قومیا ہی لیا جائے، بلکہ اسے قومی ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے اور ان پر عوامی مفادات کے مطابق موثر کنٹرول ضروری ہے۔دوسری بات یہ زبردستی ان اداروں کی نجکاری سےبھی گریز کیا جائے، جن کو بہتر بنانا ممکن ہےاس طرح اس رجحان کا خاتمہ ہوگا کہ جیسے آپ کو یاد ہوگا کہ پی ٹی سی ایل کو اس لئے پرائیوٹائز کیا گیا تھا کہ تاکہ ایتصلات اور دیگر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری کے مقابلے پرکسی ایسے ادارے کونہ پائیں جسے سرکاری سب سڈی دی جاسکتی ہو۔۔

اس وقت ملک میں لوہا بنانے والا سرکاری کارخانہ کوئی موجود نہیں ہے، پاکستان اسٹیل ملز کو دو ہزار بارہ میں اس وقت کی سیاسی حکومت نے اپنی نااہلی اورکرپشن سے نہ صرف تباہ کیا بلکہ بند ہی کرادیا۔کہنا یہ ہے کہ کوئی حرج نہیں کہ سرکاری اسٹیل مل کو دوبارہ چلا دیا جائے یا پھر نیا سرکاری کارخانہ لگادیا جائے۔

پاکستانی عوام پر آج جتنے بھی براہ راست یا بالوسطہ ٹیکسز لگے ہوئے ہیں، ان میں سے ذیادہ تر وہ ٹیکسز ہیں جو ہم نے آئی ایف ایف سے معاہدوں کی شرائط کی روشنی میں لگائے ہیں۔یوں کسی عالمی ادارے سے ڈکٹیٹ ہونا بھی اپنی خودمختاری کو گروی رکھنے کے برابر ہوتا پے۔اس لئے اس روش کا بھی مکمل خاتمہ کرناہوگا۔۔

پاکستان تحریک انصاف اگر ملک کو کنٹرول اور آزاد معیشت کی ملی جلی معتدل پالیسی دینے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ قوم اور ملک پر بڑا احسان ہوگا۔۔اس سے ہمیں آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن سے بھی نجات ملے گی اور پی ٹی آئی یہ دعوی بھی کرسکے گی کہ اس نے ملک کو ماضی سے ہٹ کر کوئی معاشی نظام دیا ہے۔


(شعیب واجد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں