ہم زندہ قوم ہیں۔۔پائیندہ قوم ہیں سچی (شعیب واجد)

یہ زندہ قومیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔بات بات پراکڑجاتی ہیں،زرا سا بھی لحاظ ہی نہیں کرتیں۔ابھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے۔۔امریکا نے ترکی کےاسٹیل اورالمونئیم پربھاری ڈیوٹی لگادی،جس سے ترک معیشت ہلنے لگی۔۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ترکی امریکا سے بات چیت کرتا اور وزیرخارجہ کو فوری واشنگٹن روانہ کرتا۔ لیکن خودداری کے مارے یہ لوگ پھر اکڑ گئے۔اورلگے آنکھیں دکھانے۔۔
ترک وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ترکی بھی امریکی اقدام کا برابرکا جواب دے گا۔اورامریکی مصنوعات پر اسی تناسب سے ڈیوٹی لگائی جائے گی۔چلو اتنی بڑی بات کردی تھی کافی تھی، بعد میں چپ ہوجاتے۔۔لیکن اگلے ہی عملی اقدام بھی کرڈالا،اورامریکی چاول، مشروبات، تمباکو، گاڑیوں اورکاسمیٹکس پربھاری ڈیوٹی لگادی۔جس سے امریکی برآمدکنندگان اپنی حکومت پرہی چیخ پڑے کہ مسئلے کا حل نکالو بھائی۔۔

چلو ترکی کو تو چھوڑو۔۔کینیڈا کی بات کرتے ہیں۔۔بڑا پُرامن اورانسانی حقوق کا علم برداربنتا ہے،لیکن مُروت اس میں بھی نام کو نہیں۔ابھی دو مہینے پہلے کی بات ہے،امریکا نے کینیڈا کی مصنوعات پربھی بھاری ڈیوٹی لگادی۔۔پڑوسی ملک ہونے کے ناطے کینیڈا کو معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرلینا چاہیئے تھا۔۔لیکن انھوں نے اس کے الٹ کیا۔۔وزرا کے دورے منسوخ کردیئے۔۔دھمکیاں الگ دیں۔۔اسی پر بس نہیں کیا۔۔زرا سا انتظار کئے بغیر ہی امریکی مصنوعات پر بھاری ڈیوٹیاں بھی عائد کردیں جس سے بلاوجہ کشیدگی بڑھ گئی۔۔یہ خودداری اورعوام کی آواز بھی نجانے کیا کیا کام کرواتی ہے ان خودمختار کہلانے والےملکوں کی قیادت سے ۔۔

اب آتے ہیں اصل بات کی طرف۔۔اس پوری تمہید کا مقصد یہ بتانا تھا کہ خیرسےامریکا بہادر،جو پاکستان کا پچاس کروڑڈالر کا کولیشن سپورٹ فنڈ پہلے ہی روک چکے ہیں،نے بقایا تیس کروڑڈالر کا فنڈ بھی روک لیا ہے۔ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کی فرنٹ لائین اسٹیٹ ملک پرالزام لگایا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف “مناسب” کارروائی میں ناکام رہا ہے۔
لیکن بھلا ہو پاکستان کی نئی حکومت کا۔۔جس نے ماضی کی حکومتوں کی طرح کوئی چوں چرا نہیں کی۔۔اس امریکی اقدام کو خیر سے اڑتالیس گھنٹے ہونے والے ہیں۔لیکن تاحال کوئی ایسا ردعمل سامنے نہیں آیا جس سے امریکیوں کے دل کو کوئی ٹھیس پہنچے ۔خودداری کوئی، اقدام جوابی اقدام، کا نام ہے بھلا ؟

کوئی کہہ رہا تھا کہ امریکا نے کولیشن سپورٹ فنڈ بند کیا تو جوابی اقدام کے طور پر ہمیں کولیشن سپورٹ ہی بند کردینی چاہیئے۔۔لو جی ،ایسا پچھلے سولہ سال میں کسی نے نہیں کیا،تو اب کرکے کیوں ریکارڈ خراب کریں۔۔
ایک صاحب نے کہا کہ امریکی وزیرخارجہ کے دورے کی میزبانی سے فی الحال معزرت کرلی جائےجیسے دوسرے ملک کرلیتے ہیں۔ ویسے حد ہے، مہمان تو رحمت ہوتے ہیں۔۔
کیا کہا؟
یہ مہمان، اصل میں مہمان نہیں کیونکہ یہ مطالبات کی فہرست لیکرآرہے ہیں؟چلوخیر ہے کوئی حملہ کرنے تو نہیں آرہے نا۔۔خوامخوا ہم زندہ قوم ہونے کا نعرہ لگا کران کا دورہ ہی منسوخ کردیں؟
ویسے بھی سفارت کاری میں اکڑمعاملہ خراب کرتی ہے۔۔ہم تمام ترخلوص اورپیار دکھائیں گے۔اور ہاں ۔ کوئی ناقد ہمارے اس پیار اور خلوص کو معزرت خواہانہ روئیے کا نام نہیں دے۔ شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں