خاموشی کی گونج (معصوم رضوی)

کسی معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ بڑی فکر، سوچ اور بڑے آدمی پیدا ہونا ختم ہو جائیں، ایسے معاشرے جیتے تو ہیں مگر زندہ نہیں ہوتے۔ فرد کی طرح معاشرے کی بھی شخصیت ہوتی ہے، اپنی فکر، مزاج اور جبلت ہوتی ہے۔ بڑا معاشرہ وہ ہوتا ہے جو انسان کو تبدیل کر دے اور بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو معاشرے کو تبدیل کی صلاحیت رکھتا ہو، اپنی فکر، عمل اور شخصیت سے اجتماعی سوچ پر اثرانداز ہو سکتا ہو۔ انسان کی طرح معاشروں کے مختلف روپ ہوتے ہیں، قدامت پرست، جدت طراز، استعماری، فلاحی، بہادر، بزدل، معتدل، انتہا پسند، سمجھوتہ کرنے، ظلم سہنے والا یا ظالم کا ہاتھ پکڑنے والا، حساس، بے حس، خاموش یا رد عمل دینے والا حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شخصیت کی طرح معاشرہ بھی رنگا رنگ کردار کا حامل ہوتا ہے۔ رنگ، نسل، زبان، تاریخ، جغرافیہ، ثقافت، روایات کے تانوں بانوں سے بنا چہرہ ہی معاشرے کا عکاس ہوتا ہے، کس طرح مسائل سے نمٹتا ہے، وسائل کو کیسے استعمال کرتا ہے، فرد اور خاندان کو کتنی اہمیت، تشکیل شدہ نظام معاشرتی اکائی کیلئے کتنی اور کیسی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

کسی بھی معاشرے کی تنزلی کا پیمانہ یہ ہے کہ نئی فکر، سوچ اور خیال ناپید ہو جاتے ہیں سو بڑے لوگ پیدا نہیں ہوتے۔ مگر یہ سب یکایک نہیں ہوتا صدیوں یا عشروں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ فکر ممنوع اور سوچ کو یرغمال بنا لیا جائے، سوال کفر اور آواز اٹھانا غداری جانا جائے تو نہ سوال مرتے ہیں، نہ آوازیں گونگی اور فکر بانجھ ہوتی ہیں، یہ ضرور ہے کہ معاشرہ تعفن اور گھٹن کے شکنجے میں آ جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ریاستی گھٹن اور معاشرتی قدغن میں بکھری بکھری سرگوشیاں کسی بھی وقت چیخ کی صورت اختیار کر لیتی ہے، ایسی ہولناک چیخ جو معاشرے کو تہہ و بالا کر دے۔ سماجی جبر کی انتہا عوامی انقلاب ہوا کرتا ہے، فکری نہیں تو خونی سہی، جو اپنے پرائے پہچانے بغیر سب کچھ بہا کر لیجاتا ہے۔ کبھی غور کریں کچھ عجب صورتحال ہے جب جب عظمت کا تذکرہ مقصود ہو جانے انجانے ماضی میں جانا پڑتا ہے۔ دور کیوں جائیں ماضی قریب کا جائزہ لیتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ اب بھٹو، ولی خان، شیر باز مزاری نہیں پیدا ہوتے۔ جسٹس کارنیلس اور ایم آر کیانی، کوئی عبدالسلام، عبدالقدیر، کوئی جوش، فیض اور فراز، کوئی چغتائی، صادقین نہیں ملتا، عاصمہ جہانگیر، عبدالستار ایدھی نظر نہیں آتے۔ کوئی سلیمان ندوی، ابولاعلی مودودی، سبط حسن، اقبال احمد، کوئی نثار عثمانی، الطاف حسین اور ضمیر نیازی نہیں ملتے، حتیٰ کہ جہانگیر خان، ظہیر عباس، عمران خان، جاوید میانداد اور وسیم اکرم جیسے کھلاڑی بھی نہیں ملتے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے اسکو معاشرے کے ہر پہلو، ہر شعبے اور رویے پر منطبق کیا جا سکتا ہے، آخر اس معاشرتی زوال کی کوئی تو وجہ تو ہو گی۔

پاکستان سیکولر ریاست بننا تھا یا اسلامی، قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر پر عالمانہ مباحثوں کی دھند میں سچ کہیں کھو چکا ہے سو مجھ جیسا کم علم کیا کہہ سکتا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ قائد اعظم نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا کہ پاکستان ریاستی جبر اور ملائیت زدہ معاشرہ ہو گا۔ ایسا خواب تو اقبال نے بھی نہیں دیکھا تھا شاید یہ وہی ملائیت ہے جس سے شاعر مشرق ہمیں خبردار کرتے رہے۔ بوجوہ رفتہ رفتہ اقبال کا اس طرح کا کلام اور قائد اعظم کے ایسے فرمودات جو نوتشکیل شدہ ریاستی بلکہ استعماری بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے قومی یادداشت سے حذف کیے جا رہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے بیشمار تاریخی حقائق کو جھوٹ کی گھٹا ٹوپ دھند میں پوشیدہ کیا جا چکا ہے۔ بات کہیں اور نکل گئی عرض یہ ہے کہ جب ریاستی بیانیے کو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے تو ایسا اجتماعی جہل جنم لیتا ہے جو بنیادوں کا کھوکھلا اور نسلوں کو دوغلا بنا جاتا ہے۔ پاکستان میں ابتدا سے ہی خود ساختہ ریاستی مفادات کو قومی اورعوامی مفادات پر ترجیح دی گئی، مقتدریہ نزدیک قومی مفاد وہی ہے جو ریاستی اداروں کی ٹکسال سے کندن بن کر نکلا ہو، کبھی بیرونی اور کبھی اندرونی دشمنوں کا خوف دھشت کا واویلا تو کبھی ریاست کو درپیش خطرناک مسائل کا خوف دلا کر، ظاہر ہے حب الوطنی سے لتھڑے قومی بیانیے اٹھتی ہر آواز غدار کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔ مسلط کردہ استعماری بیانیے میں مذھب کا کردار بھی نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے، اللہ اور بندے کے براہ راست رابطے کے درمیان ملا در آتا ہے کبھی ترجمان تو کبھی نگہبان کے روپ میں، قومی مفاد کے پیش نظر ریاستی سرپرستی میں تعلیم و تبلیغ کے تحت نسل کی فکری و ذھنی تشکیل کی جاتی ہے۔ ایسے علمی اور مذھبی نظریات و تحقیق کی قطعی اجازت نہیں ہوتی جو سوال کو جنم دے سکے، سچ تک پہنچنے کی ہر سوچ کی تالہ بندی اور کڑا پہرا لگا دیا جاتا ہے، ایک ایسی نسل کو پروان چڑھایا جاتا ہے جو مسلط کردہ استعماری بیانیے کے تقدس پر اپنی جان نچھاور کر سکے۔ ریاستی مفاد کو عوام الناس کی ناقص رائے پر چھوڑ کر قومی یکجہتی کو خطرے میں نہیں ڈالنے کی اجازت تو نہیں دی جا سکتی ہے ناں !
بڑی فکر، بڑے لوگ پیدا نہ ہونا تو ایک المیہ ہے مگر اس سے زیادہ المناک حقیقت یہ ہے کہ بونے انکی جگہ لے لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد عوام الناس بونوں کو دیو مان کر پوجا پاٹھ شروع کر دیتے ہیں، پھر مقدس جھوٹ معاشرتی شعور کو نگل جاتا ہے۔ تاریخ کی اپنی مرضی و منشا کے مطابق تعمیر نو کی جاتی ہے اور حقائق کو اعزاز کیساتھ دفنا دیا جاتا ہے۔ دیوزاد بونے پورے معاشرے کو بونا بنا دیتے ہیں، پھر ہوتا یوں ہے کہ آپ کا سچ دنیا کیلئے جھوٹ، آپ کا سفید دنیا کیلئے سیاہ، آپکی خود ساختہ حقیقت دنیا کیلئے ایک تماشہ بن جاتی ہے۔
حبس زدہ سکوت میں اٹھتی بے معنی آوازیں بڑی بامعنی ہوتی ہیں، احساس محرومی، گھٹن، طبقاتی تفریق کے خلاف مزاحمت کے خلاف فریاد، کاش انہیں غدار اور کافر قرار دینے کے بجائے توجہ اور انصاف دیا جا سکے۔ فریاد مقتدر قوتوں کے خلاف ہوتی ہے جنہیں ریاست اور مذھب کے خلاف بنا دیا جاتا ہے چونکہ اس جنگ اور نا انصافی میں طبقہ اشرافیہ خود پس پردہ رہنا چاہتا ہے۔ عام انسان کو بنیادی سہولیات نہیں دے سکتے تو کم از کم جینے کا حق تو دیں، عوام کو لال مسجد اور لال لال لہرانے سے کوئی سروکار نہیں، عام انسان کو نہ ملائوں سے کوئی غرض ہے نہ لبرل دانشوروں سے، وہ تو صرف اپنی زندگی جینا چاہتے ہے اپنی مرضی کی، خدارا عوام کی کنپٹی سے خوف و دہشت کی پستول ہٹائیے۔ نوشتہ دیوار پڑھیں، ماضی گزر چکا، حال گلوبل ولیج کی عظیم معلوماتی دنیا میں جی رہا ہے، نئی نسل ہم سے بہت آگے ہے، نوجوانوں کا بڑھتا اضطراب، اعتراضات اور دلائل کچھ اور ہی داستان سنا رہے ہیں، چیختی چنگھاڑتی خموشی پر کان دھریں۔ مراعات یافتہ طبقے کی فلاحی ریاست کو بالجبر قومی سلامتی ریاست میں تبدیل کرنے کا سازش میں اب دم نہیں رہا، ہر طرف خموشی گونج رہی ہے ایسا نہ ہو کہ خاموش اکثریت کی قوت برداشت جواب دے جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں