نشوی بھی ٰچلی گئی.اسپتال یا اذیت گاہیں؟؟

کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج کمسن بچی نشویٰ بھی چل بسی ..بچی کا دماغ 71 فیصد مفلوج ہو چکا تھا۔ 
9 ماہ کی نشویٰ کو 6 اپریل کو گلستان جوہر کے نجی اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں غلط انجکشن لگنے سے وہ دماغی طور پر مفلوج ہوگئی تھی.
ہمارے اسپتالوں میں مریض ڈاکٹروں اور ان کے اسٹاف کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں.دوران علاج مریض کے لواحقین سے ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے کہ وہ بس خاموشی سے علاج ہوتا ہوا دیکھتے ہیں اور خدا سے دعائیں کرتے ہیں..
اسپتالوں کے ڈاکٹر اور عملہ نہ صرف نااہل ہوتے ہیں بلکہ چڑچڑے بھی ہوتے ہیں یوں یا تو لواحقین ان سے سوالات سے اجتناب کرتے ہیں یا پھر برداشت حد سے گزرنے پر جھگڑے ہوتے ہیں..
نشویٰ کو غلط انجکشن لگانے کے معاملے کی تحقیقات تو جاری ہیں اور اس سلسلے میں اسپتال کے ایڈمن اور نرسنگ انچارج سے پولیس حراست میں تفتیش کی جارہی ہے جب کہ اسپتال مالک عامر چشتی کو بھی تفتیشی افسران نے ایک اور نوٹس بھیجا ہے..
تاہم سب کو پتا ہے کہ معاملہ ٹھنڈا ہونے پر کیا ہوتا ہے.پیسہ چلتا ہے کیس لٹکا دیا جاتا ہے. ضمانتیں ہوتی ہیں اور ملزمان پھر اپنے دھندے سے لگ جاتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں