قربانی قرب الٰہی کا ذریعہ‎

تحریر: ندا اسلام۔

مسلم معاشرے کی روح قربانی ہی ہے۔ ایمان تو سچے مومن میں فوری یہ روح پیدا کر دیتا ہے۔ فرعون کے دربار کے جادوگر جو بحثیت جادوگر فرعون سے انعام کے خواہش مند تھے ایمان لانے کے بعد ایسے مومن بنے کہ فرعون کی طرف سے سخت سے سخت سزا بھگتنے کے لئے تیار ہو گئے، جان کی قربانی کے لئے تیار یو گئے ایمان کی خاطر،،، ہجرت مدینہ کے بعد انصار و مہاجرین میں جو بھائی چارہ ہوا اور انصار جو مال کی بڑی سے بڑی قربانی کے لئے اتنے پرجوش ہو گئے تو ایمان ہی تھا جس نے اس مورل سپرٹ کو بیدار کیا۔ گو قربانی کی کلید ایمان ہے، ابراہیم علیہ السلام کو طویل آزمائشوں سے گزارنے کے بعد اسماعیل کی قربانی کا کہا گیا اور وہ اس آزمائش سے بھی بخوبی گزر گئے نتیجتاً ایک طویل عرصے پر مشتمل یہ وفاداری و قربانی قرب الہی کا ایسا ذریعہ ثابت ہوئی کہ قیامت تک کے لئے یہ سنت مسلمان عید الاضحٰی پر نبھاتے ہیں۔

گویا طویل آزمائشوں سے گزرنے کے بعد جو اس قربانی کو بھی صحیح طور پر ادا کرے وہی ابراہیمی سنت ہر چلنے والا ہو گا اور وہی آپ علیہ السلام کی مانند قرب الہی سے فیض یاب ہو سکے گا۔

جو بھی قرب الٰہی حاصل کرنے کا متمنی ہو اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ اللہ کے قرب کا راستہ دشوار گزار ہے، بدر، احد، خندق، موتہ آتے ہیں، ستایا جاتا ہے، تذلیل و تحقیر، تمسخر و تضحیک کی جاتی ہے ہھر جو اس سب سے اللہ کے لئے گزر جاتا ہے اللہ اسے چن لیتا ہے۔

ہابیل و قابیل میں سے ہابیل کی قربانی اللہ نے پتہ کیوں قبول کی،،، کیونکہ اس نیت کی اللہ کو راضی کرنے کی تھی، نیت میں فتور نہ تھا، اس کا عمل اخلاص پر مبنی تھا جبکہ قابیل کی نگاہ دنیاوی مفاد تک محدود تھی اور اللہ جانتا تھا کہ اس کا عمل میرے لئے خالص نہیں چنانچہ اللہ نے خالص اپنی رضا چاہنے والے کی (ہابیل) کی قربانی قبول کی۔

فتح مبین(صلح حدیبیہ) سے پہلے ایمان لانے والے اللہ کی نگاہ میں بڑا درجہ رکھتے بہ نست ان کے جو فتح کے بعد ایمان لائے،،، کیوں؟ کیونکہ اس وقت اسلام کو افراد کار اور ان کی عظیم قربانیوں کی ضرورت تھی مگر جب اسلام کو بالا دستی حاصل ہو گئی تو لوگ جوق در جوق مسلمان ہوئے۔۔۔ کیا پرکھے گئے اور نہ پرکھے گئے لوگ برابرہو سکتے ہیں؟ کیا تن من دھن اللہ کے لئے لٹا دینے والے اور اسلام کو غالب پا کر، اور کوئی چارہ نہ پا کر اسلام لانے والے اللہ کے نزدیک برابر ہو سکتے ہیں۔

کیا امت کے درد میں مبتلا شخص کی قربانی اللہ کو پسند آئے گی یا فلسطین و کشمیر کے غموں سے بے پروا مینڈھوں کی رگیں کاٹنے والے اللہ کی گڈ بک میں آئیں گے؟ آئیں اور کچھ نہیں تو فلسطینی پرچم، رومال، پٹیاں باندھ کر عید گاہوں میں جائیں اور قربانیاں کریں تا کہ ہمارے جانور گواہ ہوں کہ غفلت کی اتھاہ گہرائیوں سے تیرے بندے نکل آئے ہیں لہذا ان کے حلیے کو ان کے سوئے ضمیر کی پہلی علامت سمجھتے ہوئے ان کی قربانی قبول فرما اور انہیں بیت المقدس کو صیہونیوں سے پاک کرنے والے گروہ میں شامل کر۔ امین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں