موٹر سائیکل کی صنعت۔بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی کی ضرورت

پاکستان کے کسی بھی چھوٹے یا بڑے شہر کے کسی اسپتال کی ایکسیڈنٹ ایمرجنسی یا ٹراما سینٹر میں اگر آپ کا جانا ہو یا دو تین گھنٹے آپ کو وہاں رکنے کا موقع ملے تو ایک بہت ہی عام سی چیز آپ کو نظر آئے گی وہ ہے موٹرسائیکل سوار افراد کا بہت بڑی تعداد میں حادثات کا شکار ہو کر ایمرجنسی میں لایا جانا۔ہمارے ملک کے ہر اسپتال کی ایمرجنسی یا ٹراما سینٹر میں روزانہ کی بنیاد پر حادثات کا شکار جو افراد لائے جاتے ہیں ان میں ایک بہت بڑی تعداد موٹرسائیکل سوار افراد کی ہوتی ہے۔ ماہانہ بنیاد پر یہ تعداد سینکڑوں جبکہ سالانہ بنیاد پر یہ تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں تک پہنچتی ہے، بہت سے اداروں کی غفلت و لاپرواہی یا ملی بھگت یہ وہ عناصر ہیں جن کا خمیازہ نوجوان نسل کو بڑے پیمانے پر ہلاکتوں یا دائمی معذوری کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے ان تمام حادثات کا ذمہ دار ہم کسی ایک فرد یا کسی ایک ادارے کو نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ بہت سے عوامل یا اسباب ہیں جن کی وجہ سے ایک ناگہانی حادثات کی بھرمار کا طوفان ہے جو برپاہ ہے سب سے بڑی وجہ یا بنیادی سبب جو کہ میری نظر میں ان تمام حادثات کا ہے وہ ہے ایک بہت بڑے پیمانے پر غیرمعیاری موٹرسائیکل انڈسٹری کا وجود میں آنا ہے جس کی وجہ سے انتہائی ناقص اور گھٹیا قسم کے مٹیریل سے تیار شدہ موٹرسائیکل مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں جن کی تیاری میں کسی بھی سیفٹی کے اصول کو مدنظر نہیں رکھا جارہا ۔آپ اس کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ موٹرسائیکل میں بریک ڈسک جو کہ انتہائی اہم حفاظتی پرزہ ہوتا ہے دوسرے تمام ممالک میں یہ بریک ڈسک موٹرسائیکل کا لازمی جزو یا حصہ ہوتا ہے لیکن پاکستان میں موجود تمام کمپنیاں جو موٹرسائیکل تیار کر رہی ہیں ان میں سے صرف ایک یا دو کمپنیاں ہی اپنی پروڈکٹس میں بریک ڈسک استعمال کر رہی ہیں باقی تمام کمپنیاں اس کے بغیر موٹرسائیکل بنا رہی ہیں، اسی طرح کریش بار جو کہ حادثات کی صورت میں موٹرسائیکل سوار کے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں وہ بھی اب ان غیر معروف قسم کی کمپنیوں کی وجہ سے ناپید ہو چکے ہیں۔خواتین کے دوپٹے یا برقع کے موٹرسائیکل کی چین میں پھنسنے کے واقعات بھی ان حادثات کا بہت بڑا سبب ہیں ان حادثات کی روک تھام کے لیے بہت سے ممالک میں جدید قسم کے چین کورز کا استعمال کیا جا رہا ہے- ہیلمٹ کی بہت ساری قسمیں مارکیٹ میں آگئی ہیں کہ اصل ہیلمیٹ جو کہ حادثات کی صورت میں آپ کے سر کو بچائے گا اس کا تصور ہی ناپید ہوگیا ہے گھٹیا اور ناقص کوالٹی کے ہیلمٹ ہر چوک ہر دکان پر بآسانی دستیاب ہیں اعلیٰ کوالٹی اور سیفٹی کے اصولوں کے مطابق تیار کردہ ہیلمٹ اول تو آسانی سے دستیاب نہیں ہیں اگر کہیں دستیاب ہوں بھی جائیں تو وہ اتنے مہنگے ہیں کہ ہر کوئی انہیں خرید نہیں سکتا دنیا کے بہت سے ممالک میں موٹرسائیکل بنانے والی کمپنیاں موٹرسائیکل خریدنے والے صارف کو موٹرسائیکل کے ساتھ اعلیٰ کوالٹی کے ہیلمٹ خریداری کے وقت مفت فراہم کرتی ہیں بلکہ کچھ ممالک میں تو ایک کے بجائے دو ہیلمٹ فراہم کیے جاتے ہیں جن کا مقصد انسانی جان کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، ہمارے ملک میں ون ویلنگ کا کھیل بھی ایک ایسا ناسور ہے جو کہ دن بڑھ رہا ہے، ملک کی اہم ترین شاہراٶں اور بڑی بڑی سڑکوں پر ون ویلنگ کے مقابلے دن دہاڑے ہو رہے ہوتے ہیں، متعلقہ ادارے جن کا کام ان کو روکنا ہے وہ بے فکری کی نیند سو رہے ہیں یا ان کی ملی بھگت سے یہ تمام کام برسوں سے جاری و ساری ہیں۔ ٹریفک قوانین کی لاعلمی بھی ایک بڑا سبب ہے، میں نے ایسے بہت سے بچوں کو بھی موٹرسائیکل چلاتے دیکھا ہے جن کو بنیادی ٹریفک لائٹس لال۔ سبز اور پیلی لائٹ کا کیا مطلب ہے ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا، بہت سے ممالک میں سیکنڈری اور پرائمری اسکول کی سطح پر بنیادی ٹریفک قوانین ان کے تعلیمی نصاب کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں لیکن ہمارے وطن عزیز میں اس معاملے پر بھی ہمیشہ سے لاپرواہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ والدین کی غفلت اور لاپرواہی بھی ایک اہم عنصر ہے جو ان حادثات میں اضافے کا بہت بڑا سبب ہے، بہت سے والدین کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بچہ موٹرسائیکل ڈرائیونگ نہیں جانتا اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں پھر بھی اس بچے کو نہ صرف ڈرائیونگ کی اجازت دیتے ہیں بلکہ معروف ترین شاہراٶں پر بھی جانے سے نہیں روکتے جس کے نتیجے میں خطرناک حادثات جنم لیتے ہیں۔ ناقص اور غیر معیاری موٹرسائیکل تیار کرنے والی کمپنیاں، محکمہ ٹریفک پولیس کی بد انتظامی،والدین کی غفلت ولاپرواہی یہ تمام اسباب اور اس طرح کے اور بہت سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل خاموشی سے آہستہ آہستہ تباہی و بربادی کے دہانے کی طرف بڑھ رہی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں نوجوان بچے ہی ان حادثات میں لقمہ اجل بن کر ابدی نیند سو جاتے ہیں جو ان حادثات میں بچ جاتے ہیں وہ بھی تمام عمر کسی نہ کسی جسمانی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہم سب خاموشی سے کسی نہ کسی طرح اس تمام گھناٶنے کھیل کا شکار ہو رہے ہیں، موٹرسائیکل جو کہ ساری دنیا میں نوجوانوں کی پسندیدہ اور سستی آمدورفت کی سواری ہے لیکن ہمارے ملک میں اسے موت کی سواری بنا دیا گیا ہے جو کہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں