میرے پاس تم ہو(کاشف خان)

رات کے 3 بجے تھے میں سمندر کے کنارے بیٹھا لہروں کی آواز سن رہا تھا۔ اکثر جب کبھی نیوز کوریج کے لئے رات میں کلفٹن کی طرف جانا ہوتا تو میں اسائنمنٹ مکمّل کر کے اور خبر بنا کر کچھ دیر کے لئے سمندر کے کنارے بیٹھ جاتا۔ آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا سمندر کی لہروں کی آوازاور اسکے ساتھ چلتی ہوئی ٹھنڈی ہوا نے میرے سائیڈ پر رکھی کتاب کے صفحات کو الٹنا پلٹنا شروع کردیا تو احساس ہوا کہ بہت عرصے سے کوئی کالم نہیں لکّھا۔ بس اگلے ہی لمحے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔

سعد نام ہے اسکا، میں اکثر اسکے ریسٹورنٹ پر کافی پینے جاتا ہوں اور وہ نجانے کیوں مجھسے اپنے دل کی باتیں کر کے سکون محسوس کرتا ہے، شاید یہ اسکااعتماد ہے جو وہ مجھ پر کرتا ہے۔ آج اسکا اداس چہرہ دیکھ کر میں بول پڑا کے تمہے کیا ہوا ہے چہرے پر اتنا سناٹا کیوں ہے۔ تو اسنے ایک آہ بھرتے ہوئے بتایا کہ بھائی آج کل کا پاپولر ڈرامہ سیریل “میرے پاس تم ہو” نے میرا سین آؤٹ کردیا۔ اسکی اگلی بات میں سمجھ گیا ۔ میں نے اس سے لڑکی کا نام پوچھلیا ۔ اسنے کہا مہوش اور میری بےساختہ ہنسی نکل گئی۔ میں نے سعد کے کندھے میں ہاتھ ڈالکر اپنے قریب کیا اور اس سے چہل قدمی کرتے ہوئے کہا کہ تیرا سین ڈرامہ نے نہیں بلکہ اس ڈرامہ کے ڈائلاگ نے خراب کیا ہے جس میں دانش، شہوار سے یہ کہتا ہے ۔

” اس 2 ٹکے کی لڑکی کے لئے آپ مجھے 50 ملین دے رہے تھے”۔

میں نے سعد سے کہا اصل میں ہم حقیقت پسند لوگ نہیں ۔ یہ سب محبّت وغیرہ نہیں یہ صرف غرض ہے جو ایک انسان دوسرے سے چاہتا ہے، خواہ وہ کسی کام کی ہو، پیسوں کی ترقی کی یا کسی خواھش کی۔

خلیل الرحمان قمر جو کسی تعریف کے محتاج نہیں کے قلم سے لکھی گئی تحریر اور اس ڈرامہ کے ڈائلاگ جسکا نام

” میرے پاس تم ہو ”

نہ صرف پاکستان اور انڈیا میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ چکا ہے بلکہ اس سیریل نے عورتوں کے دماغ کو بھی ٹھکانے لگا دیا ہے ۔ میر خلیل الرحمان قمر کی لکھی گئی اس تحریر کے ساتھ ساتھ اس سیریل میں انکے لکھے گئے ڈائلاگ نے لوگوں کا دل جیت لیا بلکہ اس ڈرامہ کا اوریجنل ساؤنڈ ٹریک کے بول بھی خلیل الرحمان قمر کی چنی گئی شاعری ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ 70 فیصد لوگ اس سیریل کو بےحیائی اور بے شرمی کا نام دے رہے ہیں اور اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ وہی لوگ بہت شوق سےاسے دیکھ بھی رہے ہیں۔

مجھے اس ڈرامہ کا اس وقت پتہ لگا جب میں نے آفس میں نہ صرف خواتین کی زبان سے ڈرامہ کے چرچے سنے بلکہ مرد حضرات کو بھی اس دوڑ میں پیچھے نہ پایا۔مجھے کچھ تشویش ہوئی Google پر سرچ کیا تو خلیل الرحمان قمر صاحب کا نام دیکھ کر ہی سمجھ گیا اس اسٹوری میں گہرائی ہوگی۔

عوام شاید اس ڈرامہ کو انجوائے کررہی ہو، مگر میں اس اسٹوری میں مثبت چیزوں کو پرکھ رہا ہوں۔

اچھے اور سچے انسان کے ساتھ اگر غلط ہورہا ہو تو یہ اس انسان کا اللّه کی طرف سے امتحان چل رہا ہوتا ہے جسکا پھل آخر میں میٹھا ہی ملتا ہے اور اگر کوئی برا انسّان جیت تا نظر آرہا ہو تو سمجھو آخر میں اسکی ہار ہے ۔اس سیریل کا آخر میں جو ہونا ہے وہ ہونا ہے، رائٹر نے اسکے END ہونے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والی اقساط ہی بتا سکتی ہیں۔

سعد کو میں نے سمجھانا شروع کیا کہ یہ محبّت لفظ ہمارے معاشرے میں صرف غرض لالچ خواھش اور پیسے کا نام رہ گیا ہے جس کسی کو یہ لالچ ہوگی وہی سامنے والے کو عزت دےگا اور تمہاری محبّت بھی مہوش کے ساتھ غرض یا کسی خواھش کی ہے۔اسلئے اب مہوش کا پیچھا چھوڑ،کیوں کہ تمہاری محبّت میں۔ خلوص نہیں صرف لالچ ہے اسلئے تم یہ حق بھی نہیں رکھتے کہ کوئی تمہیں محبّت دے۔

میں نے اسکو اپنے بارے میں بتانا شروع کیا کہ میں نے ہمیشہ انسانیت سے محبّت کی اور تمہیں حیرت ہوگی کہ مجھے تو بے انتہا لوگوں سے محبّت ہے جس میں زیادہ تر مرد حضرات ہیں۔
سعد حیرت سے مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے کہا میرے بھائی یہی تو سمجھانا چاہ رہا ہوں تمھے ۔ اصل محبّت وہی ہوتی ہے جو بنا غرض ہوتی ہے اور میں نے ہر اس انسان سے محبّت کی ہے جو اپنا آپ مارکر لوگوں کے کام آتے ہیں یا یوں سمجھلیں کہ مجھے بھی ہیروں کی پہچان ہے ۔ یہ نعمت اللّه نے مجھے عطا کی ہے کہ میں لوگوں کو پہچان جاتا ہوں کون مستقبل میں انسانیت کی خدمت کریگا کون ایماندار ہے، کس میں احساس اور خلوص ہے اور کس۔ میں کتنا ٹیلنٹ ہے اور ٹیلنٹڈ لوگوں سے میں محبّت کرتا ہوں چاہے وہ عورت ہو یا مرد۔ اگر میرا دل چاہتا ہے کے یہ شخص میرا دوست ہونا چاہئے تو اس بات کا قطعی یہ مطلب نا نکالو کہ اس سے کوئی غرض ہے ۔ محبّت کسی سے بھی ہوسکتی اگر محبّت اخلاص اور انسانیت کی ہے تو باکمال ہے اور اگر محبّت غرض اور لالچ ہے تو یہ شیطانی فطور ہے جسکا انجام ذلّت ہے ۔
ہمارے معاشرے میں اب خواتین بھی آپ کو ہر شعبہ میں کام کرتی نظر آئنگی۔ اگر ہم انکو یہ سمجھلیں کہ یہ بھی کسی کی بہن بیٹیاں ہیں اور کسی کی عزت تو معاشرے سے گند ختم ہوجائے ۔

کچھ خواتین مجبوری میں گھر سے کام کرنے نکلتی ہیں اور کچھ اپنی پڑھائی اور ٹیلنٹ کو معاشرے کے لوگوں کی خدمات کے لئے ۔
ہمیں ان خواتین کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ بلکہ معاشرے میں موجود درندہ سوچ رکھنے والے مردوں سے بھی محفوظ رکھنا ہے۔

سعد کو میں نے کہا اس بات کا فیصلہ اب ہمیں خود کرنا ہے کہ معاشرے میں ہمیں عزت کے ساتھ رہنا ہے یا زلّت کے ساتھ ۔

ہم 21 ویں صدی کے لوگ ہیں_ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے کسی کے پاس کسی کو کچھ دینے کو نہیں۔ اگر کوئی خلوص سے آپ کو عزت دے رہا ہے تو اسے عزت کے ساتھ رکھ لینا چاہئے اور اگر کوئی آپ کی دی ہوئی عزت قبول نہ کرے تو عزت دینے کے بجائے عزت جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔

موبائل ٹیکنالوجی کا دور دورا ہے کوئی کسی کے پاس نہیں، کوئی کسی کے ساتھ نہیں ۔

میں نے آسمان کی طرف نظریں اٹھا کر انگلی کا اشارہ کیا اور زبان سے یہ الفاظ ادا کئے کہ
میں شکر ادا کرتا ہوں یا اللّه تیرا کہ🤲🏼
میرے پاس تم ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں