میرے مصطفیٰ کی چاکری (ڈاکٹر وسیم عباس)

چاکری دے کر نہ لوں شانِ خداوندی کو میں
جب یہ چاکری ہو میرے مصطفیٰ کی چاکری
اس چاکری کو فقط چاکری نہ جائیے
یہ تو ہے خیرالواریٰ، نورِ خدا کی چاکری
جب یہ چاکری ہو میرے مصطفیٰ کی چاکری

کیا نبیوں نے تجسس جنکی چاکری کے لیے
موسیٰ ، عیسیٰ سب ہیں تابع جو خداوند کے لیے
وہ سبی دعا گو ہیں ربِ کائنات کے سامنے
کردیجئے عطا ہم سب کو یہی بس اک چاکری
جب یہ چاکری ہو میرے مصطفیٰ کی چاکری

غوث قطب ابدال قلندر سب انکے گن گاتے ہیں
حاجی خواجہ قطب فرید سب ان پے مِٹ جاتے ہیں
قربت راحت ادب حقیقت سب ہے انکے فیض سے
ذاکروں کی ذاکری ہے بس یہی اک چاکری
جب یہ چاکری ہو میرے مصطفیٰ کی چاکری

چاکری نے ان کو حبشی سے بلال بنا دیا
چاکری نے جن کو لباسِ رسول عطا کیا
جنکے نقشِ پا سے کائنات سراپا نور ہے
فکر مندوں کے لیے ہے یہ ہی فکرِ باطنی
جب یہ چاکری ہو میرے مصطفیٰ کی چاکری

در بدر کی چاکری ہے بس باعثِ فنا
اس در کی چاکری ہے ساری ہی بقاء بقاء
گر خدارہ ہو جائے ہم سب کی ایسی چاکری
وسیم کو بھی مل جائے جمالِ خدا کی چاکری
جب یہ چاکری ہو میرے مصطفیٰ کی چاکری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں