جنگ آزادی ہند میں مسلمانوں کا کردار

تحریر: میر افسرامان۔

اگر ہم آزادی ہند میں مسلمانوں کی قربانیوں کی بات کریں توتاریخ شاہد ہے کہ جنوبی ہند میں سولویں صدی میں مالابار میں صوبہ کیرالہ کے مسلمانوں نے پرتگیزی سامراج سے آزادی کے لیے مہم چلائی، مگر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پرتگیزی اور برطانوی نو آبادیاتی نظام سے آزادی کے لیے مسلمان حکمرانوں، نوابین، خصوصاً مدارس کے بوریہ نشینوں نے سرفراشی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے اپنا سب کچھ آزادی کے لیے قربان کر دیا۔

نواب حیدر علی اور شیر میسور ٹیپو سلطان نے انگریزسے سخت لڑائی لڑی۔ انہیں اپنوں کی غداری کی وجہ سے شکست ہوئی۔ مشرقی ہند میں سراج الدولہ نے آزادی کی جنگ چھیڑی مگر وہ بھی غداروں کی وجہ سے ناکام رہے۔ مجنون شاہ، اپنے بھائی موسیٰ شاہ، اپنے دو ہمنواہ چراغ علی، نور الحمد کے ساتھ مل کر انگریز کا سامنے آئے اور ناکوں چنے چھبوائے۔ 1803ء میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا۔ مسلمانوں سے کہا کہ سر پر کفن باندھ پر انگیریز کے خلاف اُٹھ کھڑیں ہوں۔ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید آزادی ہند کے اُس وقت کے سرحدی صوبہ، موجودہ خیبر پختونخواہ کے شہر پشاور میں جہاد شروع کیا۔ بلا آخر بالا کوٹ کے مقام پر دشمن کے ساتھ لڑے اور داد شجاعت دیتے ہوئے اپنے ساتھیوں سمیت شہادت قبول کی۔ ہند میں ان کی پہلی اسلامی تحریک، بعد میں سو سال تک جاری رہی۔ انگریز کے خلاف 1857ء کی جنگ آزادی ایک انقلابی تحریک تھی۔میرٹھ میں مسلمانوں سپاہیوں نے سور کے چربی والے کارتوس استعمال کرنے سے انکار کر انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دی۔ اس بغاوت کے روح رواں مولوی احمد اللہ شاہ تھے۔ ریکارڈ کے مطابق انگریزوں نے جن کو گرفتار کیا۔ ان کی کل تعداد 85 تھی۔ جن میں49 مسلمان اور36 ہندو تھے۔مغل بادشاہ اپنی کم سنی کے باوجود تحریک آزادی میں شریک ہوئے۔ میرٹھ کی بغاوت پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ مگر اعلیٰ ٹیکنیک، جدید اسلحہ اور موصلاتی نظام کی وجہ سے اسے کچل دیا گیا۔

اس کے بعد 20ستمبر کو سقوط دہلی ہوا۔ بیگم حضرت محل، مولوی احمد اللہ، شہزادی فیروز شاہ، بخت خان، نواب ولی داد مالا گڑھ ضلع بلند شہر،فیصل علی خان فرخ آباد، خان بہادر خان بریلی، نواب محمود علی نیا آباد، مولوی لیاقت علی الہ آباد، عظیم اللہ کانپور، مولانا پیر علی خان پٹنہ، فاضل محمود خان، عادل محمود خان بھوپال، سعادت علی خان مواتی اندور، مولانا علا الدین اور طہری باز خان حیدر آباد،نواب قادر علی خان ناگپورجیسے لیڈران کے علاوہ بے شمار جیالے مسلمان کو سزائے موت، سزائے کالا پانی، جلاوطنی کی زندگیاں گزارنی پڑھیں۔ جوش انتقام میں فرعون کی رعونت جنگیز کی بہیمانہ پن کے پیکر انگریز نے ہستے کھیلتے ہند کے شہروں کو آن واحد میں شہر خاموشاں میں تبدیل کر دیا۔ اس میں خصوصاً مسلمانوںکو نشانے پر رکھا کیونکہ وہ جنگ آزادی کا ہراول دستہ تھے۔ تاریخ نے دیکھا کہ یہ قربانیاں ضائع نہیں گئیں۔ ظالم انگریز کو بلا آخر1947ء میں ہندوستان چھوڑ کر انگلستان کی رہ لینی پڑی۔20 ستمبر1871ء کو عبداللہ پنجابی نے چیف جسٹس مسٹر نارمن کلکتہ کوٹ کو اپنا نشانہ بنایا۔ 8فروری 1872ء کو شیر علی آفریدی نے چوتھے وائسر لارڈ مایو کا شکار کیا۔نگریز نے ان دونوں کو پھانسی پرچڑھا دیا۔

1913ء میں شیخ الہند محمود الحسن کی ریشمی تحریک سے انگریزوں کے پسنے چھوٹ گئے۔ ان کے شاگرد عبید اللہ سندھی نے افغانستان میں عارضی آزادیِ ہند حکومت تشکیل کی۔

1913ء کے اوائل میں رنگون اور سنگاپور میں تعینات بلاچ رجمنٹ اور پانچویں لائٹ پیادہ دستہ، جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی نے بغاوت کر دی۔ اس پر انگریز نے دو افسروں کو پھانسی، 43 دیگر کو گولی ماردی۔ باقی فوجیوں کو کالا پانی منتقل کر دیا۔1917ء میں رولٹ ایکٹ پاس ہوا۔ اس ایکٹ کے تحت ہندوستان کو ظلم کا نشانہ بنانا تھا۔ اس پر احتجاج پر سیف الدین کچلو کو امرتسر میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔13اپریل1919ء کو سیف الدین کچلو کا پورٹریٹ صدارتی کرسی پر رکھ کر جیانوالہ باغ میں مظاہرہ کیا گیا۔ اس پر جنرل ڈائر نے فائرنگ کر کے 74 مسلمانوں کو شہید کر دیا۔23نومبر1919ء پہلی خلافت کانفرنس میں گاندھی اور علی براداران نے پورے ہندوستان کے دورے کیے۔5ستمبر1920ء کو تحریک عدم تعاون شروع ہوئی۔27دسمبر1921ء کو احمد آباد کے کانگرنس کے اجلاس میں انقلاب زندہ باد کے نعرے لگا کر ہلچل مچا دی گئی۔1921ء موپلا کے مسلمانوں نے صوبہ کیرالہ میں اعلان جنگ کر دیا۔ اس کے روح رواں شیر عبداللہ تھے۔ 22 جنوری1923 ء کو ان کو ان کے دو ساتھیوں لعل محمد اور نذر علی کو پھانسی دے دی گئی۔ اس پر 90 ہزار ہندوستانیوں کو جیل میں ڈال دیا جس میں نصف سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔شمال مغربی سرحدی صوبہ موجودہ خیبرپختونخواہ میں غفار خان نے سول نافرمانی شرع کی تو انہیں بھی گرفتار لر لیا گیا۔ اس گرفتاری پر پشاور کے قصہ خوانی بار میں احتجاج کیا گیا۔ اس پر23اپریل کو گولیاں چلا دی گئیں۔ غیر مسلح مظاہرین میں400 افراد شہید اور500 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ مولانا آزاد کی صدارت میں منعقد ایک اجلاس میں یوسف جعفر میر علی نے ’’انگریز بھارت چھوڑ دو‘‘ کا نعرہ پیش کیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس وقت 30 مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔اس پر بمبئی کے گوالیا ٹینک میدان میں کانگرنس کا اجلاس ہوا۔ اس پر انگریز میں خوف پیدا ہوا۔

نیتا جی سبھاش چندر بوس نے آزادی فوج بنائی۔نیتا جی کی فوج میں جنرل شاہ نوازخان، میجر جنرل عزیز احمد خان، کرنل احسان قادر، کرنل محبوب احمد، میجر عابد حسین زعفرانی اور عباس علی وغیرہ شامل تھے۔یہ’’ جے ہند‘‘ کے نعرے کے موجد عابد حسن زعفرانی کے قریبی ساتھی تھے۔ مسلمانوں نے نیتا جی کو پیش بہا فنڈ مہیا کئے۔ عبدالحسیب مارنائی نے9 جولائی1944ء میں رنگون سٹی ہال میں ایک کروڑ34 لاکھ کا چندہ دیا۔ ان کی بیگم نے اپنے سارے طلائی زیوارت پیش کئے۔ نیتا جی کے گلے میں پڑے ہار کو بیگم عبدالحسیب اور بیگم آدم جی دائود نے کئی لاکھ میں خریدا۔ احمد ابراھیم اینڈ بردارز نے 30لاکھ اور حاجی دائود اینڈ کمپنی نے 15لاکھ روے دیے ۔ نیتا جی بہادر شاہ ظفر کے مزار پر گئے تو حبیب سیٹھ نے 5لاکھ اور میمن برادری کی خواتین نے 6 کورڑ روپے عطیہ کئے۔ آزاد بلوچ کے 24 مسلم سپاہیوں حکومت کے خلاف مقدمے کا سامنا کیا۔ 154 مسلمانوں نے مختلف محازوں پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ فروری1946ء میںبحری فوج کی بغاوت نے برٹش انڈیا کے تابوت میںآخری کیل ٹھونکی ،جس کی تاہید میں ہندوستان کے گوشوںگو شوں میں جلوس نکالے گئے۔ اس دوران کئے لوگ مارے گئے جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔

اگر ہندوستان کے کرتا دھرتا اور خاص کر متعصب نریدرا مودی وزیر اعظم ہندوستان غیرجانبدارنہ طور پر آزادی ہند کی تحریک میں مسلمانوں کے کردار پر نظر ڈالنے کی جسارت کریں تو یہ بار عیاں ہو کر سامنے آئے گی کہ مسلمانوں نے آزادی ہند میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ مسلمانوں کا احسان مند ہونے کے بجائے ہٹلر صفت متعصب مودی نے آزادی کے متوالے مسلمانوں کا بھارت میں جینا حرام کر دیا ہے۔ تیسری بار وزیر اعظم بننے کے شوق میں ہندو اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر ووٹ حاصل کرنے کی پالیسی کی وجہ سے ہندوستان کی قومی سلامتی کو دائو پر لگا رہا ہے۔ مگر تاریخ بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو نوٹ کر رہی ہے۔ ایسا ہی فلسطین میں اسراعیل کرتا رہا ہے۔ وہاں اللہ نے اسراعیل کے خلاف حماس کو کھڑا کر دیا۔ اسراعیل نے غزہ کی ساری رہائشی عمارتوں کو ملیا میٹ کر دیا،کوئی عمارت نہیں چھوڑی۔40 ہزار نہتے لوگوں جن میں کثیر تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے شہید کر دیا۔ ایک لاکھ سے زیادہ کو زخمی کر دیا۔ مگر 5 ؍اکتوبر کو اسراعیل کے ڈوم سیکورٹی نظام کو روند تے ہوئے کے طوفان اقصیٰ میں حماس نے اسراعیل کے 1200 لوگوںکو قتل اور 258 کو قید کر لیا تھا۔ اتنی تباہی پھیلانے کے باوجود ابھی تک اسراعیل اپنے قیدیوں کو رہا نہیں کروا سکا۔ پورا مغرب اور امریکا افغانستان کی جنگ کی طرح اسراعیل کے ساتھ دے رہا ہے۔ مگر آزاد دنیا کے عوام فلسطین کی حمایت میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اسراعیل پر پابندی اور بین القوامی عدالت انصاف نے اسراعیل کو نسل کشی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ہٹلر صفت متعصب مودی کے بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ مظالم پرلگتا ہے کہ جلد ہی بھارت میں بھی کوئی حماس طرز کی تحریک اُٹھے گی اور ہٹلر صفت متعصب مودی اور اس کے سارے نظام کو تیس نیس کر دی گی۔مسلمانوں نے جس طرح آزادی ہند کے لیے انگریز سامراج کے خلاف اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور انگریز کو ہند چھوڑنے پر مجبور کیا۔ بھارت سے بھی اپنے حقوق یا پھر ایک اور’’ پاکستان ‘‘بنانے کے لیے کسی وقت بھی تحریک شروع کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں